پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے بول نیوز کے ٹاک شو ‘لائیو ود ڈاکٹر شاہد مسعود’ اور اس کے میزبان ڈاکٹر شاہد مسعود پر 30 دن کی پابندی عائد کردی۔

پابندی کے ساتھ ساتھ افواج پاکستان اور وفاقی وزراء برائے خزانہ و دفاع کے خلاف بے بنیاد الزامات لگانے کے جرم میں پیمرا کی جانب سے بول نیٹ ورک پر 1 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔

دائر کردہ شکایات میں اپنا مؤقف ثابت نہ کر پانے کے بعد ڈاکٹر شاہد مسعود اور ان کے پروگرام کے خلاف مذکورہ فیصلہ سندھ شکایتی کونسل (سی او سی) کی تجویز پر سنایا گیا۔

پیمرا میں وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کی جانب سے جمع کرائی گئی شکایت کے مطابق گذشتہ ماہ 24 جنوری کو بول نیوز سے نشر ہونے والے پروگرام ‘لائیو ود ڈاکٹر شاہد مسعود’ میں میزبان نے انھیں بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ہتک آمیز، جھوٹے اور بدنام کرنے والے جملے ادا کیے، ساتھ ہی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی اور وزیر خزانہ کے درمیان مبینہ ملاقات کی جھوٹی کہانی بھی تیار کی جبکہ ایسی کوئی ملاقات ہوئی ہی نہیں۔

پیمرا کی جانب سے ابتدائی انکوائری میں اس بات کی تصدیق ہوئی کہ ڈاکٹر شاہد مسعود نے خواجہ آصف اور اسحاق ڈار کی راولپنڈی میں اعلیٰ فوجی قیادت سے ملاقات کا تذکرہ کیا تھا۔

بول نیوز کی انتظامیہ (لبیک پرائیوٹ لمیٹڈ) اور میزبان شاہد مسعود کو سندھ سی او سی کی جانب سے دو سماعتوں میں اپنے مؤقف کی وضاحت کا موقع فراہم کیا گیا۔

پیمرا کے مطابق مذکورہ ٹی وی چینل کے میزبان اور ساتھی میزبان 2 اور 10 فروری کو اپنی پوزیشن واضح کرنے یا کوئی بھی ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہے۔

پیمرا حکام کے مطابق ‘ثبوت فراہم کرنے کے بجائے میزبان، سی او سی سے سماعت ملتوی کرنے کا مطالبہ کرتے رہے’۔

سماعت کے بعد پیمرا نے ڈاکٹر شاہد مسعود اور ان کے پروگرام پر 30 روز کی پابندی کا حکم جاری کرتے ہوئے 10 لاکھ روپے کا جرمانہ جمع کرانے کی بھی ہدایت کردی۔

چونکہ بول نیوز پر پروگرام کرنے والے میزبان ڈاکٹر شاہد مسعود اب نیوز ون نامی چینل کا حصہ بن چکے ہیں، لہذا پیمرا نے اس فیصلے سے متعلق نیوز ون کی انتظامیہ (ایئرویوز پرائیوٹ لمیٹڈ) کو بھی مطلع کردیا۔

پیمرا کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق، بول نیوز یا نیوز ون میں سے کوئی بھی ادارہ اگر پیمرا حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے تو پیمرا قانون کے مطابق ان کے خلاف کارروائی کرے گی۔

SHARE

LEAVE A REPLY