آپ ہمارے موضوع پر حیران تو ہونگے مگر ہم سچ کہہ رہے ہیں کہ ہم آج خوش ہونا چاہتے ہیں کہ ہمارے ایک بڑے خاندان کے بارے میں کس طرح کُھل کر سچائی سامنے آرہی ہے اور دربان کس طرح ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں اپنے لیڈر کو بچانے کے لئے ۔دُکھ ہے کہ پاکستان سے زیادہ ہمارے حکمران طبقے کو خود کو بچانے کی فکر ہے ۔ہم اُن کے دائیں بائیں دیکھتے ہیں تو وہ ہی چہرے نظر آتے ہیں جو نام و نمود نہیں َ شاید اپنے فائدے کے لئے جدہر بھی ہوا کا رُخ دیکھتے ہیں اُدہر ہو جاتے ہیں ۔اور یہ ہی وہ حضرات ہیں جو ان لوٹنے والوں کی زرہ بکتر بنتے ہیں ۔

ہم خوش اس لئے ہیں کہ ہمیں آج تک یہ محسوس ہو رہا ہے کہ ہمارا ملک بدل رہا ہے پہلی سیڑھی پر قدم رکھ رہا ہے ،جس میں ہمارا عدالتی نظام شامل ہو رہا ہے ۔جو ہماری تکلیفوں کو محسوس کر رہا ہے کل کیا ہوگا ؟ ہمیں نہیں پتہ۔ لیکن ہم اُن لوگوں میں سے ہیں جو اُمید کا دامن تھامے رکھتے ہیں اور فلاح کی طرف دیکھتے ہیں ۔ہم محسوس کرتے ہیں کہ عوام کو بہت پیس دیا ہے اب ان تمام لوگوں کا احتساب لازمی ہے ،جنہوں نے ہمارے ساتھ ساتھ ہمارے ملک کو بھی لوٹا اور ڈکار تک نہیں لی ۔شاید ہم نے زندگی میں کبھی اتنا قانون نہیں سمجھا تھا جتنا ان آٹھ نوَ ماہ میں ہم نے سمجھ لیا سوائے ایک کڑی کے جو سمجھ میں نہیں آتی کہ شواہد کیسے ہونے چاہئیں ۔فلیٹ سمنے ہیں ،کمپنیاں سامنے ہیں کہتے ہیں ہمارے ہیں ۔پوچھو کہ پیسہ کیسے گیا کہتے ہیں نہیں بتاتے جاؤ ،ہر ادارہ جو پاکستان کا ادارہ ہے کہتا ہے کہ ہم مجبور ہیں ہمیں پتہ ہی نہیں کہ کیا کرنا ہے ؟؟ اور وہ بالکل کھلم کھلا شاہِ وقت کی حمایت کرتا ہے لیکن کوئی کچھ نہیں کر پاتا ۔بلکہ اُن کے ہرکارے پوچھتے ہیں کہ بتاؤ کہاں ہیں فلیٹ ،کہاں ہیں کمپنیاں ثبوت دو اور ہم اپنا سَر پیٹ کر رہ جاتے ہیں کہ ضمیر کدہر جا مرا ہے کیوں نہیں جاگتا ۔کون سا نشہ پلایا ہے ۔لوگ کہتے ہیں بریف کیسی نشہ ہے ہم نہیں جانتے ،مگر بس ہم آج خوش رہنا چاہتے ہیں کیونکہ کل اگر ہم پھر پیس دئے گئے تو شاید ہماری قوم کبھی بھی نہ اُٹھ سکے گی ۔

دُکھ ہمیں جب ہوا جب ہماری ساری توقعات جو ہمیں اپنے بڑوں سے تھیں کہ وہ کھل کر بتا دینگے کہ انہوں نے پیسہ کیسے بھیجا ،لیکن ہماری اُمید بَر نہیں آئی اور ہم حیران رہ گئے کہ بچائے منی ٹڑیل دی جاتی یہ کہا جاتا رہا کہ ملک سے ایک پیسہ نہیں گیا بے شک ہم مانتے ہیں ایک پیسہ نہیں گیا بلکہ کھربوں روپیہ گیا ہے جس کی کوئی لائن ہی نہیں ملتی اور یہ دونوں ہی خانوادے جس طرح پھلے پھولے اور ان کے اور ساتھی بھی وہ اپنی مثال آپ ہے ۔ایک اور بات جو ہمیں قطری خط سے پتہ چلی وہ یہ ہے کہ دوسروں کے لئے ہم اتنے ایماندار ہیں کہ وہ آنکھ بند کر کے ہمارے بڑوں کو اپنی جائیدادیں اور کروڑوں ڈالر دے دیتے ہیں بغیر کسی لکھت پڑھت کے جبکہ ہمارا مزہب تو کہتا ہے کہ لین دین کے وقت گواہ بھی رکھو اور لکھ بھی لیا کرو ۔

شیطان کو بھی وضاحت کا موقعہ دیا گیا تھا ؟؟؟

یہ وہ خبر ہے جو ہم نے پڑھی بھی اور سُنی بھی کہ عدالت میں ایک وکیل صاحب نے جو حکومت کے وکیل ہیں فرمایا کہ “شیطان کو بھی وضاحت کا موقعہ دیا گیا تھا ۔انتہائی دُکھی اور سانحہ سیہون پر رنجیدہ ہونے کے باوجود ہم اپنی مُسکراہٹ نہ روک سکے ۔ہمیں لگا کہ وکیل نے بہت اچھی اور انتہائی سمجھ کی بات کی کہ وہ خود اُن کے وکیل ہیں جنہیں وہ شیطان سمجھ رہے ہیں ،ہماری ناقص عقل میں تو یہ ہی آیا،بلکہ کبھی کبھی تو ہمیں یہ بھی لگتا ہے کہ وکیلوں کا ضمیر جاگ گیا ہے وہ جدہر بھی ہیں لیکن حق کا ساتھ دینا چاہ رہے ہیں شاید ،کاش ہم جو سمجھ رہے ہیں وہ سچ ہو
پاناما کا نامہ تیزی سے پڑھا جا رہا ہے سُنا جارہا ہے اور سُنتے ہیں کہ جلد فیصلہ آجائیگا ۔جو بھی ہو ایک اُمید کی کرن ضرور چمکی ہے کہ گھڑیال منادی کر رہا ہے کہ بس اب بہت ہو چکا اب بھی نہ سنبھلے تو پھر کبھی نہیں ۔یہ ہماری قوم کی ایک فتح بھی ہے کہ کچھ بڑے پہاڑ کے نیچے آئے ہیں ۔ہم اُمید کرتے ہیں کہ ایک اچھی اور مثبت روایت قائم کی جائیگی ملک کی دولت لوٹنے والوں کو جواب دہ کر کے ۔اگر ایسا نہ ہوا تو ہر کوئی آزاد ہوگا کہ جیسے چاہے دولت بنائے اور جہاں چاہے لے جائے ۔تہزیب یافتہ قوموں کی کچھ روایات ہوتی ہیں اُن پرکچھ بندشیئں ہوتی ہیں اگر ایسا نہ ہو تو پھر جانوروں اور انسانوں کا فرق مٹتا نظر آتا ہے جس کی زمے داری ہم انسانوں پر ہی ہوتی ہے ۔قانون جب تک موئثر نہیں ہوتا جب تک اُس پر عمل نہ کیا جائے ،اگر قانون کی عملداری ہو تو کبھی بھی بے ایمانی اور کرپشن آگے نہیں بڑھ سکتے ۔سگنل لگا دیں لیکن اگر اُس پر رُکنے کے لئے سب کو تیار نہیں کرتے، نہ رُکنے والوں کو سزائیں نہیں دینگے جُرمانے نہیں کرینگے تو کوئی بھی سگنل پر نہیں رُکے گا اور حادثات کی بھر مار ہوجائیگی یہ ہی حال ہر قانون کا ہے جب تک آپ اُسکی عملداری کو یقینی نہیں بنائینگے وہ صرف ایک کاغز کا ٹکڑا ہوگا اور کچھ نہیں ۔جن ملکوں میں قانون کی پاسداری کی جاتی ہے وہاں لوگ امن سے بھی ہیں اور بے ایمانیاں بھی آٹے میں نمک کے برابر ہیں ،اسی وجہ سے وہ خوشحال بھی ہیں ۔

گھڑیال منادی کر رہا ہے کہ غفلت مت برَتو۔ اب بھی اگر احساس نہ کیا تو وقت پھسل جائے گا ہاتھ سے مٹی کی طرح ،

اللہ میرے ملک کو بچائے ہر نقصان پہچانے والے سے ۔آمین

SHARE

LEAVE A REPLY