۔روشنی حرا سے (135)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی

0
152

مرض المو ت ،کچھ روایات اور ارشادات

ہم گزشتہ قسط میں قیام ِ خم ِ غدیر تک پہو نچے تھے۔ اب وہ مر حلہ آرہا ہے جس کو سننے سے ہر مو من کا پتّا پا نی ہو جا تا ہے کیو نکہ مو من کی تعریف ہی یہ بیان ہو ئی ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول (ص) کواپنے نفس سے بھی زیا دہ چا ہتا ہو۔ لہذا وہ کونسی آنکھ ہو گی، جو حضور(ص) کی جدا ئی میں نو حہ کنا ں نہ ہو کم از کم مجھے تو ایسا ہی محسوس ہو رہا کہ حضور (ص) کاسا نحہ ار تحا ل آج ہی ہو ا ہے، تین سا ل تک مسلسل ان (ص) کی حیا ت ِ طبیہ بیان کرتے ہو ئے حیا ت طیبہ کی جیتی جا گتی تصویر میری آنکھو ں کے سا منے سے گزر تی رہی۔ اور ہرلمحہ اسی میں مستغرق رہا کیو نکہ میری یہ بچپن سے خوا ہش تھی کہ میں حضو ر (ص) کی حیا ت طیبہ قلم بند کروں۔ اور جب اس مر حلہ پر پہنچا تو مجھے اب کچھ لکھنا مشکل ہو رہا ہے اور مجھے یقین ہے کہ جن لو گوں نے اسے میرے سا تھ غو رو خو ص اور شو ق کے ساتھ پڑھاہے ان کی بھی یہ ہی حا لت ہو گی ۔ اب ہم گیا رہ ہجری میں دا خل ہو رہے ہیں جس میں کہ حضو ر (ص) کا سا نحہ ارتحا ل واقع ہوا اور یہ بھی حسن ِ اتفا ق ہے کہ یہ سا نحہ ربیع اول میں وقوع پزیر ہو ا اور ہم انشا اللہ اسی ما ہ مبا رک میں جب دنیا عید میلا د النبی منا ئے گی ۔ توہم اختتا م تک اسے پہنچا والے ہونگے ۔ آئیے اب آ گے بڑھتے ہیں ۔حضو ر (ص) سفر کرتے ہو ئے مدینہ منورہ پہنچے لیکن اس دوران بھی ان (ص) کا رویہ ظا ہر کر تا رہا کہ اب ان کی روانگی قریب ہے اس سلسلہ میں متعدد احا دیث اور روایا ت مو جو د ہیں جس میں حضو ر (ص)نے صحابہ کرام (رض) سے فرما یا کہ مجھ (ص) سے منا سک ِ حج سیکھ لو میں (ص) آئندہ سا ل تمہا رے در میا ں نہیں ہو نگا۔ یا ازدواج مطا ہرات (رض)کو ہمرا ہ لے گئے اور فر ما یا کہ اس کے بعد تمہا رے لیئے سختی ہے۔ یا پھر حضرت عا ئشہ سے مروی وہ حدیث جس کو تقریبا ً سب ہی نے بیا ن کیا ہے۔ جس میں حضور (ص) نے اپنے انتقال کی خبر ان کو دی ہے۔ ایسی ہی ایک حدیث حضرت فا طمہ (س)کے بارے میں ہے کہ ایک دن وہ تشریف لا ئیں تو حضو ر (ص) نے ان سے کچھ سر گو شیا ں فرمائیں، جن کو سن کر پہلے تو وہ رو نے لگیں پھر بعد میں حضور (ص) نے کچھ اور فر ما یا ، تو ہنسنے لگیں۔ حضرت عا ئشہ (رض) نے پوچھنا چا ہا تو انہو ں نے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ میں حضو ر (ص)کا راز ان پر عیاں نہیں کر سکتی ۔مگر جب انہو ں نے حضور (ص) کے وصا ل کے بعد پو چھا ،کہ اے فا طمہ (رض) مجھے وہ راز کب بتاؤ گی؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ابھی اوراسی وقت اور فر ما یا کہ میں جس با ت پر رو ئی تھی، وہ حضور (ص) کے وصا ل کی خبر تھی اور جس با ت پر ہنسی وہ مجھے یہ بشارت تھی کہ تم جنت میں خواتین کی سردار ہو گی اور سب سے پہلے مجھ سے آملو گی ۔اور وہ پیشنگو ئی اسی طر ح پو ری ہو ئی کہ حضرت فا طمہ (س) حضور (ص) کے وصا ل کے صرف چھ ما ہ بعد حضو ر (ص)سے جا ملیں ۔اس سلسلہ کی ایک اورحدیث حضرت عمر (رض) سے بھی منسوب ہے جس کو مسلم اور بخا ری دو نوں نے تحریر کیا ہے کہ انہو ں نے فر ما یا کہ آیت الیو م اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الا سلام دینا۔ جمعہ کو عرفہ میں نا زل ہو ئی اور حضرت عمر یہ آیت سن کر روپڑے، جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ کیو ں رو رہے ہیں تو انہو ں نے بتا یا کہ ہر کما ل کے بعد کمی ہی ہو تی ہے گو یا حضور (ص)کے وصال کا انہیں ادراک ہو گیا تھا ۔ اس کے بعد مدینہ میں پہنچنے کے بعد بھی ایک دن خطبہ دیتے ہو ئے فر ما یا جسے طبرانی نے بیا ن کیا ہے کہ ان تک متعدد حوالوں کے سا تھ یہ روایت پہنچی ہے کہ ایک دن حضور (ص) نے مدینہ منورہ میں منبر پر تشریف فر ما ہو ئے۔

پہلے اللہ تعا لی کی حمد وثنا بیان فر ما ئی پھرفر مایا ”اے لو گو! مطلع ہو جا ؤ کہ ابو بکر (رض) نے مجھے کبھی دکھ نہیں پہنچا یا،اے لو گوں میں ابو بکر عمر عثمان طلحہ زبیر عبد الر حمٰن بن عو ف اور اولین مہا جرین (رض) سے راضی ہو ں ۔پس تم اس سے با خبر رہو ۔اور اے لو گو !یہ بھی مجھ سے جا ن لو کہ میرے اصحاب ، میرے احبا ب میرے رشتہ داروں کی کسی بھی نا ا نصا فی کے بارے میں تم سے اللہ تعا لیٰ نہیں پو چھے گا۔اے لو گو! اپنی زبا نوں کو مسلما نوں کے بارے میں بند کر لواور جب ان میں سے کو ئی شخص انتقال کرجا ئے، تو اس کے با رے میں اچھی با تیں کرو “۔ اس کے علا وہ ابن ِ اسحا ق نے تحریر کیا ہے کہ حضرت عبد اللہ (رض) بن جعفر سے کئی حوالوں سے یہ روایت پہنچی ہے کہ ابی مویہتہ نے بیان کیا کہ آپ نے ایک رات مجھ سے فر ما یا کہ مجھے جنّت البقیہ والوں کی مغفرت ما نگنے کا حکم ہوا ہے۔ لہذا تم میرے ہمراہ چلو حضو ر (ص) وہا ں تشریف لے گئے اور مزارات کے در میان کھڑے ہو گئے پھر فر ما یا ”اے اہلِ قبور تم پر سلا متی ہو،تم جس حا لت میں ہو اور لو گ جس حا لت میں ہو نگے (اللہ تعالیٰ ) اس میں تمہا رے لیئے آسا نیاں پیدا کرے ، فتنے اند ھیری رات کی طر ح یکے بعد دیگرے آرہے ہیں اور ہر دوسرا فتنہ پہلے سے بد تر ہے ۔ پھر ان کے لیئے مغفرت کی دعا فر ما ئی ۔ پھر میری طر ف متوجہ ہو کر فر ما یا کہ مو یہتہ مجھے دنیا کے خزا نو ں اور دا ئمی زند گی اور پھر جنت کی چا بیاں دی گئیں اور مجھے (ص)اس کے در میان اور اپنے رب کی ملا قات اور جنت کے در میان اختیا ر دیا گیا ۔ تو میں نے عرض کیا میرے ما ں باپ آپ (ص) پر قر با ن ہو ں ۔ جنت کی چا بیا ں اور دائمی زند گی قبو ل فر ما لیں۔ تو حضو ر (ص) نے فر ما یا کہ اے ابو مو یہتہ بخدا نہیں لو نگا میں نے (ص) رب کی ملا قات اور جنت کو پسند کر لیا ہے۔ “ اس کے بعد آپ (ص) واپس لو ٹ آئے ۔اسی حدیث کو امام احمد (رح) نے بھی عبید(رح) بن جبیر سے روایت کیا ہے وہ تھو ڑی سی اس سے مختلف ہے مگر مفہو م وہی ہے اس میں یہ ہے کہ حضور (ص) نے اہل ِقبور کے لیئے تین مر تبہ دعا کی اور پھر فر ما یا کہ میرے (ص) گھو ڑے پر زین ڈالو۔ عبد الر زاق بیا ن کر تے ہیں کہ معمر نے ابن ِ طا ؤس (رض)سے سنا کے اس نے اپنے با پ طاؤس (رض) سے سنا( آگے متن وہی ہے )اس کے علا وہ بھی کئی صحا بہ کرام سے یہ ہی فرما یا کہ ”مجھے (ص) زمین اور آسما ن کے خزا نوں کی کنجیا ں عنا یت فر ما ئیں ،اور اختیا ر دیا کہ میں دائمی زندگی لیلو ں“۔ اس پر ایک صحا بی نے فر ما یا کہ حضو ر (ص) ہما رے لیئے ہی قبول فر ما لیتے، تو فر ما یا کہ ” مگر میں (ص) نے اللہ تعالیٰ سے ملا قات کو تر جیح دی ۔ “ ابی مویہتہ کا بیان ہے کہ حضور (ص) وہاں سے تشریف لا نے کے بعد علیل ہو گئے اور مر ض الموت میں مبتلا ہو گئے۔ اس کے بعد شدید دردِ سر کی شکا یت فر ما نے لگے ۔اس سلسلہ میں حضر عا ئشہ (رض) سے ایک روایت ہے کہ جب حضو ر (ص) گھر تشریف لا ئے تو انہو ں (ص) نے درد سر کی شکا یت کی اس پر حضور (ص) نے فر ما یا کہ ”اے عا ئشہ میرا (ص) سر بھی درد سے پھٹا جا رہا ہے “۔(پھر ازرا ہِ تفنن) فر ما یا اگر تو مجھ (ص) سے پہلے مر جا ئے ،تو تجھے ضرر نہ ہو گا ،میں تیرے معا ملہ کو سنبھا ل لو نگا، تیری نما ز جنازہ پڑھو نگااور تجھے دفن کرونگا ۔ پھر میں نے(اسی لہجہ میں ) جواب دیا کہ واللہ ایسا نہیں ہو گا ،بلکہ آپ (ص) میرے ہی گھر میں پچھلے پہر آپ اپنی بعض عو رتوں سے خلو ت فر مائیں گے۔ تو رسول (ص) اللہ مسکرا پڑے ۔پھر آپ کا درد شدت اختیا ر کر گیا۔اور حضور(ص) اپنی بیویوں کے یہا ں حسبِ معمول چکر لگا رہے تھے کہ درد کی شدت نے آپ (ص) پر پو ری طر ح غلبہ پا لیا۔تب آپ (ص)کے اہل ِ خا ندان آپ کے ارد گرد جمع ہو گئے۔حضرت عبا س (رض) نے خیال ظاہر کیا کہ رسول (ص) اللہ کو ذات الجنب کی بیماری لاحق ہوگئی ہے،آؤ دوا دیتے ہیں ۔پس انہو ں نے آپ کو دوادی تو آپ کو افا قہ ہو گیا ۔ آپ نے پو چھا کہ دوا کس نے دی ،توانہیں لو گوں نے بتایا کہ آپ کے عم ِ محترم حضر ت عبا س (رض) نے ان کا خیا ل تھا کہ آپ کو ذا ت الجنب ہے۔آپ (ص) نے اس پر اظہا ر ِ نا پسند ید گی کیا اور فر ما یا یہ تکلیف شیطا ن کی طر ف سے ہو تی ہے۔ جو مجھے (ص) نہیں ہو سکتی۔پھر اس پرانہو ں (ص) نے اپنی بیو یو ں سے (جو آپ کی حا لت خراب سن کر وہاں جمع ہو گئیں تھیں ) اجا زت چا ہی کہ میرا (عا ئشہ ) کے گھر میں علا ج ہو! اسکی بیو یوں نے اجازت دیدی پھر آپ حضرت عباس (رض) اور ایک دو سرے آدمی کے سہا رے جس کا نام مجھے یا د نہیں، قدم گھسیٹتے ہو ئے تشریف لا ئے۔جب حضرت عبا س (رض) سے پو چھا گیا کہ وہ دو سرا آ دمی کو ن تھا تو انہو ں نے حضرت علی (رض) کا نا م لیا ۔پھر وہ آگے فر ما تی ہیں کہ جب حضور (ص) میرے گھر تشریف لے آئے تو ان (ص)کا درد اور بھی شدت اختیا ر کر گیا ۔آپ (ص)نے فر ما یا کہ مجھ پر ایسے سا ت مشکیزے پا نی کے ڈا لو جن کا منہ بند ہوتا کہ میں (ص) لو گوں کو وصیت کروں۔ پس ہم نے آپ (ص)کی بیوی حفصہ (رض) کے یہا ں سے لگن لیا اور اس میں بٹھا کر مشکیزوں سے پا نی ڈا لنے لگے،یہا ں تک کہ آپ (ص) نے اشارے سے بتا یا کہ کا م ہو گیا ۔ پھر آپ (ص) لو گوں کے پا س تشریف لے گئے اور نما ز پڑھا ئی اور خطبہ دیا۔ (باقی آئندہ)

SHARE

LEAVE A REPLY