کانگرس کے ڈیموکریٹک ارکان نے امریکہ کے اٹارنی جنرل جیف سیشنز سے کہا ہے کہ نومبر کے صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت سے متعلق ہونے والی تحقیقات سے یا تو وہ خود کو الگ کر لیں یا مستعفی ہو جائیں۔

یہ مطالبہ ان خبروں کے بعد کیا گیا کہ جیف سیشنز نے امریکہ میں روس کے سفیر سے ملاقاتیں کی تھی۔

سیشنز نے صدارتی انتخاب کی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کی تھی اور انہوں نے امریکی سینیٹ کا رکن ہوتے ہوئے انتخابی مہم کے لیے ٹرمپ کے مشیر کے طور پر خدمات بھی انجام دیں۔

امریکہ محکمہ انصاف کے سربراہ کے طور پر نامزد ہونے کے بعد جنوری میں اپنی توثیق سے متعلق ہونے والی سماعت کے دوران سیشنز نے ایک سوال کے جواب کہا تھا کہ “مہم کے دوران ایک یا دو بار یہ کہا گیا تھا کہ میں نے کسی کی نمائندگی کی تھی، لیکن میرا روس کے کسی عہدیدار کے ساتھ کسی طرح، کسی طرح کا بھی رابطہ نہیں تھا۔”

گزشتہ سال جولائی میں سیشنز نے ریپبلکن نیشنل کنونشن کی ایک تقریب کے موقع پر روسی سفیر سرگئی کسلیاک سے ملاقات کی تھی اور دوبارہ انہوں نے کپٹل ہل میں اپنے دفتر میں ان سے ملاقات کی تھی۔

محکمہ انصاف کی ترجمان سارہ سگر فلورس نے کہا کہ سیشنز نے اپنی توثیق کے دوران حلف پر دیے گئے بیان میں “قطعی طور پر کوئی غلط بات نہیں ہے۔”

“سماعت کے دوران (صدراتی انتخاب کی) مہم کے دوران ٹرمپ اور روس کے درمیان رابطہ کے بارے میں پوچھا گیا تھا نا کہ ان ملاقاتوں کے بارے میں جو انھوں نے بطور سینیٹر اور آرمڈ سروسز کمیٹی کے رکن کے طور پر کی تھیں۔”

سیشنز کی طرف سے بعد ازاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ انہوں نے “کبھی بھی مہم کے معاملات پر بات کرنے کے لیے کسی بھی روسی عہدیدار سے ملاقات نہیں کی تھی۔”

امریکہ کا وفاقی تحقیقاتی ادارے ‘ایف بی آئی’ امریکہ کے انتخاب کو ںقصان پہنچانے کی مبینہ روسی سرگرمیوں اور ٹرمپ کی مہم اور روسی صدر پوٹن کی حکومت کے درمیان کسی ممکنہ رابطے کی تحقیقات کر رہا ہے۔

دوسری طرف سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی اپنے طور پر بھی اس معاملے کی انکوائری کر رہی ہے جب کہ ایوان نمائندگان کی انٹیلی جنس کمیٹی نے بدھ کو اپنی تحقیقات کے طریقہ کار کا اعلان کیا تھا۔

سینیٹر الفرینکن جنہوں نے سیشنز سے ان کی توثیق سے متعلق ہونے والی سماعت کے دوران روسی رابطوں سے متعلق پوچھا تھا، نے بدھ کو کہا کہ اٹارنی جنرل کو کسی بھی تحقیقات میں شامل نہیں ہونا چاہیئے۔

جب کہ ایوان نمائندگان کی ڈیموکریٹک راہنما نینسی پلوسی نے اس سے بھی آگے بڑھ کر سیشنز سے اپنے عہدے سے الگ ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

ممتاز ریبپلکن سینیٹر لنڈسی گراہم جنہوں نے آرمڈ سروسز کمیٹی میں سیشنز کے ساتھ کام کیا ہے ’سی این این‘ کی ایک ٹاؤن ہال تقریب میں کہا کہ یہ تحقیقات ایک آزاد تفتیش کار کی قیادت میں ہونی چاہیئے۔

ٹرمپ اس بارے میں سامنے آنے والی متعدد رپوٹوں سے انکار کر چکے ہیں کہ ان کی مہم سے متعلق بعض لوگوں کے انتخاب کے دوران روسی حکومت کے ارکان سے رابطے تھے۔

امریکہ انٹیلی جنس ادارے کے جائزوں میں یہ بات سامنے آئی کہ روس نے امریکہ کے انتخاب میں ہیکنگ حملے کیے جن کا مقصد مبینہ طور پر انتخاب میں ہلری کے مقاملے میں ٹرمپ کو فائدہ پہنچانا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY