پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کوچ محسن حسن خان نے پاکستان سپر لیگ ( پی ایس ایل) میں مبینہ کرپشن پر کرکٹ بورڈ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایسے واقعات کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

ڈان نیوز کے پروگرام ‘دوسرا رُخ’ میں گفتگو کرتے ہوئے محسن خان نے مطالبہ کیا کہ اگر خالد لطیف اور شرجیل خان پر الزام ثابت ہوجاتا ہے تو انہیں سخت سے سخت سزا دی جانی چاہیئے۔

انھوں نے کہا کہ ‘کوئی بھی کھلاڑی ہو چاہیے وہ سینئر ہو یا پھر جونیئر، اسے حق نہیں کہ ہوہ قوانین کی خلاف ورزی کرکے کرکٹ کو بدنام کرے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘پی ایس ایل کے چیئرمین کہتے ہیں کہ یہ لیگ چاہے دبئی میں ہو یا پاکستان میں، لیکن ہوگی پاکستان سپر لیگ جو ملک کا نام روشن کرے گی، لہذا میں سوال کرتا ہوں کہ جو کچھ ہوا اس سے کتنا نام بلند ہوا ہے ؟’۔

اس سوال پر کہ ہم ماضی سے سبق کیوں نہیں حاصل کرتے کہ ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں ؟ تو سابق کوچ نے کہا کہ ایسا صرف اس لیے ہوتا ہے، کیونکہ پی سی بی نے اپنے قوانین کو اس حد تک کمزور کردیا ہے جس سے کوئی بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر آپ دنیا کو دیکھیں تو خود ہمارے پڑوسی ملک بھارت نے اپنے تین کھلاڑیوں پر عمر بھر کی پابندی عائد کردی، جبکہ دیگر ممالک سے بھی ایسی مثالیں ملتی ہیں، لیکن ہماری ملک میں وسیم اکرم جس پر کافی الزامات عائد ہوتے رہے، انہیں پی ایس ایل میں اسلام آباد یونائیٹڈ کا کوچ مقرر کیا گیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جب تک ہم کرپشن جیسے واقعات میں پر سختی سے کارروائی نہیں کریں گے اُس وقت تک اس مسئلے کا کوئی ٹھوس حل نہیں نکالا جاسکتا۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے اینٹی کرپشن کوڈ کے تحت اسلام آباد یونائیٹڈ کے شرجیل خان اور خالد لطیف کو اینٹی کرپشن کوڈ کی مبینہ خلاف ورزی کی تحقیقات کے لیے عبوری طور پر معطل کرکے ایونٹ سے باہر کردیا تھا۔

مزید پڑھیں: شرجیل خان، خالد لطیف پی ایس ایل سے باہر

معطلی کے بعد جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ پی سی بی نے پاکستان سپر لیگ کو کرپشن سے پاک رکھنے اور کرکٹ کے کھیل کی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے یہ اقدام اٹھایا، جبکہ تحقیقات میں انٹرنیشل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) بھی بورڈ کو تعاون فراہم کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایونٹ کا آغاز 10 فروری سے دبئی میں ہوا، جس کے افتتاحی میچ میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد پشاور زلمی کو 7 وکٹوں سے ہرا دیا تھا۔

اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیم کے کپتان مصباح الحق ہیں، جس میں شین واٹسن، ڈیوین اسمتھ، سیم بلنگز، بریڈ ہیڈن، عماد بٹ، عمران خالد، سعید اجمل اور محمد سمیع شامل ہیں۔

شرجیل خان اور خالد لطیف کو پہلے ہی وطن واپس بھیجا جاچکا ہے اور اب محمد عرفان سے بھی پوچھ گچھ کی گئی ہے۔

دوسری جانب شاہ زیب حسن کا تعلق کراچی کنگز جبکہ ذوالفقار بابر کا تعلق کوئٹہ گلیڈی ایٹر سے ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY