لعل شہبازقلندر کے مزار پر حملے کے سہولت کاروں کا اب تک کوئی سراغ نہ مل سکا۔تفتیشی ادارے دھماکے کے مقام سے ملنےوالے سامان کی فارنزک جانچ پڑتال میں مصروف ہیں۔

سانحہ سیہون کے بعد شہباز قلندر کی نگری کی فضا سوگوار ہے مگر مقامی لوگوں کےحوصلے اب بھی بلند ہیںتاہم کیمروں کی ناقص کوالٹی کے باعث اب تک سی سی ٹی وی فوٹیج سے کوئی بھی مدد نہیں مل سکی ہے۔

دھماکے کی جگہ سے ملنے والے سامان اور دیگر مٹیریل کی فارنزک جانچ پڑتال سی ٹی ڈی اور حساس اداروں کے ماہرین کر رہے ہیں۔سیہون شریف میں سو سے زائد غیر رجسٹرڈ گیسٹ ہاؤسز کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔

پولیس نے محکمہ اوقاف سےمطالبہ کیا ہے کہ مزار کی سیکورٹی کے لیے واک تھرو گیٹ ، قطاروں کے لیے پائپس اور خواتین کی تلاشی کے لیے الگ کمرہ فراہم کیا جائے۔

گزشتہ روز عملے کے لئے محدود طور پرمزار کو کھولا گیا تھا، ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی انتظامات پورے ہونے کے بعد مزار کو زائرین کے لیے کھول دیا جائےگا۔

ادھر دھماکےمیں جاں بحق 4افرادکی لاشیں شہدادکوٹ پہنچادی گئیں ۔گزشتہ رات 2 میتیں شناخت کے بعد ورثا کےحوالےکردی گئیں تھیں۔عبداللہ شاہ میڈیکل سائنس انسٹی ٹیوٹ میں اب بھی تین میتیں رکھی ہوئی ہیں۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سیہون کے سرکاری اسپتال میں 76 جبکہ 12افراد نواب شاہ،جامشورو اوردیگراسپتالوں میں جاں بحق ہوئے

SHARE

LEAVE A REPLY