سیہون شریف دھماکہ افسوسناک اور قابل مذمت ہے

0
96

سیہون شریف کراچی سے تقریباً ایک سو اسی میل کے فاصلے پر دریائے سندھ کے کنارے واقع ہے۔ یہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگ، جن میں ہندو اور مسلمان برابری کی تعداد میں شامل ہوتے ہیں، منت مانگنے اور حاضری دینے آتے ہیں

پاکستان کے صوبہ سندھ میں سیہون کے مقام پر صوفی بزرگ لعل شہباز قلندر کے مزار کے احاطے میں ہونے والے خود کش دھماکے میں 76 افراد ہلاک اور 250 زخمی ہوئے ہیں۔
ایدھی سروس کے سربراہ فیصل ایدھی کے مطابق ہلاک شدگان میں 43 مرد، نو خواتین اور 20 بچے شامل ہیں۔

اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی جانب سے قبول کی گئی ہے۔

یہ دھماکہ جمعرات کی شام درگاہ کے اندرونی حصے میں اس وقت ہوا جب وہاں زائرین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔

اے ایس پی سیہون کے مطابق حملہ آور سنہری دروازے سے مزار کے اندر داخل ہوا اور دھمال کے موقعے پر خود کو اڑا لیا۔

دھماکے کے فوراً بعد امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں اور صوبے کے دیگر شہروں سے ایمبولینسز کو سیہون روانہ کر دیا گیا ہے۔سیہون کے ہسپتال میں موجود دادو کے ایس ایس پی بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں متعدد پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
سیہون ہسپتال کے میڈیکل سپرٹینڈنٹ نے بتایا کہ ہسپتال میں 250 زخمیوں کو لایا گیا ہے جن میں 40 سے زیادہ کی حالت تشویش ناک ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیہون شریف دھماکہ افسوسناک اور قابل مذمت ہے،بے گناہ انسانوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والے انسانیت اور اسلام کے دشمن ہیں ،سانحہ میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں ،حادثے کے شہداء کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے ملک بھر کی مساجد ومدار س میں دعاؤں کا اہتمام کیا جائے۔

مزید پڑھیں:لعل شہباز قلندر کامزار خون سے لال ، درگاہ پر قیامت صغریٰ کا منظر،خود کش حملے میں 72سے زائد افراد شہید ،250 سے زائد زخمی،کالعدم تنظیم داعش نے ذمہ داری قبول کر لی
ان خیالا ت کا اظہار وفاق المدار س العربیہ پاکستان کے رہنماؤں مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر ،مولانا محمد حنیف جالندھری ،مولانا انوار الحق اور دیگر قائدین نے سانحہ سیہون شریف پر ایک مشترکہ بیان میں کیا

۔وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے رہنماؤں نے سانحہ سیہون شریف کو افسوسناک اور قابل مذمت قرار دیا اور کہا کہ بے گناہ انسانوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والے انسانیت اور اسلام کے دشمن ہیں ۔وفاق المدارس کے قائدین نے حکومت سے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس حادثے میں ملوث عناصر کوکیفر کردار تک پہنچانے کے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں ۔وفاق المدارس کے قائدین نے زخمیوں کو فوری طبی سہولیات کی فراہمی کا بھی مطالبہ کیا ،دریں اثناء وفاق المدار س العربیہ پاکستان کے قائدین نے ملک بھی کی مساجد ومدارس کے ائمہ وخطباء کے نام ہدایات جاری کیں کہ وہ زخمیوں کی جلد صحت یابی اور شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کریں ۔

SHARE

LEAVE A REPLY