پاکستان نے 2013 میں 3 ملین امریکی ڈالر کے مقابلے میں 2016 میں 23 ملین امریکی ڈالر کے کینو ملائیشیا برآمد کیے تھے، مگر اس سال موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث رواں سیزن میں پاکستان کی جانب سے برآمدی ہدف مکمل نہ کیے جانے کا امکان ہے۔

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کی علاقائی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین احمد جواد کے مطابق کینو کی برآمدات کا ہدف ساڑھے 3 لاکھ ٹن ہے، مگر اچانک ہونے والی شدید ژالہ باری کے باعث کینو کی پیداوار کم ہوئی، جس کی وجہ سے برآمد کنندگان اپنے خریداروں کی ڈیمانڈ پوری نہیں کرسکیں گے۔

ایف پی سی سی آئی کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا، ‘ماحولیاتی تبدیلیوں، موسموں میں تغیر اور زیر زمین پانی کے ذخائر کم ہونے کے باعث ہمارا زرعی شعبہ بری طرح متاثر ہو رہا ہے’۔

احمد جواد کے مطابق اگر مناسب اقدامات نہ اٹھائے گئے تو حالات مزید سنگین ہوسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے پوری دنیا متاثر ہو رہی ہے، اگر اس حوالے سے پیشگی حفاظتی انتظامات نہ کیے گئے تو پاکستان اس سے متاثر ہونے والا سب سے بڑا ملک بن سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں جرمنی کے شہر برلن میں ہونے والے فروٹ لاجسٹکا ایونٹ میں موسمیاتی تبدیلوں کا پتہ لگانے والے ریڈار کو پیش کیا گیا، اگر پاکستان میں بھی پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت ایسی ٹیکنالوجی متعارف کرائی جائے تو ہم کینو اور آم کو شدید ژالہ باری سمیت دیگر موسمیاتی تبدیلیوں سے تحفظ فراہم کرسکتے ہیں۔

احمد جواد نے کہا کہ سطح سمندر میں اضافے، موسمی اوقات میں تغیر و تبدیلی اور زیر زمین پانی کی سطح کم ہونے جیسے معاملات کا صرف ایک بار برا اثر نہیں پڑتا، بلکہ اس کے شہری اور دیہی علاقوں کے معاشی حالات پر بڑے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

عالمی بینک کے مطابق بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے معیشت کے مختلف شعبوں پر اثرات مرتب ہوں گے، خاص طور پر اس سے خوراک، توانائی اور پانی کے شعبے متاثر ہوں گے۔

پاکستان میں شدید گرمیوں اور بارشوں کے موسم میں تبدیلی کے باعث زرعی شعبے پر اس کے برے اثرات مرتب ہونے کے خدشات ہیں۔ْ

احمد جواد کا کہنا تھا کہ وقت آگیا ہے کہ حکومت موسمیاتی تبدیلوں سے نمٹنے کے لیے مؤثر حکمت عملی تیار کرے۔

SHARE

LEAVE A REPLY