روشنی حرا سے (137)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی

0
128

حضور (ص) انتقال ِ پر ملال ، حضرت ابو بکر (رض) کا انتخاب بطو ر خلیفہ،

نماز جنازہ تہجیز اور تکفین۔

ہم گزشتہ نشست میں یہاں تک پہو نچے تھے کہ حضو ر (ص) نے حضرت ابو بکر (رض) کو نما ز پڑھا نے کا حکم دیا اور انہوں نے نما ز پڑھا ئی ۔اب یہاں کچھ اور روایات ملتی ہیں کہ حضو ر (ص) نے بھی حضرت ابو بکر (رض)کی اما مت میں نما ز پڑھی، مگر اس کا تعین کر نا بہت مشکل ہے کہ وہ کو نسی نماز تھی لہذا اس سے قطع نظر کر تے ہو ئے ہمیں یہ تسلیم کر لینا چا ہیئے کہ حضو ر (ص) نے ایک نما ز حضرت ابو بکر (رض) کی قیا دت یا معیت میں ادا فر ما ئی اور وہ اس طر ح ہو ا کہ حضو ر (ص) نے اپنے حجرہ مبا رک سے پردہ ہٹا کر جھا نکا تو دیکھا کہ جما عت کھڑی ہو نے والی ہے ۔لہذا حضو ر (ص) با ہر تشریف لے آئے، اور جب صحابہ کرام نے دیکھا تو متوجہ ہو ئے اور اور حضرت ابو بکر (رض) بھی پچھلی صف کی طرف پیچھے ہٹ گئے، لیکن حضو ر (ص) نے ہا تھ کے اشا رے سے منع فرماد یا۔ البتہ حضرت اسا مہ بن (رض)زید کی طر ف اشا رہ کیا اور جب وہ قریب آگئے، تو ان کو اپنی (ص) پشت سے پشت لگا نے کا حکم دیا اور حضرت ابو بکر (رض) کے برا بر تشریف فر ما ہو گئے ۔اور بیٹھ کر نما ز ادا فر ما ئی اس عمل سے بعض محد ثین نے یہ استد لا ل لیا ہے کہ حضو ر (ص) نے حضرت ابو بکر (رض) کی اقتدا میں نما ز پڑھی ،اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ حضو ر (ص) گھو ڑے سے گر گئے تھے اور وقتی طو ر پر کھڑے ہو کر نما ز پڑھا نے کے قا بل نہ رہے تھے۔

لہذا بیٹھ کر نما زا کی امامت فرما ئی مگر مقتدی کھڑے رہے اس پر حضو ر (ص)نے بعد میں فر ما یا کہ مقتد یوں کو اما م کا اتبا ع کر نا چا ہیئے تھا۔ چو نکہ یہا ں لو گ کھڑے رہے اس لیئے انکا استد لا ل یہ ہے کہ حضو ر (ص) اسوقت اما م نہیں تھے بلکہ حضرت ابوبکر (رض) تھے۔ مگر کچھ لو گ دو سرے خیا ل کے حا می ہیں کہ در اصل اما م حضو ر (ص) ہی تھے اور حضرت ابو بکر (رض) مقتدی تھے۔واللہ عا لم ۔اسی طر ح یو مِ وفات اور تاریخ اور وقت پر متعدد احادیث ہیں ۔ کچھ نے ثا بت کیا ہے کہ کہ حضو ر (ص) کی وفا ت پیر کو نہیں ہو ئی البتہ ایک محدث نے یہ ٹھو س دلیل دی ہے۔ کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ مدینہ اور مکہ میں خا صہ فا صلہ ہے لہذا اس سا ل مکہ میں چا ند کی رویت علیحدہ ہو ئی اور مدینہ میں علیحدہ ہو ئی اس لیئے یہ فرق ہے ۔اور اس میں ان لو گو ں کےلئے سبق ہے کہ جو ہر سا ل ساری دنیا میں ایک عید منانا چا ہتے ہیں ۔ مگر زیادہ ترکا اجما ع چو نکہ دو شنبہ یعنی سوموار بارہ ربیع اول اور قبل از ظہر ہے، لہذا ہم اس پر بحث نہیں کر تے ۔حضرت عا ئشہ (رض) فر ما تی ہیں کہ جب حضو ر (ص) پر غشی طا ری ہو ئی تو وہ (ص) میری آغوش میں استراحت فر ما رہے تھے

جب ان (ص) کا لعاب ِ دہن میرے اوپر گرا تو میں نے محسو س کیا کہ حضو ر (ص)پر شدید غشی طا ری ہے۔ لیکن بعض روایا ت میں یہ بھی کہ اس غشی سے پہلے وہ (ص)خو د کو پو ری طر ح چا ق چو بند محسوس کر رہے تھے۔ اورحضرت ابو بکر (رض)نے دیکھا تو فر ما یا کہ ما شا اللہ حضو ر (ص) کو بیما ری چھو ڑ گئی، غا لبا ً یہ وہ مر حلہ تھا جسکو اردو میں سنبھالالینا کہتے ہیں ،کہ تمام قوتِ حیات آخری مر تبہ اکٹھا ہو کر مدا فعت کرتی ہے ،اور جو اس سے نکل جا تا ہے وہ نکل جا تا ہے۔حضرت ابوبکر (رض) حجرے میں تھے کہ اتنے میں جما عت کھڑی ہو گئی ،وہ نما ز پڑھا نے تشریف لے گئے درایں اثنا حضو ر (ص) نے پردہ اٹھا کر دیکھا اور اس کے بعد پر دہ ہا تھ سے چھو ٹ گیا اور مکمل غشی طا ری ہو گئی اس وقت تک حضرت ابو بکر (رض) حضو ر (ص) کی طرف سے مطمعن ہو کر اورنما ز پڑھاکر گھو ڑے پر سوار ہو کر اپنی دوسری بیو ی کی طر ف تشریف لےجا چکے تھے جو کہ کچھ فاصلہ پر رہتی تھیں، اور کئی دن سے حضو ر (ص)کی علالت کی وجہ سے ان کی خبر گیری نہیں کی تھی۔ لیکن جب ام المو نین حفصہ بنت عمر (رض)اور عا ئشہ بنت ابو بکر (رض) نے حالت خراب دیکھی ،تو فو را ً دو نوں کے لئے آدمی دو ڑا ئے۔ حضرت عمر (رض) تو فو را ً آگئے اورمغیرہ (رض) بن شعبہ کی معیت میں اندر دا خل ہو ئے تو دیکھ کر فر ما نے لگے، کہ حضو ر (ص) پر کس قدر گہری غشی طا ری ہے مگر حضرت مغیرہ (رض) نے کہا نہیں واللہ حضو ر (ص) انتقال فر ما چکے ہیں۔تو حضرت عمر (رض) بر ہم ہو گئے اور ان کو بد عا دی، اور کہا کہ تم دیکھنا کہ جب تک منا فقین غا رت نہ ہو جا ئیں حضو ر (ص) انتقا ل نہیں فر ما سکتے۔ ابھی وہ اٹھ کر قتا ل کرینگے اور تم بھی سا تھ میں رو ندے جا ؤگے ۔اتنے میں حضرت ابو بکر (رض) بھی پہنچ گئے اور بغیر کسی سے بات کیئے اجا زت طلب کر کے حجرے کے اندر تشریف لے گئے ۔ حضرت عا ئشہ (رض) فر ما تی ہیں کہ میں نے پردہ ہٹا دیا۔آپ نے حضو ر (ص) کی طر ف دیکھا اور کہا، انا للہ وانا الیہ راجعون

پھر وہ حضو ر (ص) کے سر ِ مبا رک کی جا نب تشریف لے گئے اور اپنا منہ نیچے کر کے حضو ر (ص)کی پیشا نی کو بو سہ دیا اور فر ما یا ہا ئے خلیل، رسول (ص) اللہ فو ت ہو گئے ۔ پھر یہ کہہ کر مسجد کی طر ف لو گو ں کو پھلا نگتے ہو ئے تشریف لے گئے۔ جہا ں پہلے ہی لو گ جمع تھے اور حضرت عمر (رض) بہت ہی بر ہم تھے انہو ں نے حضرت عمر (رض) سے کہا کہ بیٹھ جا ؤ مگر وہ نہیں بیٹھے ،تو انہو ں نے حمد و ثنا کے بعد وہ مشہو ر آیت جو غزوہ احد کے مو قعہ پر نا زل ہو ئی تھی پڑھ کر سنا ئی “ وما محمد الا رسول ج قد خلت من قبلہ الر سل ط ا فا ئن ما ت او قتل انقلبتم علیٰ اعقابکم ط ومن ینقلب علیٰ عقبیہ فلن یضرا للہ شیاًط وسجزی ا للہ الشا کرین ہ ترجمعہ با محاورہ “ ”اور محمد (ص) تو (صرف) اللہ کے رسول ہی ہیں جیسے کہ ان سے پہلے رسول ہو گزرے ہیں اور وہ اگر انتقال فر ما گئے یا شہید ہو گئے ،تو کیا تم الٹے پیروں پھر جا ؤگے ۔اگر پھر گئے تو تم اللہ کوکو ئی نقصان نہ پہنچا سکو گے ( بلکہ اپنا ہی نقصان کرو گے اس لیئے کہ)اللہ اپنے شکر گزار( بند و ں) کو عن قریب نواز نے والا ہے“ ( سو رہ آل ِ عمران۔144)۔ پھر اس آیت کی تلا وت کے بعد فر ما یا کہ جو لوگ اللہ کی عبا دت کرتے تھے تو اللہ زندہ ہے ، اسے مو ت نہیں آئیگی ۔ جو شخص محمد رسو ل(ص) اللہ کی پرستش کر تا تھا ،تو وہ مر چکے ہیں ، اس کو سن کرحضرت عمر (رض) نے سوال کیا کہ یہ آیت کتا ب اللہ میں ہے ؟مجھے علم نہیں تھا۔اور وہ بقول انکے نقا ہت سے بیٹھتے چلے گئے ۔ پھر لو گو ں سے کہا کہ یہ ابو بکر (رض)ہیں جو کہ مسلمانوں کا دل مو ہ لینے والے ہیں ا ن کی بیعت کرو، پس ان کی بیعت کرو۔ اور سب سے پہلے انہو ں نے بیعت کی۔ لہذا اب لو گو ں کو یقین ہو گیا حضو ر (ص) کی وفا ت کااور انہوں نے بیعت کر نا شروع کر دی ۔جو کہ بد ھ کی شا م تک چلتی رہی اس دوران بہت سے مر حلے آئے اور گئے ان میں سب سے بڑا مر حلہ انصا ر کو حضرت ابو بکر (رض) کی خلا فت پر رضا مند کر نا تھا ۔کیو نکہ با وجو د اسلام کی بر کتو ں سے فیض یا ب ہو نے کے، وہ ابھی تک اسلا می اخو ت کے اس رشتہ میں پو ری طر ح نہیں رنگے گئے تھے جو کہ اسلام کا خا صہ ہے۔ اور پہلی دفعہ انصا ر کسی غیر انصا ر کے مطیع ہو رہے تھے۔ رہے حضور (ص) تو ان کی با ت اور تھی کہ وہ تو اللہ کے رسو ل (ص) تھے۔ انہو ں نے ایک تجو یز یہ بھی پیش کی کہ ایک امیر تم سے ہو اور ایک ہم میں سے ۔مگر ان تما م مرا حل کو افہا م اور تفہیم سے طے کر لیا گیا۔ بالآخر جب سب لو گ اس سے فا رغ ہو گئے تو تجہیز اور تکفین کی طر ف توجہ دی ۔جب لوگو ں نے حضو ر (ص) کے کپڑے نہلا نے کے لیئے اتار نے چا ہے تو غیب سے آواز آئی کہ قمیض نہ اتا رو ،لہذا لبا س کے اوپر سے ہی غسل دیا گیا ۔ایک روایت میں جو کہ حضرت عا ئشہ (رض) سے ہی مروی ہے کہا گیا ہے ،کہ جب کپڑے اتارنےکا ارادہ کیا تو سب کو غشی سی آگئی اور اس دوراں یہ آواز سنی گئی ۔جن لو گو ں نے حضو ر (ص) کو غسل دیا ان کا کہنا تھا کہ حضو ر (رض) میں ایسی کو ئی کمز وری نہیں پا ئی گئی جو کہ عا م طو ر پر مرُ دو ں میں پا ئی جا تی ہے (دراصل میرے خیا ل میں یہ وہ آخری معجزہ تھا جو کہ حضو ر (ص) سے سر زد ہو نا تھا کہ دنیا والے دیکھ لیں کہ عرب کی گر م آب و ہوا کے با وجو د ایر کنڈیشننگ کی عدم مو جود گی میں اس طر ح جسد مبا رک کا تین یو م تک ترو تا زہ رہنا یہ ثا بت کر رہا تھا کہ رسو لوں (ع) اور دوستوں کے سا تھ اللہ کا برتاؤ مختلف ہو تا ہے)

اس سے پہلے کے واقعات میں بھی امام احمد، حضر ت عا ئشہ (رض) کے حوالے سے ہی سے فر ما تے ہیں کہ عا ئشہ (رض) نے فر ما یا کہ کے جبکہ حضو ر ٠ص)میری زانو پر سرِمبارک رکھے ہو ئے لیٹے تھے ،تو اتنے میں میرے بھا ئی عبد الر حمٰن بن ابو بکر (رض) تشریف لا ئے ان کے ہا تھ میں ایک سبز شا خ تھی ۔حضو ر (ص) نے اس کی طر ف رغبت فر ما ئی تو میں سمجھ گئی کہ حضو ر (ص) مسواک فر مانا چا ہتے ہیں۔ میں نے وہ شا خ ان کے ہاتھ سے لے لی ،اور اس کو چبا کر ( نرم کیا ) اورحضو ر (ص)کو پیش کی اور انہوں نے مجھ (ص)سے لیکر مسواک کیا۔ اس کے بعد غشی بڑ ھتی ہی گئی، حتی ٰ کے آپ (ص)کا سر ڈھلک گیا اور جب آپ (ص)کی رو ح نے قفس عنصری سے پرواز کیا تو اتنی عمدہ خو شبو تھی جیسے کا فو ر کی خو شبو ہو (غالبا ً اسی وجہ سے کا فو ر کا میت کے سا تھ استعما ل شروع ہوا اس میں میرے خیا ل میں ایک حکمت یہ بھی تھی کہ کا فو ر جرم کش ہو نے کے علاوہ وہ دوا ہے جو کہ قوت ِحیا ت کو توا نیت دیتی ہے اگر طبعی مو ت واقع نہ ہو ئی ہو تو اکثر لو گ اس کی خو شبو سے سکتے سے باہر نکل آتے ہیں ۔جس کو لو گ دو بارہ جی اٹھنا کہتے ہیں۔ مولف)۔ مگر یہا ں بعض محدثین نے ایک اور رویت بیا ن کی ہے جس میں انہو ں نے متعدد حوالوں سے بیا ن کیا ہے کہ حضو ر (ص) نے اس حا لت میں نما ز قائم رکھنے اور غلا مو ں کے سا تھ بہتری کی وصیت فر ما ئی، ایک اور میں ہر مر نے والے کو اللہ تعالیٰ سے حسن ِ ظن کی تلقین بھی فرمائی ہے۔ مگر آپ (ص) کی زبا ن مبا رک جب آخری الفا ظ تک پہنچی تو الفاظ پو ری طر ح ادا نہیں ہو سکے اور حلق ِ مبا رک (ص) سے غر غرا ہٹ کی آوازیں آنے لگیں اور فر ما تے سنا ”الہم َ ا غفر لی وارحمنی والحقنی با الرفیق الاعلیٰ“ یعنی اے اللہ مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فر ما اور مجھے رفیقان ِاعلیٰ (نبیوں اور صدیقوں) سے ملا دے۔اسکو امام احمد (رح) نے حضرت زبیر (رض) کے حوالے سے بیان کیا ہے جو ان تک کئی حوالوں سے پہنچی ہے اور جو کہ ام المو منیں عا ئشہ (رض)کی زبا نی ہے۔ چو نکہ ان سے زیا دہ عینی گو اہ کو ئی دو سرا نہیں ہو سکتا کیونکہ حضو ر (ص) بیما ری کے پہلے دن سے آخری لمحا ت تک انہیں کے حجرہ ِ مبا رک میں قیام فرما رہے ۔کچھ لو گوں نے یہ بھی بیان کیا کہ ایک دن حضو ر (ص) نے با ہر پردہ اٹھا کر جھا نکا تو تما م صحا بہ کرام ان کی طر ف متوجہ ہو گئے اور اسوقت حضو ر (ص) کا چہرہ مبا رک اتنا نو رانی تھا، اور ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے مصحف ہے اور حضو ر (ص) مسکرا بھی رہے تھے۔ پس ہم نے رسول (ص) اللہ کی دید کی خو شی میں فتنے میں پڑنے کا ارادہ کر لیا۔ اتنے میں حضو ر (ص) نے پر دہ گرا دیااس کے بعد آپ (ص)میں پر دہ اٹھا نے کی توانا ئی نہ رہی لہذا پر دہ دو بارہ نہ اٹھا ۔اس کو امام بہیقی (رح) نے بھی درج کیا ہے مگر حوالہ حضرت انس (رض) بن ما لک کا ہے اسی کوامام بخا ری (رح) نے ابو الیمان سے روایت کیا ہے۔ اب ہم آخری مر حلے کی طرف آتے ہیں ان سب میں اس وقت سب سے منفرد کردار جو تھا وہ حضرت علی (رض)کا تھا اور وہ ایک لمحہ کے لیئے بھی حضو ر (ص) کی میت کو چھو ڑ کر نہیں گئے اور ملحقہ حجرے میں تشریف فرما رہے ۔جس سے یہ ثابت ہو جا تا ہے کہ ان کے نزدیک خلا فت کی کو ئی ا ہمیت نہ تھی ،کیو نکہ ولایت ان کو مل چکی تھی۔ جو نبی (ص) کی وراثت اور علم تھا ۔جو نہ صرف انہیں مل چکا تھا بلکہ بہت زیا دہ عطا ہو چکا تھا، اور وہ غنا کی اس حا لت میں تھے جس میں ہمیشہ وہ اور ان کے پیرو رہے۔ تاج ان کی ٹھو کروں میں رہے ،اور ان کی نظر میں دنیا اور دنیا کی بادشاہت کچھ بھی نہ تھی۔ ابن َ اسحاق (رح) نے غسل دینے والوں کے نام بھی دیئے ہیں۔وہ تھے علی بن ابی طالب ،عباس بن عبد المطلب،فضل بن عبا س ،قثم بن عباس ،اسامہ بن زید اورشقران حضو ر (ص) کا مولی۔ (رض)اس کے بعداوس کے ایک فرد نے درخواست کی کہ اسے بھی شا مل کیا جائے، اس لیئے کہ ان پر خداکی قسم ہما را بھی حق ہے۔لہذا حضو ر (ص) کے جسد مبارک کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اپنے سینے سے لگا لیا اور وہ جسدمبارک کو کروٹیں دلاتے رہے ،اور آپ (ص)کے پیر ہن مبا رک پر اس طر ح ہا تھ پھیر تے رہے کہ وہ جسم کو نہیں چھو رہا تھا اور دو سرے لوگ پا نی بہا رہے تھے۔ اس کے بعد کفن پہنا یا گیا جو کہ تین چیزوں پر مشتمل تھا۔ایک چادر جو یمن کی بنی ہو ئی تھی اور دو کپڑے صحاری تھے ۔جن کو آپ (ص) کے لبا س کے اوپر سے لپیٹا گیا۔ اب مسئلہ قبر کا تھاکہ کس قسم کی ہو ؟اس لیئے کہ اہل مکہ سیدھی قبر بناتے تھے اور اہل ِ مدینہ لحد ی قبرتیار کر تے تھے، لہذا حضرت عبا س(رض) نے دووآدمی ایک حضرت ابو عبیدہ (رض) بن الجراح اور دوسرا حضرت ابو طلحہ (رض) کی طرف روانہ کیا اور فر مایااللہ تو ہی فیصلہ فر ما، کہ تیرے رسول (ص) کی قبر کیسی ہو ،لہذا ان کے قاصد کو حضرت ابوطلحہ (رض) مل گئے اور انہوں نے لحدی قبر تیار کر دی ۔ یہاں ایک اور حدیث میں یہ بھی ملتا ہے کہ انہوں نے پہلے ہی سے لحد تیا ر کر رکھی تھی۔ مگر اس میں قبا حت یہ ہے کہ حضو ر (ص) عا م قبرستا ن میں دفن نہیں ہو ئے بلکہ اس حدیث کے مطابق جس میں انہو ں نے فر ما یا تھا کہ نبی (ع) کو وہیں دفن کیا جا تا ہے۔ جہا ں اس کو موت واقع ہوئی ہو ۔حضرت عا ئشہ (رض) کے حجرہ مبا رک میں دفن کیا گیا۔ لہذا حضرت عبا س (رض)تو پہلے سے ہی وہاں مو جو دتھے، پھر تلا ش کی ضرورت کیا تھی ؟ قبر میں اتارنے والے لوگ بھی وہی تھے جو کہ غسل دینے والے تھے۔حضو ر (ص) کی نما ز کا مر حلہ جب آیا تو لوگ جتنے حجرے کے اندر آسکتے تھے آتے گئے اور نما ز جنا زہ ادا کر کے جاتے گئے، اس کے بعد خواتین نے اسی طر ح ٹکڑیوں میں نما ز جنا زہ ادا کی اور پھر بچو ں نے مگر اس نما ز کی خاص با ت یہ تھی کہ اس میں کو ئی امام نہیں تھا ۔یہا ں ذہن میں ایک سوال ابھر تا ہے کہ کیو ں ؟اس کا جواب اہلِ ادراک پرچھو ڑتا ہوں۔الحمداللہ آپ لو گوں نے میرا سا تھ دیا اور یہ آخری قسط آپ کے سا منے ہے۔ وہ سو رج جو (ص) حرا سے اپنی رو شنی بکھیرتا ہو ا ابھرا تھا خو د تو مدینہ پا ک میں غرو ب ہو گیا ۔مگر ہما رے لیئے تا قیا مت سر چشمہ رو شنی چھوڑ گیا اور وہ ہے اللہ کی کتا ب عترت یا سنت ۔کیو نکہ عترت کی طر ف بھی اسی لیئے اشارہ تھا کہ وہ اس پر اوروں سے زیا دہ عا مل تھی۔ بے عمل عترت کا ان سے کو ئی وا سطہ نہیں ،جس طر ح کہ حضرت نو ح (ع) بیٹے کا ان سے کو ئی واسطہ نہیں تھا ۔

انا اللہ وانا علیہ راجعو ن۔

اب میں اس مضمو ن کو اپنے ہی اس قطعہ کے سا تھ ختم کر تا ہو ں۔

کرے ہے وصف بیاں جن کا خو د بصیر و خبیر
لکھے گا ان کی کیا سیرت کو ئی بھی مجھ سا حقیر
لکھی تو میں نے ہے لیکن لکھا ئی کس نے ہے!
کہاں یہ شمس سا عاجز کہاں وہ کارِ کثیر!

(باقی آئندہ)

SHARE

LEAVE A REPLY