ہم سوچ رہے تھے کہ اگر دُبئی نہ ہوتا تو ہم کدہر جاتے ۔کیونکہ ہمارے سارے کام اب دُبئی میں ہوتے ہیں کر کٹ تو پہلے بھی دُبئی میں ہوتی تھی ۔لیکن دُکھ یہ ہے کہ ہمارے ایسے ٹورنا منٹ جنہیں ہمارے ملک میں ہونا چاہئے تھا وہ بھی ہجرت کر گئے ہہمارے ملک سے جیسے ہمارے سیاست دان ۔دبئی نے بھی اپنی گود ہمارے ہر قسم کے بندے کے لئے پھیلا کر رکھی ہے ۔کیونکہ ہماری دولت وہاں جاتی ہے فلیٹ خریدنے کے لئے، ہمارے کرپٹ لوگ جاتے ہیں پناہ کے لئے ہمارے سیاست دان گھر بھی خریدتے ہیں وہاں مہنگے سے مہنگا اور تجارت بھی کرتے ہیں زبردست ۔جو کوئی کچھ بھی نہیں کرتا وہ بھی اپنے ملک سے اتنا پیسہ لے جاتا ہے کہ اُسے کچھ کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی ۔ تجارت کرنے والے بھی وہیں اپنی جنت بنا لیتے ہیں لیکن اپنے ملک میں ایک کارخانہ بھی منافع میں نہیں چلا پاتے یہ بھی ایک راز ہے یا گورکھ دھندہ ہمیں نہیں پتہ ۔ ہمیں اتنا پتہ ہے کہ وہاں کا اسٹیل مل یا فیکٹری بے پناہ فائدہ میں چلتی ہے لیکن اپنے ملک کا اسٹیل مل اُن ہی لوگوں سے نہیں چلتا اب اس میں دُبئی کی قسمت ہے یا ہمارے ملک کی ہمیں نہیں پتہ ،شاید اس معاملے میں قسمت کچھ لوگوں ہی کا ساتھ دیتی ہے ۔اگر ملک کو اس قابل کیا ہوتا کہ کسی کو بھی ملک سے باہر جانے اور اپنی صلاحیت کو دوسروں کے لئے ترقی کا زریعہ بنانے کی ضرورت نہ پڑتی تو شاید ہم ایک کامیاب ملک ہوتے ۔اور ہمارے لوگ با اعتبار ۔۔
۔
ہماری تو سیاست بھی وہاں سے ہی چلتی ہے لوگ میٹنگ کرنے جاتے ہیں ،صلح مشورہ وہیں ہوتا ہے لیکن ہیں سارے مُحبِ وطن ۔ہم اس محبت پر بہت حیران ہوتے ہیں وہ لوگ جنہیں قائم کرنی چاہئیں مثالیں ، نو جوانوں کے لئے وہ قائم کر رہے ہیں کرپشن ،بد عُنوانی اور جھوٹ دھوکہ دہی کی مثالیں ۔ہمارے سَر شرم سے جُھکتے ہی نہیں بلکہ ہماری امید یں بھی زمیں بُوس ہوجاتی ہیں ۔لیکن آس باقی ہے کہ اُٹھے گا کہیں نہ کہیں کسی چنگاری سے شُعلہ ،جو ان تمام خرابیوں کو جلا کر راکھ کردے گا اور میرا ملک پھر بنے گا حقیقی پاکستان ۔حقیقی فلاحی ریاست جہاں سے کوئی باہر جانے کا سوچے گا بھی نہیں ۔کاش ہم نے اپنے ملک کو ایسا بنا دیا ہوتا کہ لوگ یہاں پہلے کی طرح پڑھنے آتے ۔کمانے آتے ہمیں کاروبار دیتے اور ہم ترقی کر جاتے ۔لیکن ہم نے ایسی کوئی سوچ رکھی ہی نہیں ،پیدا ہی نہیں کی کیونکہ ہمیں اپنے کمانے ہی سے فرصت نہ ملی ۔پولٹری فارم ہیں تو ساری کی ساری انڈسٹری جناب خادم اعلیٰ کی ۔سارا کا سارا بزنس صرف اور صرف اُنکے خاندان کی نظر ۔شوگر ملز ہیں تو تمام کی تمام تقریبا“ ان ہی کی دسترس میں ۔ایسا شاید ہی کسی ملک کے حکمران کرتے ہوں جیسا شیوہ ہمارے حکمرانوں کا ہے ۔یہ ہی حال میڈیا کا ہے ۔بیوی بھی اینکر بیٹی بھی اینکر شوہر بھی اینکر ۔اسی طرح باپ ایک سینیٹر تو بیٹی ایک میڈیا اسپوکس پرسن حکومت کا ۔کیا ملک میں اور کوئی بھی ان عہدوں کے قابل نہیں یا بس صرف اور صرف ساری فراست ان ہی لوگوں میں آگئی ہے ۔

کرکٹ جیسے کھیل کی بھی ستیاناسی ہی نہیں سوا ستیا ناسی لگا دی گئی ہے ابھی ملک سے نکلے بھی نہیں کہ بُکی کے ملنے اور بات چیت پر دبئی بدر کر دئے گئے ۔کس تیزی سے یہ سب ہوتا ہے کہ جوان بچوں کی قسمت بھینٹ چڑھ جاتی ہے ان نا لائیقیوں کی اور وہ منہ چُھپاتے پھرتے ہیں ۔ویسے تو اب کوئی کتنا ہی بڑا کرپشن کر لے منہ چھپانے کی نوبت ہی نہیں آتی کہ جب آوا کا آوا ہی بگڑا ہوا ہوتو کسی ایک کو الزام نہیں دیا جا سکتا ۔جب بڑے ہی بے تحاشہ برائی میں ملوث ہوں تو یہ بیچارے چھوٹے چھوٹے مُہرے تو کسی گنتی شمار میں نہیں آتے ۔مگر دل کڑھتا ہے کہ جوان نسل کیوں اپنا اچھا بُرا بھول بیٹھی ہے کیوں نہیں سوچتے کہ یہ دولت آنی جانی ہے مگر عزت واپس نہیں آتی ۔جب تک ہم بڑوں پر ہاتھ نہیں ڈالینگے اُنہیں قابلَ عبرت نہیں بنائینگے ہمارے یہ لوگ اسی طرح کرپشن کی نظر ہوتے رہینگے ۔ہمیں دُکھ یہ بھی ہوتا ہے کہ ہم کس تیزی سے سب کو بتاتے ہیں کہ ہمارا کوئی بھی شعبہ کرپشن کرنے والوں سے خالی نہیں ہے ،کیوں عوام کو اپنی اس تضحیک پر غصہ نہیں آتا ،شاید حِس ہی ختم ہو گئی ہے ۔۔چاہئے تو یہ کہ کرکٹ کے بڑوں وک کٹہرے میں کھڑا کیا جائے کہ کیوں اُنکی موجودگی کے باوجود یہ بچے کسی غلطی کی طرف متوجہ ہوئے ۔جس دِن ہم نے ان بڑوں کی پگڑی اُتار دی کہ یہ خود کتنے زمے دار ہیں اُسی دن سے بہتری آنے لگے گی ۔بس انصاف کے پلڑے سیدھے ہونے چاہئیں جو نہ دیکھے کسی بھی مصلحت کی طرف ۔جب تک گیہوں کے ساتھ گُھن نہیں پسے گا نہ آٹا بنے گا نہ روٹی ۔۔۔۔

سُنا ہے ہمارے بہت سے کرپٹ لوگ بیٹھے ہیں دبئی میں جنہیں ہونا چاہئے تھا اِڈیالہ میں ۔اب ہم کیا کریں جنہیں بھی تلاش کریں وہ دبئی میں ہوتے ہیں اور کُھلم کُھلا وہاں سے بیان بھی دیتے ہیں یہ بھی بتاتے ہیں کہ ہم علاج کرا رہے ہیں لیکن ملک میں وہ مطلوب ہیں لیکن کسی میں دَم نہیں ہے کہ اُنہیں کھینچ بُلائے ۔کہ واپس آؤ اور جواب دو جو کچھ تم کھا گئے ہو ؟؟ سندھ کے آدھے لوگ وہاں بیٹھے ہیں جو کسی نہ کسی مقدمے میں ملوث ہیں لیکن کوئی پکڑ نہیں ۔ہم جب تک عوام کو باہر نہیں نکالینگے کہ اپنے حق کو واپس لو جب تک ہم یونہی کمزور رہینگے اور ہمارے ادارے معزور ۔
اللہ ہم سب کو عقل و سمجھ دے اور برائیوں سے چھٹکارا عطا فرمائے آمین

SHARE

LEAVE A REPLY