ٹرمپ انٹیلی جنس برادری اور چند میڈیا اداروں پر برس پڑے

0
27

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے اور روس کے درمیان مبینہ رابطوں سے متعلق رپورٹوں پر ذرائع ابلاغ کو ہدف تنقید بنایا، اور ملک کی انٹیلی جنس کمیونٹی پر الزام لگایا کہ وہ، بقول اُن کے، ذرائع ابلاغ کو رپورٹوں کی ’’ناجائز‘‘ افشا میں ملوث ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ ’’یہاں اصل اسکینڈل یہ ہے کہ انٹیلی جنس ایک ’کینڈی‘ کے طور پر صیغہٴ راز والی اطلاعات کا افشا کرتی ہے۔ یہ امریکی اقدار کے منافی ہے‘‘۔

اپنے کئی ایک ٹوئٹر پیغامات میں، ٹرمپ نے کہا ہے کہ اخباری مضامین جن میں اُن کے، انتخابی مہم کے دور کے مشیروں اور معطل کیے گئے قومی سلامتی کے مشیر مائیکل فلن کے روسی اہل کاروں سے مبینہ رابطوں کی خبریں شائع کرنے کا مقصد نومبر کے انتخابات میں اُن کی جیت کو نقصان پہنچانا ہے۔

ٹرمپ، جنھیںٕ عہدہ سنبھالے ایک ماہ سے بھی کم وقت ہوا ہے، کہا کہ ’’روس کے ساتھ اُن کے روابط بکواس ہے، جس کا مقصد محض ہیلری کلنٹن کی متعدد غلطیوں کی پردہ پوشی کرنا ہے، جس کی وجہ سے اُنھیں انتخابی شکست ہوئی‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’ذرائع ابلاغ کے جھوٹے ادارے اپنے سازشی نظریات اور کھلی نفرت پر مبنی باتیں پھیلانے میں مصروف ہیں‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ امریکہ کے ’کیبل نیوز‘ کے ذرائع، ’ایم ایس این بی سی‘ اور ’سی این این‘، ’’دیکھنے کے قابل نہیں‘‘، جب کہ اُنھوں نے ٹرمپ کے حامی ٹاک شوز ’فاکس اینڈ فرینڈز‘ کو ’’عظیم‘‘ قرار دیا۔

ساتھ ہی، صدر نے دعویٰ کیا کہ ’’بالکل روس کے معاملے ہی کی طرح‘‘، قومی سلامتی کا ادارہ، اور فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن ’’ناکام ہونے والے‘‘ ’نیو یارک ٹائمز‘ اور ’واشنگٹن پوسٹ‘ کو ’’غیر قانونی طور پر اطلاعات‘‘ فراہم کرتے ہیں۔

روس نے ’نیو یارک ٹائمز‘ کی رپورٹ کو مسترد کیا ہے کہ نومبر کے امریکی انتخابات سے پہلے، ٹرمپ کی انتخابی مہم کے ارکان اور دیگر ساتھی روسی انٹیلی جنس اہل کاروں کے ساتھ رابطے میں تھے۔

’نیو یارک ٹائمز‘ نے موجودہ اور سابقہ چار امریکی اہل کاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ قانون کے نفاذ پر مامور اور انٹیلی جنس اداروں کی ٹیلی فون کالز پکڑی گئی ہیں اور ٹیلی فون ریکارڈ ثابت کرتا ہے کہ ایک وقت ٹرمپ کی انتخابی مہم کے منتظم، پال مانافورٹ اور متعدد نام نہ ظاہر کیے گئے ساتھی اِس میں ملوث رہ چکے ہیں۔

’نیو یارک ٹائمز‘ نے بتایا ہے کہ مانافورٹ نے اِس کہانی کو ’’بعید القیاس‘‘ قرار دیا ہے۔

اُنھوں نے ’سی این این‘ کی اِسی طرح کی ایک رپورٹ کو بھی مسترد کیا جس میں کہا گیا تھا کہ ٹرمپ کے ساتھی، جن میں مانافورٹ اور فلن شامل ہیں انتخاب سے پہلے روسی شہریوں کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر رابطے میں تھے۔

ماسکو میں، کریملن کے ترجمان دِمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ ’’رپورٹ حقائق پر مبنی نہیں ہے‘‘، جب کہ روسی میڈیا نے ملک کی بیرونی انٹیلی جنس ادارے کے حوالے سے کہا ہے کہ رابطوں سے متعلق رپورٹیں ’’بے بنیاد‘‘ ہیں۔

وزارتِ خارجہ کی خاتون ترجمان، ماریا زخارووا نے ایک بریفنگ کے دوران بتایا کہ روسی ایلچی تمام ملکوں کے سفارت کاروں کے ساتھ عام ضابطوں کو مدِ نظر رکھ کر ملتے ہیں

SHARE

LEAVE A REPLY