پاکستان میں حملوں کی نئی لہر۔ سیہون شریف لہو لہو

0
140

تازہ ترین صورت حال

سیہون میں لعل شہباز قلندر کی درگاہ کے احاطے میں دھمال کے موقع پر دھماکے میں 76 افراد شہید اور سیکڑوں زخمی ہوگئے، جاں بحق و زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جمعرات کے باعث زائرین کی بڑی تعداد مزار میں موجود تھی، دھماکے کے بعد بھگڈر مچ گئی، درجنوں زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے، شہر کے اسپتالوں میں طبی سہولیات اور ایمبولینسوں کی کمی کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا بھی خدشہ ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق پولیس حکام نے سیہون کی لعل شہباز قلندر درگاہ کے احاطے میں زور دار دھماکے میں 76 افراد کی شہادت کی تصدیق کردی، خواتین اور بچوں سمیت سیکڑوں افراد زخمی ہیں، زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا، امدادی کارکنان اور ایمبولینسوں کی کمی کے باعث شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت پرائیویٹ گاڑیوں میں زخمیوں اور لاشوں کو اسپتال پہنچایا، سیہون کے اسپتال میں ڈاکٹرز اور طبی سہولیات کی کمی کا سامنا ہے، آرمی اور رینجرز کی ٹیمیں بھی پہنچ گئیں، شدید زخمیوں کو دیگر قریبی شہروں کے اسپتالوں میں پہنچایا جارہا ہے

تعلقہ اسپتال سیہون کی انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ 50 سے زائد افراد کی لاشیں منتقل کی گئی ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، دھماکے کے باعث لاشوں کی حالت انتہائی خراب ہے، شناخت کرنا بھی مشکل ہورہا ہے، درجنوں زخمی بھی اسپتال لائے گئے ہیں جنہیں طبی امداد دینے کی کوششیں جاری ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ درگاہ لعل شہباز قلندر میں سیکیورٹی کے انتہائی ناقص انتظامات تھے، واک تھرو گیٹ بھی خراب تھے، پولیس کی نفری بھی انتہائی کم تھی

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ لعل شہباز قلندر کے مزار پر جمعرات کے باعث خواتین اور بچوں سمیت ہزاروں زائرین درگاہ میں موجود تھے، مغرب کے وقت دھمال جاری تھا کہ زور دار دھماکا ہوگیا جس کی آواز پورے شہر میں سنی گئی، واقعے کے بعد علاقے میں بھگدڑ مچ گئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سندھ کے علاقے سیہون شریف میں واقع درگاہ حضرت لعل شہباز قلندرؒ میں ہونے والے خود کش دھماکے کے نتیجے میں 72زائد افراد شہید جبکہ ڈھائی سو سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

واقعے میں 72سے زائد افراد کے شہید ہونے کی تصدیق سینئر پولیس حکام نے کی ہے۔

ایم ایس سیہون اسپتال ڈاکٹر معین نے ’جیو نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اسپتال میں 50سے زائد لاشیں لائی گئی ہیں، جبکہ اسپتال میں ڈھائی سو سے زائد زخمی آئے ہیں جن میں سے 42 افراد شدید نوعیت کے زخمی ہیں ۔

انہوں نے بتایا کہ 10 سے زائد لاشیں ناقابل شناخت ہیں، جبکہ شدید زخمیوں کو دیگر اسپتالوں میں منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔

ایدھی سینٹر کے ترجمان غلام سرور نے ’جیو نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکا اس وقت ہوا جب دھمال شروع ہورہا تھا، سیہون کے قریبی تمام علاقوں سے ایمبولینسیں بلوالی گئی ہیں۔

آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کا ’جیو نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا ہے کہ دھماکا مزار کے اندر ہوا، خود کش حملہ آور درگاہ کے گولڈن گیٹ سے داخل ہوا، جس وقت دھماکا ہوا لوگوں کی بڑی تعداد وہاں موجود تھی۔

روزنامہ ’جنگ‘ کے نمائندے امداد سومرو کے مطابق واقعے میں زخمی ہونے والوں میں سے زیادہ تر کے شہید ہونے کا خدشہ ہے۔

پولیس ترجمان کے مطابق خود کش حملہ آور حضرت لعل شہباز قلندرؒ کی درگاہ میں گولڈن گیٹ سے داخل ہوا، دھماکے کے بعد مزار کے احاطے کو عوام کے لیے بند کردیا گیا اور ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

جمعرات کو مزار پر عموماً معمول سے زیادہ رش ہوتا ہے، دھماکے کے وقت زائرین بڑی تعداد میں موجود تھے، دھماکا ہوتے ہی بھگدڑ مچ گئی جس کے نتیجے میں بھی کئی افراد زخمی ہوئے، جبکہ مزار کے احاطے میں آگ بھی لگ گئی۔

مزار کے قریب کسی بھی قسم کے اسپتال کی سہولت میسر نہ ہونے اور زخمیوں کو فوری طبی امداد نہ مل سکنے کے باعث ہلاکتوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔

نمائندہ ’جیو نیوز‘ طلحہ ہاشمی کے مطابق لعل شہباز قلندرؒ کے مزار پر ہونے والا دھماکا خودکش ہے۔

نمائندہ ’جیو نیوز‘ ریاض ناریجو کے مطابق پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

’جیو نیوز‘ کے نمائندے کامران رضی کے مطابق لعل شہباز قلندر کی درگاہ کے قریب دھماکے کے بعد دادو ،حیدرآباد اور جامشورو کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے، جہاں زخمیوں کو منتقل کیا جارہا ہے

SHARE

LEAVE A REPLY