اقتصادی تعاون تنظیم(ای سی او) ایک اہم پلیٹ فارم

0
101

پاکستان ،ترکی ،ایران ،افغانستان ،ازبکستان، تاجکستان،آذربائیجان ،ترکمانستان ،کرغزستان اور قازقستان ای سی کے رکن ہیں۔اقتصادی تعاون تنظیم(ای سی او) کی بنیاد 1964میں علاقائی تعاون تنظیم(آئی سی ڈی) کے نام سے رکھی گئی،پاکستان ،ترکی اور ایران اس کے بانی رکن ممالک میں شامل تھے اور اسی سال ستمبر کے مہینے میں اس کا پہلا اجلاس ایران کے شہر ازمیر میں ہوا تنظیم کے قیام کا مقصد تینوں رکن ممالک کے درمیان روابط کا فروغ تھا 1977میں’’ازمیر معاہدے ‘‘کے نا م سے ایک معاہدہ رکن ممالک کے درمیان ایران میں ہوا۔بعد میں ایران میں آنے والے انقلاب کے بعد اس تنظیم کا عمل معطل ہو گیا 1985ء میںدوبارہ اس فورم کو دو اقتصادی تعاون تنظیم(ای سی او ) کے نام سے فعال کیا گیا۔1992ء میں اس میں مزید 7 ممالک شامل ہوئے جن میں افغانستان ،ازبکستان، تاجکستان،آذربائیجان ،ترکمانستان ،کرغزستان اور قازقستان شامل ہیں جس کے بعد اس کے رکن ممالک کی تعداد 10ہوگئی۔

اس کے بعد1996ء میں ازمیر معاہدے کے نقاط میں بھی اہم تبدیلیاں کی گئیں۔ ای سی او کا بنیادی مقصد ممبر ممالک کی پائیدار ترقی کو ان ممالک کے درمیان تجارت اور معاشی سرگرمیوں کے ذریعیفروغ دینا ہے۔ ای سی او کا ہیڈ کوارٹر تہران میں ہے ترکی کے حلیل ابراہیم اس وقت تنظیم کے سیکرٹری جنرل ہیں ۔تنظیم کے چار بنیادی ادارے ہیں جن میں وزارتی کونسل، علاقائی منصوبہ بندی کونسل،مستقل نمائندوں کی کونسل اور سیکرٹریٹ شامل ہیں۔ وزارتی کونسل پالیسی سازی اور فیصلہ سازی کے حوالے سے ای سی او کا سب سے بڑااور اہم ادارہ ہے جس میں تمام رکن ممالک کے وزراء خارجہ شامل ہیںاس کاا جلاس سال میں ایک بار ہوتا ہے۔مستقل نمائندوں کی کونسل تہران میں رکن ممالک کے سفیروں پر مشتمل ہے اس کا اجلاس ہر ماہ ہوتا ہے جس میں سیکرریٹ کی سرگرمیوں کا جائزلیا جاتا ہے او رتنظیم سے متعلق روزانہ کی بنیادوں پر فیصلے کئے جاتے ہیں۔علاقائی منصوبہ بندی کونسل میں رکن ممالک کے منصوبہ بندی کے اداروں کے سربراہان شامل ہوتے ہیںاس کاا جلاس سال میں ایک بار ہوتاہے جو وزارتی کونسل کے اجلاس سے پہلے منعقدکیا جاتا ہے اس کا گزشتہ اجلاس 5سے8دسمبر 2016کو ای سی او سیکرٹریٹ تہران میں ہوا تھا۔اس کے علاوہ تنظیم کے تحت مختلف ادارے کام کرتے ہیں جن میں کلچرل انسٹیٹیوٹ تہران میں،سائنس فائونڈیشن پاکستان،ایجوکیشنل انسٹیٹیوٹ ترکی،کنسلٹنسی اینڈ انجنیئرنگ کمپنی پاکستان،کالج آف ایشورنس ایران،ٹریڈ اینڈ ڈیویلپمنٹ بنک ترکی،پاکستان اور ایران،چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری پاکستان،انسٹیٹیوٹ آف انوائرنمنٹل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ایران،پوسٹل سٹاف کالج اسلام آباد،سیڈ ایسوسی ایشن ترکی،ریجنل سنٹر فاررسک منیجمنٹ آف نیچرل ڈیزاسٹرزایران،ریجنل کوارڈینیشن سنٹر فار فوڈ سیکورٹی ترکی اور ری انشورنس کمپنی ترکی میں کام کر رہے ہیں۔

ای سی او کا سربراہی اجلاس تنظیم کو سیاسی حمایت اور رہنمائی فراہم کرتا ہے ۔ ای سی او تنظیم کی طویل المدتی تین ترجیحات ہیں جن میں ٹرانسپورٹ اور مواصلات کے انفراسٹرکچر کی بہتری، تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے سہولیات فراہم کرنا اور خطے کے توانائی کے وسائل کا موثر استعمال شامل ہیں۔ ای سی او کی اہم کامیابیوں میں ٹرانزٹ ٹریڈ فریم ورک ایگزیمنٹ ،ای سی او ٹریڈ اینڈڈپویلپمنٹ بینک،ای سی او فری ٹریڈ ایریا، ای سی او فنڈبرائے افغان تعمیر نو شامل ہیں۔ای سی او فری ٹریڈ ایریاپر جولائی 2003 کامرس و بیرونی تجارت کے حوالے دوسرے وزارتی اجلاس کے موقع پر دستخط کیے گئے اور 24اپریل 2008کو اس پر عملدرآمد کا آغاز ہوا۔یہ تنظیم کی طرف سے تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کے خاتمے کے حوالے سے اہم قدم ہے۔ ٹرانزٹ ٹریڈ فریم ورک ایگزیمنٹ ٹرانسپورٹ کے شعبے کی بنیادی دستاویز ہے یہ اشیاء کی نقل و حمل کے اخراجات میں کمی کے حوالے سے تاریخی اقدام ہے۔اس سے خطے میں ٹرانزٹ ٹریڈکے لیے ٹرانسپورٹ کے نظام کو جدید بنانے میں مدد ملے گی۔ای سی او ٹریڈ اینڈڈپویلپمنٹ بینک کا قیام 1995میں عمل میں آیا تھاجس نے 2008میں اپنے آپریشنز کا آغاز کیا بنک کے قیام کے اہم مقاصد میں ای سی او ممالک کے درمیان پبلک پرائیویٹ سرمایہ کاری کے لیے سہولیات فراہم کرنا ہے یہ بنک ای سی او تنظیم کے اقتصادی بازو کی حیثیت رکھتاہے۔

ای سی اوفنڈ فار ری کنسٹرکشن آف افغانستان بھی تنظیم کا ایک اہم قدم ہے اس کی منظوری ستمبر 2014میں دوشنبے میں ہونے والے وزارتی کونسل کے اجلاس میں دی گئی تھی ۔ یکم مارچ کو اسلام آباد میں ہونے والا ای سی او سربراہی اجلاس اہم ہے، ای سی اومیں شامل اہم ممالک درپیش چیلنجز پر قابو پانے کی مشترکہ قوت رکھتے ہیں جو مل کرخطے میں تبدیلی لا سکتے ہیں۔ علاقائی روابط کے فروغ کے لیے سی پیک کا کرداربھی ایک عمل انگیز کا ہے، ای سی او ویژن 2025ء کی منظوری بھی اہم ہے اس سے ای سی او باہمی طور پر منسلک اور پائیدار معیشت بن جائے گا۔

SHARE

LEAVE A REPLY