ہر لفظ اپنے معنی اور اثر رکھتا ہے اسی لیے تمام والدین کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ بچوں کو اچھے اوربامعنی نام دیں اوراکثر لوگ اپنے والدین کے دیے ہوئے ناموں پر پورے اترے؟ انہیں میں کنیڈا کے وزیر ِ اعظم عزت مآب مسٹر جسٹن ٹریڈو بھی ہیں۔جوکہ دنیا کے نوعمر ترین اور مقبول ترین وزرائے عظام میں شمار ہوتے ہیں ۔ لغت میں“ جسٹن “ کے معنی ہیں۔ منصف یعنی “ ا نصاف پسند کے“ اور انہیں بلا خوف تردید اسم بہ مسٰمی کہاجاسکتا ہے ۔ جو انصاف پسند ہوتا ہے۔ وہ رحمد ل خود بخود ہوتا ہے۔اور وہ ہر ظلم پر چیخ اٹھتا ہے۔ اگر وہ ساتھ ہی حکمراں بھی ہو تو انصاف مہیا کرنے کے لیے مداوا بھی کرتا ہے۔ مگر آج کے دور میں یہ عنصر حکمرانوں میں مفقود ہوتا جا رہاہے۔ کیونکہ انسانیت ،اخلاق اور سماجی قدریں ختم ہوتی جارہی ہیں ۔ ایسے میں تین غیر ملکیوں کی نماز جنازہ پر جو کہ کنیڈاکے صوبہ کیوبک کی ایک مسجد میں نماز پڑھتے ہو ئے شہید ہوگئے تھے وہاں ان کی موجودگی اور اس موقعہ پر آنسو نکل آنا ۔ ان کے ا سم بہ مسٰمی ہونے کا ثبوت ہے۔ ہے کوئی جو میرے اس دعوے تردید کر سکے؟

یہ میری سرشت ہے کہ میں کبھی کسی کی طرف داری نہیں کرتا۔ جو سچ ہوتا ہے وہ لکھتا ہوں اور جو سچ سمجھتا ہوں وہ کہتا ہوں ؟ دنیا میں ہزاروں با دشاہ گزرے ہیں ان کے نام تاریخ میں گم ہو گئے۔ا ن میں سے صرف چند ہی ہیں جو صدیوں سے تاریخ میں جگمگا رہے ہیں ۔ جنکا طرہ امتیاز انصاف تھا۔ اور قیامت تک وہ اسی طرح جگماتے رہیں گے۔چونکہ کنیڈا میں کسی کے مذہب کو زیر بحث لانا منع ہے۔ لہذا میں الفاظ مقامی قوانین کے مطابق بہت سوچ اور سمجھ کر استعمال کررہاہوں۔ کیونکہ ہمیں یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ مقامی قوانین احترام کریں ۔ اور جہاں رہیں اس ملک کے قوانین کی پابندی کریں ؟ جبکہ یہ الیکشن کے قوانیں میں تو پاکستان میں بھی منع ہے کہ کوئی مذہب، ذات اور برادری کے نام پر ووٹ نہ مانگے ؟مگر یہ اوربات ہے کہ وہاں زیادہ تر لوگ منتخب ہو کر اسی بنا پر آتے ہیں اور اسی بنا پر انہیں ووٹ بھی ملتے ہیں ؟ مگر کوئی اسے اس بنا پر چیلینج کرے تو کاروائی اسوقت تک اکثر پوری نہیں ہوتی کہ جب تک وہ اپنا دور پورا نہ کرلیں ۔ اسلام سے پہلے جو کچھ بادشاہ عادل گزرے ہیں ۔ ان میں ایران کا ایک بادشاہ نوشیرواں عادل بہت مشہور ہے؟ اوراسلام کے ابتدائی دور میں حبشہ کا شاہ بہت بڑا عادل تھا جو عرف ِ عام میں اپنے لقب “ نجاشی “مشہور ہے۔ جس نے مسلمانوں کو اپنے یہاں پناہ دی ۔ اسی جیسے لوگوں کے بارے میں قرآن نے کہا ہے کہ“ عیسائی اور انکے راہب رحمدل ہوتے ہیں “ یہ قر آن کی حقانیت ہے۔ جو آج بھی ظاہر ہورہی ہے کہ مسلمان ملک تو تاریکین وطن کو شہریت دینے کو تیار نہیں ہیں چاہیں وہ ساری زندگی ان کی خدمت میں گزاردیں؟ کیونکہ انہیں اس عمل سے اپنے تخت اور تاج جانے کا خطرہ رہتاہے۔ حالانکہ پاکستان بنا ہی اسلام کے نام پر تھا! لیکن عدو جب مشرقی پنجاب کو آگ اور خون میں نہلانے لگا تو پاکستان کو تارکین وطن کو لینا اس کی مجبوری بن گیا اور عوام نے دل کی گہرائیوں سے ان کا خیر مقدم بھی کیا۔ لیکن خواص اس وقت بھی مہاجروں کو اپنے علاقہ میں جگہ دینے کو تیار نہیں تھے لہذا حکومت نے انہیں زبردستی ٹرینوں میں سوار کرکے جنوبی پنجاب اور سندھ میں بھیج دیا کیونکہ کہ انہیں خطرہ تھا کہ یہ رہے تو ان کے ان کے محفوظ آبائی حلقہِ انتخابات ( کانسٹی ٹیونسیز) غیر محفوظ ہوجائیں گے۔

اگر دنیا میں آج بھی مسلمانوں کو جگہ مل رہی ہے تو وہ ملک وہی ہیں، جو خود کو مسلمان نہیں کہلاتے ہیں ؟ جبکہ مسلمان کہلانے والے حکمرانوں کی مقبولیت کا گراف اورانداز یہ ہے چاہے وہ نئے حکمراں ہوں یاپرانے، محلوں میں مقید رہتے ہیں جبکہ سادگی اور عدل اسلام کا ہمیشہ سے طرہ امتیازہے ۔ کتنے ہی لوگ مر جائیں حکمراں ان کے جنازوں میں کبھی شریک نہیں ہوتے؟ جبکہ سڑکوں سے گزرتے ہیں تو بیمار اسپتال کے دروازوں پر تڑپ کر مر جاتے ہیں۔ کہ وہاں کوئی وزیر یا مشیر آنے کو ہے کسی دوست کی عیادت کے لیے یا کسی نئے وارڈ کے افتتاح کے لیے ۔؟

میں بھی عجیب آدمی ہوں ان میں وہ نسبت تلاش کر رہا ہوں جوکہ انہیں حضور (ص) سے ہے اور انہیں ا س کے تحت کیسا ہونا چاہیئے؟ کیونکہ ان کے فرمان میں تو یہ لکھا ہوا ہےکہ “ کسی کو کسی پر فضیلت حاصل نہیں ہے سوائے تقویٰ کے “ ۔وہیں یہ بھی لکھا ہوا ہے۔ “ جس کے دل میں ذرہ برابر تکبر ہوگا وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھے گا “ جبکہ مسلم ملکوں کے حکمراں اس کا الٹ ہیں ۔ پھر بھی ان ملکوں کے لوگ یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتے کہ ہم ساری دنیا سے بہتر ہیں ۔ جوکہ “ رب نے ان کی تعریف میں فرمایا ہے جو اس سے کیئے ہوئے اپنے اس عہد پر قائم ہیں “ وہ عہد جو کلمہ طیبہ ِلاالہ اللہ محمد (ص) الررسول اللہ پر مشتمل ہے؟ جن لفظوں کو صدق دل سے دہرانے کےبعد وہ مسلم امہ میں شامل ہوکر حاصل کرتے ہیں اور جوبلا امتیاز سب کو خود بخود حاصل ہوجاتے ہیں؟ اس میں پہلا لفظ “ لا “ ہے جوکہ عربی میں “ نفی“ کے معنوں میں آتا ہے۔ اسے ابتدا ءمیں لانے کا مطلب یہ ہے کہ ایمان لانے والا سوائے “اللہ “ کے سب معبودوں کی نفی کر رہا ہے۔ اور لا تعداد “الہ“ کے جمگھٹ کو چھوڑ کر صرف اور صرف ایک “الہ“ کی اطاعت اختیار کر رہا ہے؟چونکہ تمام دنیا میں جو مذاہب رائج ہیں ۔ وہاں عبادت کے معنی صرف “حقوق اللہ“ ادا کرنا ہے چاہے وہ اسے کسی بھی نام سے پکار تے ہوں؟ ان میں طریقہ عبادت بھی ہر مذہب کا اپنا ہے۔جبکہ اسلام صرف مذہب ہی نہیں بلکہ ایک نظام زندگی ہے۔ اس میں اللہ نے سب کے حقوق اور ادائیگی کے طریقے مقرر فرما دیئے ہیں لہذا وہ بھی عبادت میں شامل ہیں؟۔اور ساتھ میں یہ بھی فرمادیا ہے کہ اگر کوئی غلطی کر بیٹھے تو “میں “(اللہ سبحانہ تعالیٰ) اپنے حقوق تو معاف کردونگا مگر کسی انسان کے حقوق مارے ہیں تو وہی معاف کریگا“ دوسرے اس نے اپنی اطاعت کو نبی (ص) کی اطاعت سے قرآن میں مشروط کردیا ہے ۔ لہذا ن (ص) کی اطاعت بھی لازمی ہے جس کا ذخیرہ ہمارے پاس احادیث کی شکل میں موجود ہے۔ اس میں “ حکمراں عادل “ کا مقام یہ ہے کہ قیامت کے دن وہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے عرش کے زیر سایہ ہوگا۔ سوچیئےجو کلمہ پڑھ کر اس کے بعد کسی قسم کی ہیر پھیر کرے وہ کس طرح خود کو اوروں سے اچھا کہہ سکے گا یا کہہ سکتا ہے؟ جوب آپ پر چھوڑ تا ہو ں کہ آپ خود فیصلہ کر لیں؟ ہاں! ان کے پاس کلمہ پڑھ لینے کی وجہ سے یہ گنجائش موجود ہے کہ وہ خود کو توبہ کرکے اچھا بنا لیں پھر وہ اپنے کردار کی بنا پر اللہ کی نظر میں بھی اور بندوں کی نظر میں بھی اچھے ہو جائیں ۔ کیونکہ حضور (ص) کا ارشادِ گرامی ہے کہ “ مومن وہ ہے جسے دیکھ کراللہ یاد آئے۔اس لیے کہ مومن کی تعریف ہی یہ ہے کسی کو اسکے ہاتھ سے کوئی نقصان یا تکلیف نہ پہونچے؟

چونکہ میں کنیڈا میں رہتے ہوئے بات کر رہا ہوں؟ اور مجھ سے کہا گیا کہ تمہارے لیے تمہارے نبی (ص) کا اسوہ حسنہ کافی ہے ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب کہیں الجھ جاؤ توا للہ رسول (ص) سے رجوع کرو ؟ یعنی ہر مسئلہ کا حل قر آن اور سنت میں ڈھونڈو؟تو غلط فہمی پیدا ہوسکتی ہے کہ اللہ کے قانون پر ان ملکوں رہتے ہوئے مسلمان دونوں کی وفا داری کیسے نبھا ئیں گے؟ چونکہ ا سلام نے زندگی کا کوئی شعبہ بغیر ہدایت کے کہیں نہیں چھوڑا ہے ۔ یہاں بھی ہمیں یہ حکم دیکر معاملہ صاف کر دیا ہے ۔ کہ “جہاں جس کا حکم چلتا ہو اس کا بھی اتباع کرو “ اس کا حل بھی اور مثال لیں بھی اللہ اور رسو ل (ص) کے ا رشادات ِ عالیہ میں موجود ہیں ۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے تو قر آن میں یہ فرما کر بہت سی رعایتیں عطا فرما دیں ہیں کہ “ ہم کسی کو اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے “ان کی تفصیلات طویل ہیں وہ ا ن ا وراق میں نہیں سماسکتیں۔ صرف مثال کے طور پر ایک پیش کر دیتا ہوں ،نماز وہ رکن ہے جو کسی حالت میں معاف نہیں ہے جس کے بارے میں حضور (ص) کا ارشاد گرامی ہے کہ “ مسلم اور غیر مسلم میں فرق ہی یہ ہے کہ مسلمان نماز پڑھتا ہے غیر مسلم نمازنہیں پڑھتا “ لیکن اس کی ادائیگی میں اگرکوئی مجبوری ہے تو رعایتیں عطا ہوئی ہیں۔ مثلاً کھڑے ہوکر نہیں پڑھ سکتے ہیں، تو بیٹھ کر پڑھ لیں،اگر بیٹھ کر نہیں پڑھ سکتے ہیں تو لیٹ کر پڑھ لیں ، اگر یہ بھی نہ کر سکیں تو اشاروں سے پڑھ لیں؟ یہاں بھی کوئی جبر نہیں ہے اس کا فیصلہ اس نے آپ پرچھوڑ دیا ہے کہ آپکی پوزیشن کیا ہے ؟ وہی کیجئے ۔مگر یہ سوچ کر کیجئے کہ وہ اس پر مطلع ہے جو آپ کی حقیقی پوزیشن ہے۔ اگر ہیر پھیر کی اور اپنے اختیارات کا غلط ستعمال کیا تو پھر آپکے لیے بجا ئے کسی انعام کہ صفر ہے؟ حضور (ص) کے یہاں بھی یہ مثال موجود ہے کہ جب مسلمانوں کی حکومت نہیں تھی تو کوئی مدینہ منورہ کا باشندہ نہ ہو تے ہوئے بھی بیعت کرنے آتا تو اس سے “ حتیٰ لمقدور“ عمل کر نے پر بیعت لیتے تھے۔ یعنی “ جن حکامات پر عمل کرسکتے ہو ان پر ضرور عمل کرو جہاں مجبوری ہے وہاں رخصت ہے “ یہ فیصلہ بھی کوئی اور نہیں تم اپنے حالات جانتے ہو خود ہی کروگے۔ یہ ہی وجہ تھی کہ لوگ حبشہ چلے گئے ایک دو دن نہیں وہاں سالوں رہے مگر انکی کی نہ ہی حکومت کے ساتھ نہ ہی باشندوں کے ساتھ کہیں ٹکراؤ کی کوئی صورت پیدا ہو ئی؟ کیوں اس لیے کہ “ان کا کردار اسلامی تھا“ پھر اسلام نے ہمیں یہ بھی سکھایا ہے کہ “ ا حسان کا بدلہ احسان ہے “۔ جہاں ہمیں پناہ ملی ؟ جنہوں نے ہمیں مواقع فراہم کیے ہمارے ساتھ اپنو ں جیسا سلوک کیا وہ بطور محسن ہما رے شکریہ کے کیا مستحق نہیں ہیں؟ اس کلیہ سے روگر دانی کرنا کیا ظلم نہیں ہے۔ میں اس کا جواب بھی آپ پر چھوڑتا ہوں ؟ میرے خیال میں ا س ملک کا شہری ہونے کے بعد ہمیں بھی دوسرے شہریوں سے زیادہ اس ملک کی قدر کر نا چاہیئے۔ جہاں کے ہم شہری بنے ہیں ۔ اگر ایسے کسی مشکوک گروہ کا پتہ چلے جو ملک کا دشمن ہے تو انہیں فو راً حکام کے علم میں لانا چاہیے؟ کیونکہ ایک چھوٹا ساگروہ ہمیں اپنے غلط کردار کی بنا پر دنیا بھر میں بد نام کر رہا ہے۔ جبکہ کچھ لوگ ا سے اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرہے ہیں ۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ سب کے شر سے ہمیں محفوظ رکھے( آمین)

SHARE

LEAVE A REPLY