کشمیر۔ کُلگام میں تازہ ہلاکتوں کے بعد وادی میں صورت حال ایک بار پھر کشیدہ ہو گئی

0
99

ھارت کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع کُلگام میں اتوار کو عسکریت پسندوں اور فوج میں جھڑپوں کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کے بعد وادی میں صورت حال ایک بار پھر کشیدہ ہو گئی ہے۔

کُلگام کے فِرسل علاقے میں اتوار کو علی الصُبَح شروع ہونے والی جھڑپ میں چار عسکریت پسند، ایک شہری اور دو بھارتی فوجی ہلاک جب کہ چار اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔

بعد ازاں اتوار ہی کو ان ہلاکتوں کے بعد ہونے والے مظاہروں میں شریک افراد پر سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی فائرنگ سے ایک 22 سالہ شہری مشتاق ابراہیم احمد ایتو ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہو گئے۔

حزبِ اختلاف کی علاقائی جماعت نیشنل کانفرنس اور استصوابِ رائے کا مُطالبہ کرنے والی کشمیری تنظیموں نے حفاظتی دستوں پر مُظاہرین پر بے دریغ گولیاں چلانے اور تشدد ڈھانے کا الزام عائد کیا تھا۔

جب کہ علیحدگی پسند کشمیری جماعتوں نے شہری ہلاکتوں کے خلاف پیر کو نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر میں عام ہڑتال کے لیے اپیل جاری کی تھی۔

واضح رہے کہ اتوار کو جھڑپ میں زخمی فوجیوں، جن میں ایک میجر بھی شامل ہے، کو ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے سرینگرکے ایک فوجی اسپتال میں منتقل کیا گیا۔

جھڑپ میں عسکریت پسندوں کے مارے جانے کی خبر کے پھیلنے کے ساتھ ہی سینکڑوں لوگ سڑکوں پر آ گئے اور بھارت سے آزادی کے مُطالبے کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے اُس نجی مکان کی طرف بڑھنے لگے جہاں ملبے کے نیچے مارے گئے عسکریت پسندوں کی لاشیں پڑی تھیں۔

حفاظتی دستوں نے اُنہیں روکنے کے لیے اشک آور گیس چھوڑی جس کے ساتھ ہی طرفین کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں۔

اسپتال ذرائع کے مطابق کئی افراد کے سر، سینے اور جسم کے دوسرے اُپری حصوں میں گولیاں لگی ہیں جس سے ڈاکٹروں کے مطابق یہ ظاہرہوتا ہے کہ اُنہیں ہلاک کرنے کی غرض سے ہدف بنایا گیا۔

بھارتی کشمیر کے پولیس سربراہ ایس پی وید نے کہا کہ عسکریت پسندوں کی ہلاکت اُن کے خلاف حفاظتی دستوں کی طرف سے چلائی جا رہی “فعال مُہم” کی ایک بڑی کامیابی ہے۔

انہوں نے جھڑپ میں فوجیوں اور شہری کی ہلاکت کو افسوسناک قرار دیدیا۔ پولیس عہدیداروں کے مطابق عسکریت پسند ایک نجی مکان کی نچلی چھت یا سیلنگ کے پیچھے چھپ گئے تھے اور جونہی حفاظتی دستوں نے اُنہیں ڈھونڈ نکالا عسکریت پسندوں نے اُن پر خود کار ہتھیاروں سے فائرنگ کی۔

دو فوجی موقع پر ہی ہلاک ہو گئے اور میجر سمیت اُن کے چار ساتھی زخمی ہو گئے۔ جوابی کارروائی اور مختصر جھڑپ میں، جیسا کہ عہدیداروں کا کہنا ہے، چاروں عسکریت پسند مارے گئے۔

پولیس سربراہ کے مطابق مالکِ مکان کا بیٹا عاشق ریشی بھی گولیوں کے تبادلے میں ہلاک ہو گیا۔ تاہم مقامی لوگوں نے شہریوں کی ہلاکتوں کو’ ٹارگٹ کِلنگ’ قرار دیدیا۔ عہدیداروں نے بتایا کہ اُنہیں نجی مکان میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی مُصدِقہ اطلاع ملی تھی جس کی بُنیاد پر علاقے کو مقامی وقت کے مطابق صُبَح ساڑھے چار بجے گھیرے میں لے کر آپریشن شروع کیا گیا۔

مارے گئے فوجیوں کے نام لانس نائک رگھبیر سنگھ اور لانس نائک بندوریا گوپال سنگھ ہے اور ان کا تعلق بھارتی فوج کی شورش مخالف 1 راشٹریہ رائفلز سے تھا۔

وی او اے

SHARE

LEAVE A REPLY