شدید علالت اسی دوران غسل فر مانا ، طبعت بحال ہونے پر آخری خطبہ اور خود کو احتساب کے پیش فر مانا

اور ابو بکر (رض) کی امامت میں نماز

ہم گزشتہ قسط میں یہاں تک پہو نچے تھے کہ حضو (ص)رنے سا ت مشکیزوں سے غسل فر ما یا اور نما ز پڑھا ئی اور خطبہ دیا۔آئیے اب آگے بڑھتے ہیں کہ وہ خطبہ کیا تھا جو در اصل آخری خطبہ ہے ۔اس خطبہ کی ضرورت بعض مو رخین کے نزدیک یو ں پیش آئی کہ جب حضو ر (ص)نے اپنے وصال سے پا نچ یو م پیشتر یہ فر ما یا کہ کسی کا تب کو بلا ؤ میں تمہیں وہ محضر نہ تحریر کرا دوں ،کہ تم قیا مت تک گمرا ہ نہ ہو ۔اس پر مو جو د لو گوں میں تکرار شروع ہو گئی۔ وجہ یہ تھی کہ ایک گروہ حضور (ص) کو بھی عا م لو گوں میں شما ر کر رہا تھا ،اور دوسرا نہیں! پہلے گروپ کا خیال تھا کہ مر ض المو ت کی کو ئی بات یا وصیت معتبر نہیں ہے۔وہ یہ بھو ل گئے تھے کہ حضور (ص) نے یہ ارشا د فر ما یا تھا کہ مجھے مو ت اور زند گی میں سے میرے (ص) رب نے اختیار دیا ہے۔ اور میں نے (ص) رب کی ملا قات کو چن لیا ہے ۔مگر اس سے وقتی طو ر پر رجو ع تو کیا جا سکتا ہے ۔کہ عام آدمی دیئے ہو ئے تحفے کو کبھی واپس نہیں ما نگتا ،اور اگر کو ئی واپس کردے تو اپنی بے عزتی محسو س کر تا ہے تو یہا ں تو معا ملہ بڑو ں کا ہی نہیں بہت بڑوں کا تھا ۔بہر حال دو نوں فریقوں میں اتنی تکرار بڑھی کہ حضو ر نے اشا رے سے منع فر ما دیا ۔اور اس کے متبادل کے طو ر پر یہ عمل اختیارکیا ۔اور جب غسل کے بعد طبیعت بحال ہو گئی تو منبر پر تشریف لے گئے ۔

یہاں اس کے بعدان قیا س آرا ئیو ں کی گنجا ئش نہیں رہی ،کہ حضور کیا فر ما نا چا ہتے تھے جس کو اکثر لو گو ں نے فتنو ں کی بنیاد بنا یا ،اس پر حضرت علی کا مر ض الموت میں یہ قول کہ میں خلا فت اسی طر ح چھو ڑو نگا، جس طر ح میرے آقانے چھو ڑی تھی ۔اور پھر مر ض المو ت میں حضرت عمر کا یہ ار شا د کے یہ میرے اختیا رمیں ہے کہ میں دو میں سے ایک کا راستہ اختیا ر کرلو ں ایک وہ جو مجھ سے بہتر ( ابو بکر )نے کیا یاجو ان سے بہتر (حضو ر)نے اختیار کیا۔ لیکن میں اِس کو قبو ل کرتا ہو ں۔لہذا جب غسل فرمانے کے بعد جب حضور (ص)کی طبعیت سنبھلی تو با ہر تشریف لا نے کےلئے فضل بن عبا س کی مدد طلب فر ما ئی ۔آگے ہم حضرت ابن ِ عبا س کی زبا نی ہی بیا ن کر تے ہیں جس کو امام بخا ری (رح) نے بیا ن کیا ہے ۔ ”حضور (ص) نے فر ما یا فضل میرا ہا تھ پکڑو“۔ میں نے آپکا (ص) ہا تھ پکڑ لیا، جو کہ بخا ر سے تپ رہا تھا میں نے کہا حضور (ص) آپکو تو شدید بخا ر ہے فر ما یا، ہا ں ! مجھے بھی عام لوگوں کی طر ح بخا ر ہو جا تا ہے ۔( میں انہیں ہا تھ پکڑ کر منبر تک لے گیا) حتیٰ کہ آپ (ص) منبر پر تشریف فر ما ہو گئے ۔پھر فر ما یا فضل (رض) منا دی کر دو تو میں نے لو گو ں کو جمع ہو نے کا اعلان کیا اور لو گ جمع ہو گئے تو رسول (ص) اللہ نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا ۔اور اللہ تعالی ٰ کی حمد و ثنا کے بعد فر ما یا ”اے لو گو! میرا تم سے بچھڑنے کا وقت قریب آگیا ہے اور تم مجھے (ص) اس جگہ پر ہر گز نہیں دیکھو گے ۔اور میں دیکھتا ہو ں کہ اس کے سوا کو ئی مجھے (ص) کفا یت کر نے والا نہیں ہے۔ یہاں تک کہ تم میں اس کا تعین اور تعدیل کر دوں، آگا ہ رہو ، میں (ص) نے جس شخص کی پیٹ پر ( اگر ) کو ڑا ما را ہے وہ میری پشت سے قصا ص لے لے،اور جس کا میں نے مال لیا ہے وہ اس مال سے اسے لے سکتا ہے۔ اور میں نے جس کی بے عزتی کی ہے وہ مجھ سے اس کا قصاص لے لے ۔ کو ئی یہ نہ کہے کہ میں رسول (ص) اللہ کی دشمنی سے ڈرتا ہوں، وا ضح ہو کہ دشمنی کر نا میری (ص) عا دت نہیں ہے۔ اور تم میں سے مجھے (ص)وہ شخص زیا دہ محبوب ہے جس کا میری (ص) طر ف حق ہے، وہ مجھ (ص) سے لے لے یا میرے لئے جا ئز قرار دیدے ۔کیو نکہ میں (ص) اللہ تعا لیٰ سے اس حا ل میں ملنا چا ہتا ہوں کہ میرے ذمہ کسی کی کو ئی بے انصا فی نہ ہو۔ حضرت فضل (رض) بیا ن کر تے ہیں کہ اس کے بعد ایک شخص اٹھ کر کھڑا ہوا، اور کہا کہ یا رسول (ص) اللہ تین در ہم میرے آپ کے ذمہ ہیں ۔ آپ نے فر ما یا نہ میں سا ئل کی تکذیب کرتا ہو ں نہ میرے ذمہ جو تین در ہم ہیں ان پر کسی قسم کا مطا لبہ کر تا ہو ں۔اس نے کہا کیا آپ کو یا د نہیں ہے کہ آپ (ص) کے پا س سے ایک سا ئل گزرا تو آپ (ص) نے مجھے حکم دیا ،کہ اس کو کچھ دیدو اور میں نے تین در ہم دے دیئے۔ آپ نے فر ما یا اے فضل (رض)اس کو تین در ہم دیدو ۔ پھر میں نے تین در اہم ادا کر دیئے ۔اور وہ آپ کے حکم پربیٹھ گیا۔ پھر رسول (ص) اللہ نے اپنے پہلے بیان کا اعا دہ فرمایا(اور مزید) فر ما یا کہ جس کے پا س کو ئی خیا نت کی کو ئی چیز ہو واپس کر دے، ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا کہ یارسول (ص)اللہ میرے پاس تین درہم ہیں، جو میں نے خیانت سے بیت المال سے حا صل کیئے ہیں۔ آپ (ص) نے فر ما یا کہ تو نے انہیں خیا نت سے کیو ں حاصل کیا ؟تو اس نے جواب دیا مجھے ان کی ضرورت تھی۔ آپ نے فر ما یا فضل (رض) اس سے تین در ہم لیلو۔پھر رسول (ص) اللہ نے انہیں الفا ظ کا سہ بارہ اعا دہ فر ما یا اوراس (میں ) مزیداضا فہ فر ما یا کہ جو کو ئی اپنے دل میں کسی قسم کا خلجان رکھتا، ہووہ کھڑا ہو جا ئے میں (ص)اللہ سے دعا کرونگا ۔تو ایک آدمی نے آپ کے پا س آکر کہا کہ یا رسول (ص) اللہ میں منا فق اور جھو ٹا ، اور منحو س ہو ں۔ ( یہ سن کر ) حضر ت عمر (رض) بن خطا ب نے کہا کہ اے شخص تیرا برا ہو اللہ نے تیری پر دہ پو شی کی ہے ،کاش تو اپنی پر دہ پو شی کرتا ۔ حضور (ص) نے فر ما یا اے ابن الخطا ب ٹھہرو! دنیا کی رسوائی آخرت کی رسوا ئی سے بہت ہیچ ہے،(پھرفر ما یا ) اےاللہ ! اسے صدق اور ایمان عطا فر ما اور جب وہ چاہے اس سے نحو ست دور فر ما دے پھر حضور (ص) نے فر ما یا، میں عمر (رض) کے سا تھ ہو ں اور عمر(رض) میرے سا تھ ہے۔ میرے بعد حق عمر (رض) کے سا تھ ہے ۔مگر دوسرے محد ثین اور مورخین نے اتنی تفصیل بیان نہیں کی ۔ ان دو سری احادیث میں کچھ حصہ حضرت ابو بکر (رض) کی عظمت کے بارے میں بیان کر کے چھو ڑ دیا گیا ہے۔ جو اس حدیث میں بیا ن نہیں ہوا ہے ۔ مثلا ً امام بیہقی (رح) بیان فر ما تے ہیں کہ ان تک یہ حدیث متعدد حوالوں کے سا تھ اس طر ح پہنچی کہ ایوب بن بشیر نے فر ما یا کہ آپ (ص) حجرہ مبارک سے با ہر نکلے اور منبر پر تشریف فر ما ہو ئے اور بعد حمد و ثنا الٰہی سب سے پہلے احد کے اصحاب کا ذکر فر ما یا اور ان کی مغفرت کی دعا فرما ئی ۔ پھر فر ما یا کہ اے گروہ ِ مہاجرین تم میں اضا فہ ہو رہا ہے اور انصا ری اپنی ہیئت پر ہیں، ان میں اضا فہ نہیں ہو رہا ہے اور وہ میرے (ص) راز کی جگہ ہیں۔ جس کی میں (ص) نے پنا ہ لی ہے پس ان کے ساتھ کرم اور تکریم کرواور ان کے خطا کا ر سے در گزر کرو،پھر حضو ر (ص) نے فر ما یا کہ اے لو گو ! اللہ کے ایک بندے کو اللہ نے اختیا ر دیا ہے کہ جودنیا میں ہے اورجو اللہ کے پاس ہے(چن لے )اور اس(ص) نے جو کچھ اللہ کے پا س ہے منتخب کر لیا۔ پس لو گو ں میں سے حضرت ابوبکر (رض) نے اس رمز کو سمجھا اور رو پڑے اور عرض کیا ہم اپنی جا نوں ،اموال اور اولاد کو آپ پر قر با ن کر دیں گے۔ حضور (ص) نے فر ما یا اے ابو بکر (رض) آہستہ اور پر وقار رہو( پھر فر مایا) مسجد میں ان کھلنے والے دروا زوں کی طرف دیکھو،اور ابو بکر (رض) کے گھر سے آنے والے در وازے کے سوا سب در وازوں کو بند کردو،مجھے (ص)کسی شخص کے با رے میں معلو م نہیں کہ وہ صحبت کے لحا ظ اس سے بہتر ہو۔اور ابن ِ اسحا ق (رح) نے اسی حدیث کو کچھ اور اضا فے کے سا تھ بیا ن کیا ہے کہ ” تم میں سے میرے بھا ئی اور دوست بھی ہیں اور میں ہر دوست کی دوستی سے برا ءت کا اظہا ر کر تا ہوں۔اور اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو دوست بنا تا تو میں ابو بکر (رض) کو دوست بنا تا اور بلا شبہ میرے رب نے مجھے (ص) ابرا ہیم خلیل اللہ کی طر ح دوست بنا یاہے اور تم سے پہلے کچھ لو گ گزرے ہیں ،جو اپنے انبیا ء کی قبو ر کو سجدہ گا ہ بنا لیتے تھے ،پس تم قبو ر کو سجدہ گا ہ نہ بنا نا۔ میں تم کو اس سے منع کر تا ہو ں۔“ اسے امام مسلم (رح) نے اپنی کتا ب میں در ج کیا ہے ۔ان تینو ں روایات میں تقریباً پو را خطبہ سا منے آجا تا ہے۔اور ہمارا یہ ہی مقصد تھا کہ ہم ان آخری ارشا دات کو اپنے نا ظرین کے سامنے لے آئیں تا کہ وہ حضور (ص) کے آخری ارشادات سے پو ری طر ح مستفید ہو سکیں رہا یہ مسئلہ کہ کسی نے زیا دہ بیان کیا کسی نے کم تو اس کی وجہ ہما ری نظر میں یہ ہے کہ ہر ایک کی یا داشت ایک جیسی نہیں ہو تی اور ترجیحات بھی مختلف ہو تی ہیں لہذا ذہن میں وہ ہی با ت محفو ظ رہ جا تی جو ، جس کے لیئے جو اہم ہو تی ہے ۔ واللہ عالم۔

آپ (ص)کا حضرت ابو بکر کو اما مت کےلئے مقرر فر ما نا:

امام احمد (رح) نے ابن ِ اسحاق (رح) کے والد کے حوالے سے اور انہو ں نے کئی واسطو ں سے عبداللہ (رض) بن زمعہ بن الاسود بن عبد المطلب سے سنا کہ حضو ر (رص) جب بہت ہی نحیف ہو گئے تو زمعہ (رض) کو حکم دیا، کہ وہ اما مت کے لیئے ابو بکر (رض) کو بلا لا ئے۔اتفا ق سے وہ نہیں ملے اور حضرت عمر (رض)مل گئے ،لہذا وہ انہیں بلا لائے۔لیکن جب حضور (ص) نے تکبیر سنی تو انہوں نے حضرت عمر (رض) کی آواز پہچا ن لی۔اور فر ما یا کہ ابو بکر (رض) کہا ں ہیں ۔اللہ اور مسلمان اس با ت سے انکا ر کریں گے۔ درایں اثنا حضرت ابو بکر (رض) بھی تشریف لے آئے اور لو گوں نے ان کے پیچھے (دو بارہ ) نما ز پڑھی ۔ حضرت زمعہ (رض) بیا ن فر ما تے ہیں کہ عمر (رض) اس با ت پر مجھ پر خفا ہو ئے اور فرما یا کہ تیرا برُا ہو تو نے جب مجھ سے کہا تو میں یہ سمجھا کہ حضور (رض) نے تجھے میری طر ف بھیجا ہے۔ خدا کی قسم اگر یہ با ت نہ ہو تی تو میں نما ز نہ پڑھا تا۔ ( باقی آئندہ)

SHARE

LEAVE A REPLY