پاکستان کو دہشت گردانہ کارروائیوں سے غیرمستحکم کرنے میں افغانستان اور بھارت کا ہا تھ

0
103

پچھلے آٹھ دس دنوں سے ہمارے مُلک پاکستان میں افغانستان اور بھارت جیسے پڑوسی ممالک سے آنے والے دہشت گردوں نے سرزمین پاکستان میں آٹھ سے زائدمختلف مقامات پر اپنی دہشت گردانہ کارروائیاں کرکے متعدد معصوم او ربے گناہ پاکستانی شہریوں کے زندگی کے چراغ بجھا دیئے ہیں اور اِن دہشت گردوں نے اپنی اِن وحشیانہ کارروائیوں کے نتیجے میں متعددافراد کو زخمی کرکے اِنہیں تا حیات مفلوج اور معزور وں جیسی زندگی گزارنے پر مجبورکردیا ہے۔
یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ ہمارے شہریوں کو اِن کی زندگیوں سے محروم اور معزور کرنے والا کوئی اور نہیں بلکہ ہماری سرحد سے جوڑاہمارا دوست نما دُشمن مُلک افغانستان ہے افغانی پاکستان میں دہشت گردی کرنے سے پہلے ذراایک نظر پاکستان کے اُن احسانات پر بھی ضرور ڈال لیں جب یہ افغان روس جنگ کے دوران پاکستان میں پناہ گزین تھے اور پاکستان نے اِنہیں تب اپنے دامن اور دل میں جگہہ دی تھی جب آج کا بھارت جو اِن کاابھی اپنے مفادات کے حصول کے خاطر بڑادوست بناہواہے اِس نے بھی افغانیوں کو افغانستان کو ایک خطے ہی کیا بلکہ دنیا کا بھی غلیظ ترین اور گنداترین مُلک اور اِس کے شہریوں اور لوگوں کو دہشت گردی اور ہیروین کلچرکی فروغ میں صف اول کے بدنام ترین لوگ کہہ کر اپنے یہاں(بھارتی ایک انچ زمین پر بھی) پناہ دینے سے کھلم کھلا طور پر معذرت اختیار کرلی تھی اور آج یہی افغانستان ہے کہ جس نے تواحسان فراموشی کے دنیا کے تمام ریکارڈ توڑتے ہوئے امریکی ڈالرز اور بھارتی کرنسی کے عوض اپنے محسن دوست پاکستان میں دہشت گردی کرنے اور اِس دہشت گردی سے پاکستانی شہریوں کی جان و مال کے خاتمے کا ٹھیکہ ہی لے لیا ہے تب ہی افغانستان اپنے درندہ صفت دہشت گرد وں سے پاکستان میں انسانیت سوز دہشت گردی کرواکربھارتیوں اور امریکیوں سے اپنی وفاداری نبھارہا ہے اِن سے پیسے لے کر پاکستان سے نمک حرامی کرکے خود کو خطے کا ذلیل ترین ملک کا درجہ پارہاہے ۔
تا ہم اَب جب تک افغانستان نے پاکستان میں کی جا نے والی دہشت گردی اور اپنی سرحد سے پاکستانی سرحد میں دہشت گردی کی نیت سے بھیجے جانے والے دہشت گردوں کی تفصیلا ت پاکستان شیئر نہ کیں اور انہیں پاکستان کے حوالے نہ کیا اور اپنے یہاں روپوش پاکستان کو مطلوب دہشت گردوں کی پست پناہی کرتارہا تو پاکستان خطے میں بھارت کی طرح افغانستان کو بھی اپنا بڑادُشمن گردانے گا اور آئندہ اِس کے ساتھ بھی اُسی رویئے سے پیش آئے گا جس طرح خطے میں بھارت جیسے اپنے دُشمن سے پیش آتا ہے۔
بہرحال ، آج سانحہ سیہون شریف نے ساری پاکستانی قوم کو اپنی خودمختاری اور سا لمیت سے متعلق دائمی اور حتمی فیصلے کرنے اورسوچنے پر مجبور کردیاہے اور دوست دُشمن کی تمیز کئے بغیر صرف اپنی بقا ء اور سلامتی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اُس حد تک جانے کا حوصلہ اور ہمت دے دی ہے اَب جہاں ہمیں صرف اپنی سرحدوں اور اپنے استحکام سے متعلق انتہائی اقدام کرنے ہوں گے یہ سوفیصد درست ہے کہ پاکستان کو غیرمستحکم کرنے میں بھارت اور افغانستان کا ہاتھ ملوث ہے وہ اِس لئے کہ ایک طرف بھارت افغانستان اور دیگر پاکستان دُشمنوں کے ساتھ مل کر خطے میں اپنی چوہدراہٹ کا خواب دیکھ رہاہے تو دوسری جانب افغانستان بھی پاکستان سے خداواسطے کا بیر نکالنے کے لئے پاکستان میں دہشت گردی کررہاہے۔
اِس موقع پر ضرورت اِس امر کی ہے کہ قوم کو پُرسکون رہے اور صبر و برداشت سے کام لے اور اُمید رکھے کہ ہماری فوج اور سیکیورٹی پر معمور ادارے قوم کو ما یوس نہیں کریں گے اورہمارے دُشمن کبھی بھی ہمیں غیر مستحکم کرکے اپنے گھناؤنے عزائم میں کا میا ب نہیں ہوسکیں گے ۔
اِس سے قطعاََ انکار نہیں ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران سرحد پار افغانستان اور بھارت سے آنے والے دہشت گردوں نے سرزمینِ پاکستان دہشت گردی کے آٹھ واقعات میں معصوم اور بے گناہ نہتے پاکستانیوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنا کر ایک بار پھر لہولہان کردیا ہے یوں ایک بار پھر پاکستانی قوم کا ایک ایک بچہ غم سے نڈھال ہے جہاں پاکستانی قوم دہشت گردی کی حالیہ لہر میں اپنے سو پیاروں کی شہادت اور متعدت زخمیوں کے دُکھ میں صبروبرداشت کا دامن تھامے برابرکی شریک ہے تووہیں اپنے دشمنوں کو عبرت ناک سبق سیکھانے کا عزم بھی لئے ہوئے ہے اِس دُکھ کے لمحے میں پوری پاکستانی قوم غم و غصے سے چاکِ گریبان ہے اور چیخ چیخ کر دنیا کو یقین دلارہی ہے کہ آج آپریشن ضرب عضب کی بھرپور کامیا بی کے بعد ایک انتہائی قلیل مدت تک امن و آشتی کے قیام کے بعد ہی پاکستان کے شہروں لاہور، پشاور کوئٹہ اور سیہون شریف میں المناک دہشت گردی کی حالیہ لہر کے ڈانڈے افغانستان اور بھارت سے ہی ملتے ہیں اور پاکستان میں دہشت گردی کی نئی لہر کے ماسٹر مائنڈ بھارت اور افغانستان میں چھپے بیٹھے ہیں،اِن کے یار اور دنیا کے ٹھیکدار اِنہیں سمجھا ئیں ورنہ اِن کی قسمت کا فیصلہ پاکستان خود بھی کرناجا نتاہے اور اگر پاکستان نے ایسا کردیاتو پھر کوئی پاکستان سے کوئی شکایت نہ کرے۔
تاہم اَب اِس منظر اور پس منظر میں کوئی کچھ بھی کہے اور چاہئے جیسی بھی مصالحت اور مفاہمت کی پالیسی کا دامن تھامے مگر اِس سے انکار ہرگز نہیں ہے کہ مُلک میں دہشت گردی کی نئی اور حالیہ لہر میں سو فیصد بھارت اور افغانستان ہی ملوث ہیں جوسی پیک اور اقتصادی راہداری منصوبے سے پاکستان کے استحکام اور سالمیت سے خوف زدہ ہیں اور یہی وجہ ہے کہ بھارت اور افغانستان مل کر پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرکے اِسے دنیا کی نا کام اور غیر محفوظ ریاست گرداننے کے لئے حالیہ دہشت گردی میں پوری طرح ملوث ہیں ۔
اگرچہ اَب اِس میں بھی کوئی دورائے نہیں ہے کہ اِس موقع پر آرمی چیف کا دہشت گردوں کو کیفرکردار تک پہنچانے اور اپنے معصوم شہریوں کے خون کے ایک ایک قطرے کا فوری حساب لینے کے بیان سے قوم کا حوصلہ بلند ہوا ہے اوردُعا کرتی ہے کہ اللہ ہمارے آرمی چیف کو ہمت دے کہ وہ ہمارے دُشمنوں کو فوری سبق سیکھائیں اور مُلک و قوم کو بھارت اور افغانستان جیسے دیگر دُشمنوں سے محفوظ بنا ئیں ۔
بہرحا ل ، اَب یہ ہماری حکومت اور افواج پاک اور سیکیورٹی پر معمور اداروں کی ذمہ داری ہے کہ یہ افغانستان اور بھارت سے کس طرح نمٹتے ہیں اور اِن دونوں ممالک سے اپنے بلا لچک موقف اور رویئے کا اظہار کس انداز سے کرتے ہیں اور اِنہیں لگام دینے کے کیا اور کیسے کیسے سخت اقدامات اور انتظاما ت کو یقینی بنا کر سرحد پار بھارت اور افغانستان سے دہشت گردی کو روکنے میں کامیاب ہوکر مُلک کے شہریوں اور شہروں کی حفاظت کو یقینی منا تے ہیں؟؟

محمداعظم عظیم اعظم

SHARE

LEAVE A REPLY