اسے کیا کچھ خبر ہے زندگی کیسے بیتانی ہے۔ کاظم کاظمی

0
81

اسے کیا کچھ خبر ہے زندگی کیسے بیتانی ہے۔
مگر ہم سے جدا ہونے کی اس نے دل میں ٹھانی ہے

چھڑا ہے قصہ_الفت ہماری بات رہنے دو
کہ ہم نے دل کی چھلنی سے بڑی یہ خاک چھانی ہے

پری اک ماہ رو اتری تھی جب باغیچہ_دل میں
کہا اس نے کہ اب تو زندگی تم سنگ بیتانی ہے

میں اس کے گیسوو رخسار و لب کی کیاثنا کرتا
ہوا جو روبرو بولا حورتو یہ آسمانی ہے

گرائے زلف تو چمکیلے دن پہ تیرگی چھائے
دکھائے وہ رخ_ تاباں لگے صبح سہانی ہے

یہ سارے استعارےاورکنائے بے اثر پھوٹے
میرے دل آشیاں پہ اپنوں نے بجلی گرانی ہے

اور پھرکچھ دوستان_باوفا نے پھول دے مارے
وہ بولے اس بلا سے جان تیری اب چھڑانی ہے

بھلا دو اب یہ قصہ دلبروں کی بے وفائی کا
کہ رورو تم نے کاظم پھر قیامت ہی اٹھانی ہے

کاظم کاظمی

SHARE

LEAVE A REPLY