٭19 فروری 1275ءحضرت لعل شہباز قلندر کی تاریخ وفات ہے

0
307

٭19 فروری 1275ء مطابق 21 شعبان 673ھ سندھ کے مشہور صوفی بزرگ حضرت لعل شہباز قلندر کی تاریخ وفات ہے۔
حضرت لعل شہباز قلندر کا اصل نام سید محمد عثمان مروندی تھا اور آپ کا سلسلہ نسب گیارہ واسطوں سے حضرت امام جعفر صادقؑ سے ملتا ہے۔آپ 1177ء مطابق 573ھ میں مروند کے مقام پر پیدا ہوئے۔ آپ نے ظاہری اور باطنی علوم کی تحصیل اپنے والد بزرگوار حضرت ابراہیم کبیرالدین سے کی۔ قرآن مجید حفظ کرنے کے بعد آپ نے ہندوستان بھر کی سیاحت کی اور مختلف اولیائے کرام کی صحبت سے مستفید ہوئے جن میں شیخ فرید الدین گنج شکرؒ، حضرت بہائو الدین زکریا ملتانیؒ، شیخ بوعلی قلندرؒ اور مخدوم جہانیاں جلال الدین بخاریؒ کے نام سرفہرست ہیں۔ پھر آپ نے مستقل سکونت کے لیے سہون شریف کے مقام کو منتخب کیا اور وہاں رشد و ہدایت کا سلسلہ شروع کیا۔ آپ ہمیشہ سرخ رنگ کا لباس زیب تن کرتے اس لیے آپ کو لعل کا خطاب عطا ہوا۔ شہباز کا خطاب آپ کو اس لیے دیا گیا کہ ایک مرتبہ آپ نے اپنے ایک مرید کو بے وجہ پھانسی سے بچانے کے لیے ایک جست لگائی اور اسے پھانسی سے بچالیا جبکہ قلندر کی وجہ تسمیہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ آپ کا تعلق سلسلہ قلندریہ سے ہے۔ آپ نے 19 فروری 1275ء مطابق 21 شعبان 673 ھ کو سہون میں وفات پائی،جہاں آپ کا مزار مبارک آج بھی مرجع خلائق ہے۔
————————-

آغا طالش کی وفات

* پاکستان کے نامور فلمی اداکار آغا طالش کا اصل نام آغا علی عباس قزلباش تھا اور وہ 10 نومبر 1923ء کو لدھیانہ میں پیدا ہوئے تھے۔
انہوں نے قیام پاکستان سے پہلے بمبئی میں بننے والی فلم سرائے سے باہر سے اپنی فلمی زندگی کا آغاز کیا۔ قیام پاکستان کے بعد وہ پہلے ریڈیو پاکستان پشاور سے منسلک ہوئے اور پھرفلمی دنیا سے وابستہ ہوگئے۔ پاکستان میں ان کی مشہور فلموں میں نتھ، جھیل کنارے، دربار حبیب، سات لاکھ، باغی، شہید، سہیلی ،فرنگی، زرقا، وطن، نیند، کنیز، لاکھوں میں ایک، زینت، امرائو جان ادا اور آخری مجرا کے نام سرفہرست ہیں۔ انہوں نے 7 فلموں میں نگار ایوارڈ حاصل کیا تھا۔
آغا طالش 19 فروری 1998ء کو وفات پاگئے۔ وہ کریم بلاک علامہ اقبال ٹائون لاہور کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
————————-
صہبا اختر کی وفات

٭ اردو کے ممتاز شاعر صہبا اختر کا اصل نام اختر علی رحمت تھا اور وہ 30 ستمبر 1931ء کو جموں میں پیدا ہوئے۔
ان کے والد منشی رحمت علی، آغا حشر کاشمیری کے ہم عصر تھے اور اپنے زمانے کے ممتاز ڈرامہ نگاروں میں شمار ہوتے تھے۔ صہبا اختر نے بریلی سے میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد علی گڑھ یونیورسٹی میں داخلہ لیا مگر اسی دوران پاکستان کا قیام عمل میں آگیا اور انہیں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ پاکستان آنا پڑا۔ پاکستان آنے کے بعد صہبا اختر نے بہت نامساعد حالات میں زندگی بسر کی پھر انہوں نے محکمہ خوراک میں ملازمت اختیار کی اور اسی ادارے سے ریٹائر ہوئے۔ صہبا اختر کو شعر و سخن کا ذوق زمانہ طالب علمی سے ہی تھا۔ وہ ایک زود گو شاعر تھے۔ انہوں نے نظم، قطعہ، گیت ، ملی نغمے، دوہے اور غزل ہر صنف سخن میں طبع آزمائی کی۔ ان کے مجموعہ ہائے کلام میں سرکشیدہ، اقرا، سمندر اور مشعل کے نام شامل ہیں۔ حکومت پاکستان نے انہیں ان کی وفات کے بعد صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔
صہبا اختر 19 فروری 1996ء کو کراچی میں وفات پاگئے اور گلشن اقبال کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔
ان کا ایک شعر ملاحظہ ہو:
یہ کون دل کے اندھیروں سے شام ہوتے ہی
چراغ لے کے گزرتا دکھائی دیتا ہے

SHARE

LEAVE A REPLY