پاکستان کے دارالحکومت کی اندھی بہری گونگی عدالت۔ ڈاکٹرنگہت نسیم

1
328

یوں توزندگی میں کئی ایسے مقام آئے تھے جب یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا رہا کہ “ کیاہو “ ۔۔ پر آج انتہا ہو گئی جب سے یہ خبر عالمی اخبار میں پڑھی ہے “ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ویلنٹائن ڈے عوامی مقامات پر منانے سے روک دیا “ سوچ رہی ہوں کہ اس پر ہنسا جائے کہ رویا جائے ۔۔ اس پر مسلمان عقلوں کا ماتم کیا جائے کہ انہیں شاباش دی جائے ۔۔ اس عظیم الشان بروقت فیصلے کو “ پہلا بروقت فیصلہ “ قرار دیتے ہوئے ہائی کورٹ کو “ تمغہ جرات “ عطا کیا جائے ۔۔ یا اس فیصلے پر سپریم کورٹ سے بھی راتوں رات “ شاباش “ لی جائے اور انہیں پانامہ کیس سے بروقت نمٹنے کے لئے اسلام آباد ہائی کورٹ سے مدد لینا لازمی قرار دےد یا جائے یا کم از کم ان کا وہ چشمہ ضرور مانگ لیا جائے جو “ دائر درخواست “ کے علاوہ کسی اور شہری اور ملکی مسائل سے واقف ہی نہیں ۔۔۔ کہیں ایسا تو نہیں ملک اور شہر اسلام آباد کے دیگر مسائل یا تو ہیں نہیں یا پھر وہ اسلامی تعلیمات کی خلاف ورزی نہیں کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔

جان کی امان پاؤں تو اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے کچھ ایسے مسائل کی نشاندہی کی جرات کر رہی ہوں جومیرے نزدیک اسلامی تعلیمات کی سچی خلاف ورزی ہیں جنہیں نا کھلے نا بند مقام پر کسی طور بھی جائز قرار دیا جا سکتا ہے ۔۔ پر ان جرائم میں ملوث افراد نا صرف کھلے گھوم رہے ہیں بلکہ ان جرائم میں رو بروز اضافہ ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔۔ 12 جنوری ۔۔ 2016 ڈان میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق
 پاکستان میں صرف اکیلے پنجاب میں 14,850 عورتیں اور بچیاں اغوا ہوئیں جن میں عورتوں کی تعداد 2,000 تھی ۔
۔ پچھلے برس ان اغوا ہونے والی عورتوں اور بچیوں میں 80 فیصد لڑکیاں زنا بالجبر کا شکار ہوئیں اور 15 فیصد قتل کر دی گئیں ۔
۔ ہسپتالوں سے 980 نومولد بچے اغواہ ہوئے ۔
۔ شہر پنجاب سے 96 افراد اغواہ برائے تاوان ہوئے جن میں 15 لوگوں کو پسندیدہ تاوان نا ملنے پر گولی مار دی گئی
۔ پولیس تھانوں میں ہزاروں درخواستیں پولیس نے لکھنے سے انکار کر دیا اور جو دائر ہوئیں انہیں دوسری بار دیکھا تک نا گیا ، انہیں میں سے 3100 درخواستیں برسوں سے زیر تفتیش ہیں ۔
۔ ڈومیستک وائلنس کے سلسلے میں 7,424 عورتوں کو ازیت ناک وحشتوں سے گزرنا پڑا جس میں ان کے جسم جلانا ، پتھروں سے لہولہان کرنا شامل ہے
۔ اونر کلنگ کے بہانے 1096 عورتوں کو قتل کر دیا گیا ۔
۔ جیلوں میں 8000 افراد کو سزائے موت سنائی جاچکیں ہیں جن میں 318 کو موت مل چکی ہے ، اس پاکستان دنیا بھر میں سزائے موت دینے والا نمبر ون ملک ہو گیا ۔
۔ ہائی کورٹ میں 2,700 کیسز فیصلوں کے منتظر ہیں ۔
۔ سپریم کورٹ میں 60,000 کیسز فیصلوں کے منتظر ہیں
۔ پچھلے برس 706 حملے ہوئے ۔ جن میں 1,325 افراد ہلاک ہوئے جن میں مقامی افراد کی تعداد 619 تھی ، سیکیورٹی آفیسرز 348 تھے اور 33 رضاکار تھے ۔
۔ پچھلے برس پولیس مقابلے میں 2108 افراد ہلاک ہوئے جن میں سات عورتیں تھیں ۔
۔ ملک میں 18 خود کش دھماکے ہوئے جن میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے ۔
۔ صرف پنجاب میں 382,932 جرائم کے واقعات ہوئے جن میں 58 مسلکی مسائل پر مچائی جانے والی قتل و غارت تھی ۔
۔ اب ایک نظر 2015 کی رپورٹ صرف پنجاب میں دیکھتے ہیں جہاں 939 عورتوں سے زنا بالجبر ہوا ، 279 عورتوں پر گھریلو تشدد ہوا اور انہیں آگ سے جلایا گیا ، 143 عورتوں کے چہرے تیزاب سے جلائے گئے ، 833 عورتیں اغواہ ہوئیں ، 777 عورتوں نے خود کشی کر لی جس کی وجہ ان کی طرف سے انصاف کے لئے دائر درخواستوں کا بر وقت فیصلہ نا ہونا تھا ۔۔

میرے عزیز ہم وطنو۔۔ ابھی میں نے ہسپتالوں میں پیسوں کے لالچ میں ڈاکٹرز کے غیر ضروری آپریشن کرنے اور میڈیکل اسٹورز اور ایجنسیوں کی بدمعاشی کے نقشے نہیں کھینچے ۔۔ ابھی میں نے بڑے بڑے ہوٹلوں میں کتے ، گدھے کا گوشت کھلانے والوں کا زکر نہیں کیا ۔۔ ابھی میں نے تعلیم کے نام پر درجہ بندی کرنے والوں کا نام نہیں لیا ۔۔۔ ابھی مدرسوں میں معصوم بچے اور بچیوں کے ساتھ مولویوں اور ملاؤں کی ہوسناکیوں کا زکر نہیں کیا ۔۔ ابھی اس جج کی بیوی کا نام نہیں لکھا جس کے ہاں طیبہ ملازم تھی اور اسے بہیمانہ تشدد کا نشانہ انصاف دلوانے والے گھر میں بنایا گیا ۔۔۔۔۔۔

پاکستان کو اسلامی جمہوریہ کہتے اور لکھتے ہوئے مجھے خود سے شرم آ رہی ہے کہ اتنے بڑے دین کے ماننے والے اتنے چھوٹے لوگ ۔۔۔ عدالتوں کے منافقانہ رویئے ، پولیس کی من مانیاں ۔۔ اور درخواست دائر کرنے والوں کا اندھا پن زند باد ۔۔ ویلنٹائن ڈے مردہ باد ۔۔۔اسلامی جمہوریہ پاکستان کی اندھی بہری گونگی عدالت کی جانب سے اندھی بہری گونگی عوام کو ہدایت کی جاتی ہے کہ آپ ” سر عام ” کسی لڑکی یا عورت کی انفرادی یا اجتماعی آبرو ریزی کر سکتے ہیں لیکن انہیں سر عام ” ہیپی ویلٹائن ڈے کہتے ہوئے گلاب کا پھول پیش کرنے پر پر پابندی ہے ، کیونکہ محبت پھیلانے سے مسلمان کے ایمان کو شدید خطرہ ہے ۔

میرے بس میں ہو تو میں ہر دن کو یوم محبت قرار دے دوں کہ شاید اسی طرح نفرتیں کم ہو سکیں،دشمنیاں ختم ہو سکیں اور عداوتیں دم توڑ سکیں

ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

1 COMMENT

  1. ویلنٹائن ڈے ۔۔۔۔۔ تم پاکستان میں مت جانا وہاں تمہارے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔
    تم تو پیار کا اک پیغام ہو، محبت کا اک سندیسا ہو اور پاکستان میں پیار محبت کی کوئی جگہ نہیں ۔ وہاں تو ظلم و تشدد، حسد اور کینہ ، زیادتی ، مار کٹائ اور ان کے سب رشتہ دار رپتے پیں۔ وہ سب تمہیں کب گهسنے دیں گے۔ تم
    پاکستان مت جانا وہاں تمہیں کوئ نہیں پہچانے گا۔
    بہت اچھی تحریر نگہت نسیم

LEAVE A REPLY