٭15 فروری 1869ء مرزا اسد اللہ غالب کی تاریخ وفات ہے۔

0
224

مرزا غالب کی وفات

٭15 فروری 1869ء اردو کے عظیم شاعر مرزا اسد اللہ غالب کی تاریخ وفات ہے۔
مرزا غالب 27 دسمبر 1797ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے تھے۔ آبائو اجداد کا پیشہ تیغ زنی اور سپہ گری تھا۔ انہوں نے اپنا پیشہ انشاء پردازی اور شعر و شاعری کو بنایا اور ساری عمر اسی شغل میں گزار دی۔
13 برس کی عمر میں، دہلی کے ایک عظیم دوست گھرانے میں شادی ہوئی اور یوں غالب دلی چلے آئے جہاں انہوں نے اپنی ساری عمر بسر کردی۔ غالب نے اپنی زندگی بڑی تنگدستی اور عسرت میں گزاری مگر کبھی کوئی کام اپنی غیرت اور خودداری کے خلاف نہ کیا۔ 1855ء میں ذوق کے انتقال کے بعد بہادر شاہ ظفر کے استاد مقرر ہوئے جن کے دربار سے انہیں نجم الدولہ دبیر الملک اور نظام جنگ کے خطابات عطا ہوئے۔ جب 1857ء میں بہادر شاہ ظفر قید کرکے رنگون بھیج دیئے گئے تو وہ نواب یوسف علی خاں والیٔ رام پور کے دربار سے وابستہ ہوگئے جہاں سے انہیں آخر عمر تک وظیفہ ملتا رہا۔
غالب فارسی اور اردو دونوں زبانوں کے عظیم شاعر تھے جتنی اچھی شاعری کرتے تھے اتنی ہی شاندار نثر لکھتے تھے۔ انہوں نے شاعری کے ساتھ ساتھ نثر نگاری میں بھی ایک نئے اسلوب کی بنیاد رکھی۔ غالب سے پہلے خطوط بڑے مقفع اور مسجع زبان میں لکھے جاتے تھے انہوں نے اسے ایک نئی زبان عطا کی اور بقول انہی کے ’’مراسلے کو مکالمہ بنادیا‘‘۔
مرزا غالب نے 15 فروری 1869ء کو دہلی میں وفات پائی اور وہیں آسودۂ خاک ہوئے۔
ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالب کا ہے اندازِ بیاں اور
……٭٭٭……
ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یا رب
ہم نے دشت امکاں کو ایک نقش پا، پایا
—————————————-

حوالدارلالک جان (نشان حیدر )کی پیدائش

٭8 جولائی 1999ء کو معرکہ کارگل کے ایک اور عظیم ہیرو اور ناردرن لائٹ انفٹری کی جانب سے پہلا ’’نشان حیدر‘‘ حاصل کرنے والے حوالدار لالک جان نے جام شہادت نوش کیا۔
حوالدار لالک جان 15فروری1968ء کو ہندور میں پیدا ہوئے تھے۔میٹرک کرنے کے بعد وہ فوج میں بھرتی ہوئے۔ اپنے علاقے ہندور میں سماجی ادارے ’’المدد ویلفیئر سوسائٹی‘‘ کے بانی ممبران میں سے تھے۔ جون 1999ء میں جب کارگل کی لڑائی اپنے عروج پر تھی تو اس وقت حوالدار لالک جان ’’ٹائیگر ہل‘‘ پر تعینات تھے۔ پاک فوج نے اس چوٹی پر قبضہ کرنے کے ساتھ ساتھ دشمن کو عبرت ناک شکست دی تھی۔ اس کے باوجود بھارتی افواج کی کئی بٹالین دوبارہ اس چوٹی پر قبضہ کرنے کے لئے سر توڑ کوششیں کررہی تھیں۔ یکم جولائی 1999ء کو بھارت کی Grenadiers Battalion نے ٹائیگر ہل پر زبردست حملہ کیا۔ اس وقت صوبیدار سکندر کی قیادت میں لالک جان سمیت پاک فوج کے صرف 11 جوان موجود تھے۔ یہ وہ چوٹی تھی کہ جس پر بھارت قبضے کے بعد کارگل کی شکستوں کو فتح میں بدل سکتا تھا کیونکہ اس مقام سے وہ بہترین پوزیشن میں آجاتا مگر پاک فوج کے جوان ڈٹے رہے حتیٰ کہ 6 جولائی 1999ء کو بھارت کی 18 بٹالین نے بھرپور حملہ کیا جس میں صوبیدار سکندر سمیت سات جوان شہید ہوگئے۔ اب لالک جان بقیہ چار جوانوں کے ساتھ ان کی قیادت کررہے تھے۔ اسی اثنا میں پاکستانی فوج کی مزید کمک بھی پہنچ گئی مگر لالک جان زخمی ہونے کے باوجود اپنے مورچے پر ڈٹے رہے۔اس کے بعد لالک جان نے جو کیا اس کا اندازہ دشمن کے مورچے کی مستقل خاموشی سے لگایا جاسکتا ہے۔ 13 اگست 1999ء کو حکومت پاکستان نے آپ کو ’’نشان حیدر‘‘ عطا کرنے کا اعلان کیا۔ 15 ستمبر 1999ء کو آپ کی گولیوں سے چھلنی لاش ملی جسے پورے اعزاز سے سپرد خاک کیا گیا۔
——————————

رفیق خاور کی پیدائش

٭15 فروری 1908ء اردو کے ممتاز شاعر، ادیب، محقق، نقاد، مترجم اور ماہر لسانیات رفیق خاور کی تاریخ پیدائش ہے۔
رفیق خاور کا اصل نام محمد رفیق حسین تھا اور وہ راولپنڈی میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کی تصانیف میں خاقانیٔ ہند، ابر گہر بار، پدما سے چناب تک، اقبال اور اس کا پیغام اور حرف نشاط آور کے نام شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے اردو تھیسارس بھی مرتب کیا جو اشاعت پذیر ہوچکا ہے۔ ان کے تراجم کی فہرست بھی بہت طویل ہے۔ وہ کئی زبانوں کے ماہر تھے اور منظوم و منثور تراجم پر یکساں عبور رکھتے تھے۔
رفیق خاور 14مئی 1990ء کو کراچی میں وفات پاگئے۔ وہ کراچی میں پی ای سی ایچ ایس کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
——————————-

علامہ نصیر الاجتہادی کی پیدائش

٭15 فروری 1931ء پاکستان کے نامور عالم دین، خطیب اور مصنف علامہ نصیرالاجتہادی کی تاریخ پیدائش ہے۔
علامہ نصیر الاجتہادی کا اصل نام سید نصیر حسین رضوی تھااور وہ لکھنؤ میں برصغیر کے ممتاز علمی گھرانے خاندان اجتہاد میں پیدا ہوئے تھے۔ آپ کے جد علامہ سید احمد کو آیت اللہ العظمی اور مرجع وقت اخوند کاظم نے علامہ ہندی کے خطاب سے سرفراز کیا تھا۔
علامہ نصیرالاجتہادی کی پرورش بڑے علمی ماحول میں ہوئی۔ آپ مدرسۂ ناظمیہ لکھنؤ کے فارغ التحصیل تھے اور آپ نے مفتی اعظم ہند مفتی احمد علی، مولانا ایوب، مولانا ناظم حسین اور علامہ مرتضیٰ حسنین سے بھی فیض حاصل کیاتھا۔
علامہ نصیر الاجتہادی اتحاد بین المسلمین کے زبردست داعی تھے۔ آپ نے عربی کی کئی کتابوں کو اردو میں منتقل کیا جن میں نہج الفصاحت اور کتاب کربلا کے نام سرفہرست ہیں۔ آپ نے پاکستان ٹیلی وژن سے کئی برس تک مجالس سے شام غریباں سے خطاب کیا۔
علامہ نصیرالاجتہادی 3 فروری 1990ء کو کراچی میں وفات پا گئے اور کراچی ہی میں مسجد زین العابدین، بفرزون کے احاطہ میں آسودۂ خاک ہوئے

وقار زیدی ۔ کراچی

SHARE

LEAVE A REPLY