کراچی میں مقیم اردو کی منفرد لہجے کی شاعرہ پروین حیدر کا تازہ مجموعہ۔۔کشتِ غم۔۔۔ منظر عام پر آ گیا جس میں انکا تخلیق کردہ اولیں مرثیہ بھی موجود ہے۔

p haider

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس عہد میں جبکہ سطحی اور جزباتی خطابت کے باعث مرثیے جیسی توانا صنف دم توڑ رہی ہے اور یوں بحی مرثیہ نگار خواتین کی تعداد انتہائی قلیل ہے ایسے میں پروین حیدر کا مرثیہ نگاری کے میدان میں قدم رکھنا سعد علامت ہے

پروین حیدر کو عالمی اخبار کے ادارتی بورڈ اور قارئین کی جانب سے نئے مجموعے کی اشاعت پر مبارکباد

پروین حیدر اردو ادب کا ایک نمایاں نام ہے جنہوں نے لگ بھگ ہر صنف سخن میں طبع آزمائی کی ہے

اپنی شعر گوئی کے آغاز کے حوالے سے انکا کہنا ہے کہ میں نے پہلا شعر آٹھ سال کی عمر میں کہا اور تا دم – تحریر یہ سلسلہ جاری ھے

kishtegham

اپنی تصانیف کی تفصیل بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غزلیات پر مشتمل میری پہلی کتاب ….حرف حرف آئنہ …….2004 میں شایع ہوئی

رثائی ادب پر مشتمل دوسری کتاب …..صحیفہ ئے غم ……2011 میں شایع ہوئی

غزلیات کی تیسری کتاب ….آوازہ ئے خواب 2014 میں شایع ہوئی

حمد نعت سلام منقبت اور میرے لکھے ہوۓ پہلے مرثیے پر مشتمل کتاب ……کشت – غم ……فروری 2017 میں آئی ھے

اپنا پہلا مرثیہ … تہذیب – قلم .. لکھنے کے بعد بقول پروفیسر سحر انصاری صاحب کے میں بر صغیر کی پانچویں مرثیہ نگار خاتون ھوں

اپنے ادبی پس منظر کے حوالے سے انکا کہنا ہے کہ میرے والد مرحوم سید علی رضا رضوی جو انجم تخلص کرتے تھے معروف و معتبر شاعر تھے غزلوں کے علاوہ رثائی ادب پر بھی انہوں نے خوب لکھا
مگر افسوس کے ان کا تمام کلام شایع نہ ھو سکا

SHARE

LEAVE A REPLY