روشنی حرا سے (134)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی

0
180

مناسک حج دیگر مصروفیات اور خم میں غدیر میں قیام

گزشتہ قسط میں ہم حضو ر (ص) کے آخری حج کے با رے میں با تیں کر رہے تھے ۔اور یہاں تک پہنچے تھے کہ آپ (ص) نے مقام ِ منٰی میں بھی خطبہ دیا ۔آئیے اب آگے بڑھتے ہیں۔سب اس پر متفق ہیں کہ حضور (ص) منٰی میں ایام تشریق کے تینوں دن قیام پزیر رہے ۔حا لانکہ یہ آیت نازل ہو چکی تھی کہ دو دن رہنا ضروری ہے البتہ جو تین دن رہنا چا ہیں وہ تین دن رہ سکتے ہیں ۔لہذا حضور (ص) وہاں تین یو م قیام فر ما رہے اور منگل کے دن وہاں سے وادی ِ محصب کی طرف روانہ ہو ئے ۔اس پر محد ثین میں اختلاف ہے کہ وہ وہاں قصدا ً قیام فر ما ہو ئے یا ضرور ت کے تحت تشریف فر ما ہو ئے۔ مجھے اس خیال میں زیا دہ وزن دکھا ئی دیتا ہے کہ حضور (ص) وہاں ضرو رت کے تحت ہی تشریف فر ما ہو ئے۔ کیو نکہ حتمی طو ر سے روانہ ہو نے سے پہلے مدینہ جا نے والوں کو یکجا کر نا ضروری تھاکچھ دو سرے امو ر بھی تھے جو انجا م دینے تھے ۔جیسا کہ ام المو نین حضرت عا ئشہ (رض) کا عمرہ ۔ہم پچھلے صفحات میں پڑھ چکے ہیں کہ وہ مکہ آکر حا لت ِ ایام میں تھیں جب حج پر تشریف لے گئیں۔ لہذا انہیں حضور (ص) نے عمرہ کے لیئے ان کے بھا ئی عبد الر حمٰن کے ہمرا ہ تنعیم روانہ فر ما یا جسے کہ آجکل چھو ٹا عمرہ کہتے ہیں ۔ جبکہ مدینہ منورہ کے لیئے میقات کی حد ذوالحلیفہ،اہل شا م کے لیئے حجفہ اور عراق کے لیئے ذات ِعرق اور یمن کے لیئے یلملم کو میقا ت مقررفرما یا گیاتھا ۔لیکن بعض احا دیث میں ذکر ہے کہ تنعیم سے احرام با ندھنا صرف حضرت عائشہ (رض) کی وجہ سے جا ئز ہوا کیو نکہ وہ کا فی نحیف ہو گئیں تھیں۔ بڑا عمرہ جو آجکل کہلا تا ہے وہ جدہ کی طرف قدرے مسا فت پر تھا ۔ بہر حا ل وہ عمرہ سے فا رغ ہو کر حضو ر (ص) سے وہا ں آکر مل گئیں ۔مگر حضرت انس (رض) سے جو حدیث روایت ہے اس میں انہو ں نے فر ما یا کہ حضور (ص) وہاں جو قیام پزیر ہو ئے اور اس کا اتبا ع ان کے بعد خلفا ءبھی کر تے رہے اوروہ قصد اً تھا۔جیسا کہ حضرت امام بخا ری (رح) نے بیان کیا ہے کہ مجھ سے حضرت سفیا ن سو ری (رح) نے کہا کہ انہو ں نے بحوالہ عبد العزیز بن رفیع بیان کیا کہ میں نے حضرت انس (رض) بن ما لک سے پو چھا کہ کوئی ایسی با ت بتا ئیے جو کہ آپ بتا تے ہو ئے بھو ل گئے ہو ں (حضور کے حج کے بارے میں ) پھر میں نے پو چھاآپ نے یو م ِ تر ویہ میں نما ز ظہر کہا ں پڑھی تو انہو ں نے فر ما یا منٰی میں، پھر میں نے پو چھا یوم ِ نفر کو عصر کی نما ز کہاں ادا فر ما ئی؟ انہو ں نے فرما یا کشا دہ نا لے (محصب) میں جس طر ح تمہا رے امرا ءکر تے ہیں ۔ اسی سلسلہ کی ایک اور حدیث حضرت قتا دہ سے مر وی ہے۔کہ حضرت عمرو (رض) بن حا رث نے بتا یا کہ عصر اور عشا کی نمازیں بھی وہیں ادا کیں،پھر تھو ڑا آرام فر ما یا اس کے بعد حضور (ص) طواف کے لیئے تشریف لے گئے۔اس سلسلہ میں حضرت مسلم (رض) نے تحریر کیاکہ زہری نے ان سے بیا ن کیا کہ علی بن الحسین (ع) سے مر وی ہے کہ زید (رض) بن اسامہ نے بتا یا کہ یہ روایت ان تک پہنچی ہے کہ انہوں نے حضور (ص) سے پو چھا کہ کل آپ کہاں اترینگے تو آپ نے فر ما یا کہ کیا لوگوں نے ہمارے لیئے کو ئی گھر چھو ڑا ہے ؟پھر فر ما یا کل ہم انشا اللہ بنی کنا نہ کی بلند جگہ پر اترینگے یعنی محصب میں اتر ینگے۔جہاں قریش نے کفر پر قا ئم رہنے کی قسم کھا ئی تھی۔اور جن کو اللہ نے ذلیل و خوار کیا اور اپنے نبی (ص)اور دین کو سر خرو کیا ۔وہ واقعہ جس کی طر ف حضو ر (ص) نے اشا رہ فر ما یا وہ اس طر ح تھا کہ بنی کنا نہ نے قریش کو قسم دی کہ وہ نہ تو بنی ہا شم سے نکا ح کر یں۔ نہ خرید و فروخت کریں اور نہ انہیں پنا ہ دیں تا آنکہ رسول (ص) اللہ کو وہ ان کے سپرد نہ کر دیں۔پھر آپ نے یہ بھی فر ما یا کہ ”نہ مسلمان کا فر کا وارث ہو گا نہ کا فر مسلما ن کا “ لیکن یہاں ایک اور حدیث بیا ن ہو ئی ہے جو کہ حضرت عا ئشہ (رض) سے مر وی ہے کہ جس کو ابو داود نے اما م احمد (رح)حنبل سے روایت کیا ہے اور انہوں نے اسے متعدد حوالوں سے بیا ن کیا ہے کہ حضرت عا ئشہ (رض) نے فر ما یا کہ یہا ں جو چا ہے قیام کر ے اور جو نہ چا ہے وہ قیا م نہ کر ے۔ اس لیئے کہ یہاں حضو ر (ص) نے صرف کشا دگی کی وجہ سے قیا م فرما یا تھا اور آجکل حجا ج وہاں عمو ما ًقیام نہیں کر تے ہیں ۔ واللہ عالم۔

غدیر خم میں قیا م:

اس کے بعد آپ نے روانہ ہو نے کے بعد جو مشہو ر قیا م کیا وہ اٹھا رہ ذالحجہ کو تھا جس میں آپ نے حضرت علی کی فضیلت اور برا ءت بیا ن فر ما ئی ۔ حضرت ابن ِ اسحا ق بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت علی کو حضور کے حج پر تشریف لے جا نے کی اطلا ع ملی تو وہ بھی ان کی معیت میں حج کر نے کے لیئے بہ سرعت روانہ ہو گئے اور اپنا نا ئب ایک شخص کو مقر رکر دیا کہ وہ لشکر کی دیکھ بھا ل کرے ۔اس نے تما م لشکر کو کیتا ن کے تھا ن جو بیت الما ل میںتھے،تقسیم کر دیئے تا کہ اس کا لبا س بنا کر وہ لو گ پہن لیں۔پس جب آپ کی فو ج قریب آئی تو کیا دیکھتے ہیں کہ ہر آدمی کیتا ن کا حلہ پہنے ہو ئے ہے۔آپ نے اس پر باز پرس کی کہ تیرا برُا ہویہ کیا ہے؟ اس نے بتا یا کہ میں نے فو ج کو حلے پہنا دیئے ہیں تاکہ جب وہ لو گوں میں آئیں تو خو بصورت معلوم ہو ں ۔علی نے حکم دیا کہ رسول اللہ کے سامنے پہنچنے سے پہلے اسے اتاردو،فو ج نے اس سلو ک پر شکا یت کی۔ تو رسول اللہ نے ہمیں غدیر خم پر ایک شا میا نے کے نیچے کھڑے ہو کر خطبہ دیا۔ اور ہم نے حضو ر کو یہ فرما تے سنا کہ ” اے لو گو! علی کی شکا یت نہ کرو،خدا کی قسم وہ اللہ کی ذات کے بارے میں یا راہ ِ خدا میں سخت ہیں “۔ ( اس سے پہلے ہم یمن کے ہی سلسلہ میں صدقہ کے اونٹوں کے استما ل کے با رے میں حضرت علی کے منع کر نے پر فو ج میں نا راضگی کا ذکرکر چکے ہیں) ۔یہاں ہم ایک اور حدیث بیا ن کر نا چا ہیںگے جو کہ حضرت زید بن ارقم سے مروی ہے اور نسا ئی نے بہت سے حوالوں سے بیان کیا ہے کہ حضو ر نے فر ما یا کہ ”یوں معلوم ہوتا ہے کہ مجھے مطلع کیا گیا اور میں نے جواب دیا کہ میں تم میں دو گرانقدر چیزیں کتاب اللہ اور اپنی اولاد ( اہل ِ بیت ) چھو ڑے جا رہا ہو ں تا کہ دیکھوں کے تم ان کے سا تھ کیسی میری نیا بت کرتے ہو؟ یہ دو نوں چیزیں ایک دو سرے سے الگ نہیں ہونگی حتٰی کہ وہ حو ض پر آجا ئیں گے ۔پھر فر ما یا اللہ میرا مو لیٰ ہے اور میں ہر مو من کا ولی ہو ں پھر آپ نے حضرت علی کا ہا تھ پکڑ کر فر ما یا کہ جسے میں محبو ب ہو ںیہ اس کا ولی ہے ۔اے اللہ جو اس سے محبت کرے اس سے محبت کر اور جو اس سے عداوت رکھے اس سے عداوت رکھ ۔اس وقت جو لوگ سا ئبا ن کے تلے تھے سب نے رسول اللہ کے یہ الفاظ سنے انہوں مزید لکھا ہے کہ ہما رے شیخ ابو عبد اللہ ذہبی بیان کر تے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے ۔ اس حدیث کو ابن ِ ما جہ ، عبد الرزاقابن ِ جریر ۔امام احمد نے بھی تحریر کیا ہے۔ اس حدیث کا حوالہ حضرت علی نے بھی رحبہ ( صحن ِ مسجد کوفہ)میں خطبہ دیتے ہوئے دیا اور لو گوں سے تصدیق کرنے کے لیئے فر ما یا تو وہاں پر مو جو د آٹھ صحا بہ کرا م نے جو کہ حج کے مو قعہ پر حضور کے ہمرا ہ تھے کھڑے ہو کر گوا ہی دی ۔اس کے علا وہ بھی رحبہ میں اس گواہی کے سلسلہ میں احا دیث مو جو د ہیں ایک میں تعداد با رہ ہے ۔لہذا یہ حدیث تو متفقہ علیہ ہے مگر یہا ں وہ ذکر نہیں ملتا ،جس کا ایک فر قہ ذکرکر تا ہے کہ حضور نے انہیں خلیفہ نا مزد کیا ۔ہا ں اس سے پہلے کی ایک حدیث مو جود ہے جس میں حضورنے فرمایا کہ ہم نبیوں کی ورا ثت ما ل میں نہیں بلکہ علم(رو حا نیت )میں چلتی ہے۔ لہذا وہ حضرت علی کو منتقل ہو ئی اور کو ئی فر قہ ایسا نہیں جو علی کو ولی اللہ نہ ما نتا ہو ۔اور اس حدیث پر یقین نہ رکھتا ہو کہ علی مو لیٰ فھوامن کنت مو لیٰ۔ حضرت بیہقی نے یہاں ایک روایت اوربیا ن کی ہے جو حضرت ثعلبہ بن یزید سے ہے کہ عبد اللہ بن سبیع نے کہا کہ جب علی زند گی اور مو ت کی کشمکش میں مبتلا تھے ،تو انہو ں نے کہا کہ آپ یہ بتا ئیے کس نے یہ کا م کیا ہے اور اجا زت دیجئے، کہ میں اس کے پورے خا ندان کو قتل کر دوں۔ مگر انہو ں نے فر ما یا کہ تجھے خدا کی قسم ہے تو کسی بے گنا ہ کو میرے لیئے قتل کر ے ۔پھر اس نے پو چھا کہ آپ اپنے بعد خلیفہ کس کو مقرر کر کے جا رہے ہیں ،تو فر ما یا کہ میں تم کو اسی طر ح چھو ڑونگا، جس طر ح رسول اللہ نے چھو ڑا تھا۔اس جو اب سے ان تما م با توں کی تر دید ہو جا تی ہے جس میں ان کے غدیر خم میں خلیفہ نا مزد کر نے کی با ت کی جاتی ہے ۔البتہ یہ قرین ِ قیا س ہے کہ روحا نیت میںورا ثت کی با ت حضور نے دہرا ئی ہو جس کا مفہو م غلط سمجھا ، یا سمجھا یا گیا ہو۔واللہ عالم۔اس کی مزید تر دید حضرت عمر کے انتقال کے وقت کے اس جواب سے ثابت ہو تی ہے کہ انہو ں نے جواب دیا کہ میں اگر خلیفہ نا مزد کروں، تو اپنے سے بہتر کی پیروی کرونگا اور نہ نا مزد کروں تو اس سے بھی بہتر کی پیروی کرونگا ۔ واضح رہے کہ حضرت ابوبکر نے حضرت عمر کواپنا جانشین مقرر کیا تھا اور ان سے بہتر تھے حضو ر جنہو ںنے نہیں کیا ۔ واللہ عالم۔

SHARE

LEAVE A REPLY