ایران نے رواں برس اپنے شہریوں کو حج پر بھیجنے یا نہ بھیجنے کے سلسلے میں حتمی فیصلہ کرنے سے قبل اعلیٰ سطح کا ایک وفد مذاکرات کے لیے سعودی عرب بھیج دیا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران کے سرکاری ٹی وی نے اہنی رپورٹ میں بتایا کہ ایرانی وفد مذاکرات کے لیے گزشتہ دنوں سعودی عرب روانہ ہوا۔

اس وفد میں ایران کے حج و زیارت آرگنائزیشن اور ایرانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کے نمائندے شامل ہیں۔

ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق ایران کے وزیر برائے اسلامی رہنمائی و ثقافت رضا صالحی امیری نے بتایا کہ ‘اپنے شہریوں کو حج پر بھیجنے سے قبل ایران ان کی سلامتی اور عزت کی ضمانت چاہتا ہے’۔
خیال رہے کہ رواں برس دنیا بھر کے لاکھوں مسلمان فریضہ حج اگست کے آخر میں ادا کرنے کے لیے سعودی عرب پہنچیں گے تاہم اس کی تیاریاں اور عازمین حج کی تعداد پہلے ہی طے کرلی جاتی ہے۔

2015 میں حج کے دوران منیٰ کے مقام پر ہونے والی بھگدڑ کے نتیجے میں سیکڑوں افراد جاں بحق ہوگئے تھے جن میں اکثریت ایرانی شہریوں کی تھی۔

ایران نے اس سانحے کی ذمہ داری حج کے منتظمین پر عائد کرتے ہوئے ان کی اہلیت پر سوالات اٹھائے تھے اور 2016 میں ہونے والے حج میں اپنے شہریوں کو بھیجنے سے انکار کردیا تھا۔

دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات جنوری 2016 میں مزید کشیدہ ہوگئے تھے جب سعودی عرب نے شیعہ عالم دین کو سزائے موت دے دی تھی۔

اس واقعے کے بعد ایران میں مشتعل افراد نے تہران میں سعودی سفارتخانے پر دھاوا بول دیا تھا جس کے نتیجے میں سعودی عرب نے ایران سے سفارتی تعلقات منقطع کرلیے تھے۔

گزشتہ برس ایران اور سعودی عرب کے درمیان ایرانی عازمین حج کو ویزا جاری کرنے اور ان کی سیکیورٹی کے معاملات کی بناء پر دونوں ممالک میں حج مذاکرات ناکام ہوگئے تھے۔

ایران کا مطالبہ تھا کہ انہیں تہران میں موجود سوئس سفارت خانے کے ذریعے ویزا جاری کیے جائیں، کیوں کہ ایران میں موجود سعودی سفارت خانے کو نذر آتش کی جانے کے بعد بند کردیا گیا تھا۔

دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات کی وجہ سے حج مذاکرات ناکام ہونے کے بعد گزشتہ برس ایرانی عازمین حج کی سعادت سے محروم رہے تھے۔

SHARE

LEAVE A REPLY