کراچی میں سستے اور غیر معیاری ہیلمٹ کا استعمال

0
131

ہیلمٹ وہی کام کا، جو موٹر سائیکل سواروں کو سر کی جان لیوا چوٹ سے بچا سکے، لیکن کراچی میں موٹر سائیکل چلانے والوں کی اکثریت، سستے اور اتنے غیر معیاری ہیلمٹ استعمال کررہی ہے، جو حادثات تو دُور، معمولی سی ضرب لگنے پر بھی ٹوٹ جاتے ہیں۔

موٹر سائیکل سواری ہی ایسی ہے کہ غلطی کسی کی بھی ہو، بھگتان موٹر سائیکل سواروں کو ہی بھگتنا پڑتا ہے، اسی لئے تو سیانےکہتے ہیں کہ چالان سے بچنے کیلئے سستے اور کام چلاؤ ہیلمٹ مت پہنیں،بلکہ موت سے بچنے کیلئے تھوڑا مہنگا مگر مضبوط اور معیاری ہیلمٹ استعمال کیجئے کیونکہ سستا سودا وہی اچھا، جو زندگی کو مہنگا نہ پڑے۔

کراچی میں تقریباً اٹھارہ لاکھ موٹرسائیکلیں ہیں، ہر سال ٹریفک حادثات میں چار سو سے زائد موٹرسائیکل سوار ہلاک ہوتے ہیں۔

اس کے باوجود صرف تیس فیصد یعنی چھ لاکھ افراد ہیلمٹ استعمال کرتے ہیں اور ان میں سے بھی صرف تین فیصد سیفٹی ہیلمٹ خریدتے ہیں۔

سرٹیفائیڈ ہیلمٹ کی قیمت چار ہزار سے پانچ ہزار روپے تک ہے لیکن خریدنے والوں کی اکثریت سستے ہیلمٹ کو ترجیح دیتی ہے،شہری خود بھی اعتراف کرتے ہیں کہ وہ ہیلمٹ کا تکلف صرف چالان سے بچاؤ کیلئے کرتے ہیں۔

بیچنے والا خریدنے والے کا رجحان دیکھتا ہے اس لئے مارکیٹوں میں دستیاب ہیلمٹ مقامی ہوں یا امپورٹڈ، سب زیادہ تر سستے اور غیر معیاری ہوتے ہیں، سوال یہ ہے کہ کوالٹی کنٹرول کا ادارہ کیا کررہا ہے

بشکریہ جنگ

SHARE

LEAVE A REPLY