داعشی جنگجوؤں کی بڑی تعداد نے عراقی فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے

0
116

عراق کی سیکیورٹی فورسزکی جانب سے موصل کے مغربی حصے میں شدت پسند گروپ ’داعش‘ کے خلاف آپریشن کے دوران گھمسان کی جنگ کے بعد مزید کئی اہم مقامات پر کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ دوسری جانب ذرائع کے مطابق جمعہ کے روز داعشی جنگجوؤں کی بڑی تعداد نے عراقی فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

عراقی سیکیورٹی فورسزکےایک ذمہ دار ذریعے کے مطابق کل جمعہ کو سیکیورٹی فورسز مغربی موصل کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوگئی ہیں۔ فورسز شہر کے مرکزی ہوائی اڈے کو خالی کرانے کےبعد اس میں داعش کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگوں کی تطہیر کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس دوران محاصرے میں آنے والے داعشی جنگجوؤں کی بڑی تعداد نے فوج کے سامنے ہتھیار ڈال کرخود کو فوج کے حوالے کردیا ہے۔

عراقی فیڈرل پولیس چیف رائد شاکر جودت کا کہنا ہے کہ مغربی موصل کے ہوائی اڈے کو داعش سے مکمل طور پر آزاد کروا لیا گیا ہے۔ پولیس اب فضائیہ کالونی اور اس کے اطراف میں دیگر آبادی والے علاقوں کی طرف پیش قدمی کررہی ہے۔

عراقی فوج کے بریگیڈ ’نینویٰ ہم آرہے ہیں‘ کے چیف جنرل عبدالامیر رشید یارا اللہ نے جمعہ کے روز ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ فوج نےمغربی موصل کے ہوائی اڈے کو داعش سے چھڑانے کے بعد الغزلانی کیمپ بھی آزاد کرالیا ہے۔

قبل ازیں جمعہ کو یہ اطلاعات بھی آئی تھیں کہ معسکر الغزلانی میں مسلسل دو روز سے گھمسان کی جنگ جاری ہے۔ تاہم شدید لڑائی کے بعد عراقی فوج نے اس کیمپ کے اہم مقامات پر کنٹرول حاصل کرنے کےبعد ان پر عراقی پرچم لہرا دیا تھا۔

جنوب مغربی موصل کی طرف سے پیش قدمی کرنے والی فورسز کے ذرائع کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی کے دوران داعش کی دفاعی سپلائن لائن کاٹنے کے بعد فورسز نے المامون اور تل الرمان کالونیوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ اس لڑائی میں عراقی بری فوج کو عالمی اتحادی فوج کے جنگی طیاروں کی بھرپور مدد حاصل ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY