اِس حقیقت میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہم نے جب سے اپنے گریبان میں جھانکنے کی عادت چھوڑی ہے تو ہم ہر اُس بُرائی کے بدبودار دلدل میں دھنستے چلے گئے ہیں آج جیسے دنیا کی تہذیب یافتہ اقوام اپنی تباہی اور بربادی کا بنیادی سبب سمجھ کر برسوں پہلے اپنی جان چھڑاچکی ہے یعنی یہ کہ اپنے فرائض سے غفلت برتنا اور اپنے کا م اور اپنی ذمہ داری سے منہ چرانا اور اپنی ڈیوٹی اور اپنی ذمہ داریوں میں حرام خوری کا مظاہر ہ کرنا ، ہر زمانے کی ہر تہذیب کے ہر معاشرے کے ہر اِنسان کے نزدیک ہمیشہ ہی سے تباہی اور بربادی کا بنیادی جز سمجھاجاتا رہاہے مگر یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ آج راقم الحرف سمیت کروڑوں پاکستانی ایسے بھی ہیں جو یہ سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی کہ سرکار اور اداروں کی جا نب سے سونپی گئی اپنی ذمہ داریوں سے حرام خوری کا مظاہرہ کرنا نہ صرف اپنی ذات اور دنیا وآخرت اور مُلک و قوم کے لئے بھی نقصان دہ ہے مگر ہم نہ جانے پھر بھی کیوں؟؟آج تک اِس بات کو سمجھنے سے قا صر ہیں اور سرکاری منصب کے اعلیٰ اور ادنی عہدے پر فائز رہ کربھی ( ہم سرکاری اداروں میں ہزاروں ، لاکھوں اور کروڑوں کے ٹینڈر کے مد میں جاب ورکس کو ٹھیکیداروں سے مل کر کیمیشن اور پرسنٹیج پر بارگینگ کرکے اپنی جیب ورکس کا حصہ بنارہے ہیں اوراِس طرح )حرام خوری اور کا م چوری کے اُسی ڈگر اور راستے پر چل رہے ہیں اَب جہاں ہماری تباہی یقینی ہے۔

تاہم اَب اپنا احتساب کرنے کے بجا ئے لوگوں کو با تیں بنا نے اور بال کی کھا ل نکالنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیو نکہ اِس میں حقیقت ہے کوئی شک نہیں ہے کہ” ہماری قوم کو مختلف شعبوں میں حرام خوری کی عادت پڑگئی ہے“یہ انورٹیڈ کوماز میں درج ہمارے ضرورت سے کہیں زیادہ کم گو صدرِ مملکت عزت مآب جناب ممنون حُسین کے وہ الفاظ ہیں جو اِنہوں نے پچھلے دِنوںبلڈنگ کوڈ آف پاکستان 2016ءکی آتشزدگی سے بچاو ¿ سے متعلق دفعات کے اجراءکی تقریب سے خطاب کے دوران اداکئے اُنہوں نے جو کہا اور جتنا کہا سب حق و سچ اور حقیقت پر مبنی ہے آج ایک صدرِ مملکت ہی کے کیا ؟ بلکہ لگ بھگ بیس کروڑ پاکستانیوں کابھی یہ مشاہدہ اور تجربہ ہے کہ ہم اور ہماری قوم کو بہت سے حوالوں اور زندگی کے مختلف شعبوں میں حرام خوری کی عادت ایسی ہی پڑ گئی ہے کہ اَب اِس کا پیچھا سِوائے اللہ کی سخت پکڑاور ڈنڈے اور لاتوں مکوں اور سزاو ¿ں کے بغیر چھڑانا نا ممکن ہوگیاہے یہ بات اور نکتہ ضرور ذہن میں ہے کہ قبل اِس کے کہ ہم تباہ و برباد ہوجائیں اِس جانب ہمیں سنجیدگی سے کچھ کرنا ہوگا ورنہ ہم اپنی نہ تو دنیا بہتر بنا سکتے ہیں اور نہ ہی اپنی آخرت سنوار سکیں گے۔

بہر حال ، مختصریہ کہ ایک تو ہمارے صدرِ مملکت ممنون حُسین بولتے بہت کم ہیں مگراِس سے کسی کو اِنکار نہیں ہے کہ اِنہوں نے جب بھی لب کُشائی کی ہے تویہ ایسے بولے ہیں کہ اُن کے سامنے اچھے اچھوں کی بولتی بند ہوگئی ہے،اوروہ انگشت بدنداں ہوگئے ہیں کیونکہ یہ جب بھی اپنے لب مبارک ہلاتے ہیں اور اپنی زبانِ مبارک کو حرکت دیتے ہیں تواپنی سیاسی اور سماجی زندگی کے مشاہدات اور تجربات کے ساتھ بڑے نپے تلے انداز سے سچ کا پردہ چاک کرکے وہ کچھ بول دیتے ہیں جو اِن کے دل میں ہوتا ہے تو وہی زبان سے بھی اداہوجاتا ہے جیسا کہ گزشتہ دِنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے تقریر کرتے ہوئے صدرِ مملکت ممنون حُسین نے سرکاری ملازمین سے متعلق پُرشکوہ اندازسے یہ کہہ کر سب کو حیران اور پریشان کردیا کہ ”سرکاری ملازمین کوکام کرنے کی عادت ہی نہیں رہی ، ہماری قوم کو مختلف شعبوں میں حرام خوری کی عادت پڑ گئی ہے،پانی و بجلی کے حکام کو بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے سربراہان تبدیل کرنے کا کہا لیکن سُنی اِن سُنی کردی گئی ، مجھے افسوس ہوتا ہے کہمیری تجاویز پر کوئی خاص عملدرآمد نظرنہیں آیا“۔

اَب اِس منظر اور پس منظر میں آج اگر ہم ذراسی دیر کو سوچیں کہ اِس جملے میں اِس میں ایسی کونسی سی نئی بات ہے؟؟کہ آج جس پر چور کی ڈاڑھی میں تنکا والے تو تلملاہی اُٹھے ہیں مگر اِدھر اُدھر کے دیگر حکومتی وزراءاور ن لیگ کے بہت سے نئے پرانے سیاسی کھلاڑیوں سمیت بہت سے لوگوں کے پیٹ میں بھی درد اُٹھ رہاہے اور یہ چاکِ کربیان کرتے چیختے چلاتے، دیواروں سے اپنے سرٹکراتے پھررہے ہیں اور صدرِ مملکت کے اِس کہے کو اپنی ہتک کا جنازہ کہہ رہے ہیں اور دردر پہ آہ وفغاں کرتے بھی نہیں تھک رہے ہیں، آج اگر صدرِ مملکت کو اِس کہے پر اپنی عزت کے نکلنے والے جنازے پر ماتم زدہ اتنے ہی پریشان ہیں تو آج کے بعد اِنہیں اپنی ذات کو اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کے سامنے پیش کرتے ہوئے یہ وعدہ اور عہد کرلینا چاہئے کہ آئندہ وہ صدر ممنون حُسین کے احکامات کو پتھر پر لکیر جا نیںگے اوراپنے کام میں ایسی حرام خوری کا مظاہرہ نہیں کریںگے کہ جس کا شکوہ صدرِ مملکت ممنون حُسین اور بیس کروڑپاکستانیوں کو ہے تو کچھ تبدیلی کے ساتھ بہتر نتائج بھی قوم کو نظرآئیں تو پھر بات بنے گی ورنہ تو قوم یہی سمجھتی رہے گی کہ واقعی ہماری قوم کو مختلف شعبوں میں حرام خوری کی عادت پڑ گئی ہے“۔اگرچہ یہ بھی حقیقت ہے کہ سرکاری ملازمین کی حرام خوری کی پڑی ہوئی یہ عادت اتنی آسانی سے تو نہیں جا ئے گی مگر اِس سے چھٹکارہ اور نجات دلانے کے لئے یہ بھی بہت ضروری ہے کہ پاکستانی قوم کا ہر محب وطن اور باشعور شہری اپنے اندر نہ صرف جرات و بہادری کا حوصلہ پیداکرے بلکہ صدرِ مملکت ممنون حُسین کی طرح فرنٹ میں آکراِس کا مظاہر ہ بھی کرے اور زندگی کے مختلف شعبوں میں بیٹھے اعلیٰ و ادنی سطح کے سرکاری ملازمین کو اِس بات کا بار بارشدت سے احساس دلاتارہے کہ حرام خوری اور اپنے فرائض میں غفلت برتنے سے کمائی گئی دولت نہ صرف دنیا بلکہ آخرت میں بھی ذلت و رسوائی کا سبب بنے گی اور روزِقیامت گلے میںایساطوق ڈ الا جا ئے گا کہ حرام خور دور ہی سے پہچانے جا ئیں گے کہ اِنہوں نے اپنی دنیا وی زندگیاں کس طرح سے گزاری ہیں

SHARE

LEAVE A REPLY