شہبازقلندر کے مزار پر خودکش حملہ مزارات پر پہلا حملہ نہیں ہے

0
70

پچھلے گیارہ برس میں کراچی،لاہوراورپشاورمیں مزاروں پرکیےگئے حملوں میں لاتعداد عقیدت مندجاں بحق ہوئے۔

27 مئی سال 2005 کو اسلام آباد میں بری امام کےمزار پرخودکش بم حملہ ہوا جس میں 20 افراد جاں بحق ہوئے۔

5 مارچ 2009 کو پشاور میں رحمان بابا کےمزار پر حملہ ہوا، یکم جولائی 2010 کو لاہور میں داتا گنج بخشؒ کےمزار پر2 خودکش بم دھماکے ہوئے جس میں 45 افراد جاں بحق ہوئے۔

سات اکتوبر 2010 کو کراچی میں عبداللہ شاہ غازیؒ کےمزار پر بھی 2 خودکش دھماکے ہوئے جس میں 9 افراد جاں بحق ہوئے، اسی سال 25 اکتوبر کو پاکپتن میں بابا فرید گنج شکرؒ کےمزار پرحملہ ہوا جس میں 7 زائرین جاں بحق ہوئے۔

تین اپریل 2011 میں ڈیرہ غازی خان میں سخی سرور کے مزار پر خودکش حملہ ہوا جس میں 50 افراد جاں بحق ہوئے،21 جون 2012 میں پشاور کے علاقےہزارخوانی میں پنج پیر کے مزار کے باہر دھماکہ ہوا جس میں 3 افراد اپنی جان سے گئے۔

بیس فروری 2013 کو جیکب آباد میں سید حسین شاہ کے مزار میں دھماکا ہوا جس میں 2 جاں بحق ہوئے،اسی سال 25 فروری 2013 میں شکار پور میں غلام شاہ غازی کے مزار پر بم دھماکہ 4 افراد کی جان لے گیا۔

دس جنوری 2014 کو مردان میں شہید غازی باباؒ کے مزار پر حملہ ہوا تو دو مجاور اپنی جان سے گئے،9 فروری 2014 کو کراچی میں آستانہ جلالی باباؒ پرحملے میں 8 افراد جاں بحق ہوئے۔

بارہ نومبر 2016 کو خضدار میں شاہ نورانی کے مزار پر ہونے والے خودکش حملے میں 65 جاں بحق ہوئے۔

رواں سال 16 فروری کو سیہون میں لعل شہباز قلندر کے دربار کےاحاطے میں ہونے والے خودکش دھماکے میں 74افراد اپنی جان سے گئے

SHARE

LEAVE A REPLY