ویلنٹائن ڈے ۔۔۔از۔۔ صدف مرزا

0
107

یہ دنیا جب دنوں میں ڈھونڈتی ہو لمحے چاہت کے

کئی مخصوص دن ہوں گے ….
وہیں یہ فیصلہ ہو گا
اسی دن
دین و دنیا …. کو نمائش کی اجازت ہے
اسی دن … اہتمامِ رنگ و خوشبو کا پتا ہو گا
میدان_ حشر کی مانند
وہیں میداں سجائیں گے
جہاں اقرار ہو
اظہار ہو
تکرار ہو
یہی مخصوص دن ہیں … جرعہ جرعہ پیار کو بانٹو
تو باقی دن ؟؟؟؟؟؟
یہاں کے “” اولڈ پیپل ہوم “” میں مائیں
نگاہوں میں بهرے امید کے کچھ منتظر آنسو

یہ دن آئیں… گزر جائیں

گلابوں کی حسیں سرگوشیاں مرنے لگیں جب
تین سو چونسٹھ دنوں کی آگ میں جل کر
محبت بهسم ہو جائے…..
یا پهر محبوب چہرے پر نیا اک چہرہ سج جائے ؟؟؟؟؟

تو پهر پهولوں کی پتیوں سے کوئی منتر بهی پهونکا تک نہیں جاتا…
یہ کاروبارِ دنیا ہے
تجارت ہے یہاں پهولوں کی….. جذبوں کی
..
خریدی جاتی ہیں خوابوں کے گلشن سے حسیں کلیاں….
یہ اربوں کهربوں کا صارف زمانہ ہے….
نجانے کیا ہوا ہے … سوچو …. اس کرے کے باسی کو
یہ خونی چهینٹوں کے سائے میں
رسموں کی عبادت کرنے پر اصرار کرتا ہے

صدف مرزا

SHARE

LEAVE A REPLY