چار مارچ 1967ء کوسندھ یونیورسٹی کے طلبہ کا ایوب خان کے خلاف احتجاجی جلوس

0
118

چار مارچ 1967ء کو پاکستان کے جنوبی صوبہ سندھ کے شہر حیدرآباد میں سندھ یونیورسٹی کے طلبہ نے برسراقتدار جنرل ایوب خان اور اس ون یونٹ کے خلاف احتجاجی جلوس نکالا تھا جس نے پاکستان کو وجود بخشنے والے صوبوں یا اکائیوں کے وجود کو ہی ختم کردیا تھا۔

فوجی حکومت احتجاجی جلوس کو بہت سنگین جرم تصور کرتی ہے۔

اسی لیے سکیورٹی اہلکاروں نے جلوس کے شرکاء کو جامشورو کے قریب گھیر لیا اور ان پر لاٹھی چارج اور فائرنگ کی اور دو سو سے زائد طلبہ کو گرفتار کرلیا۔

واقعے کے بعد ملک کے دوسرے حصوں میں بھی فوجی حکومت اور ون یونٹ کے خلاف احتجاج میں شدت آئی اور اسکے نتیجے میں دو سال بعد جنرل ایوب خان کو استعفی دیکر جانا پڑا تھا۔
یوسف لغاری جو آج ایڈووکیٹ جنرل سندھ ہیں اس وقت طلبہ یونین کے ان رہنماؤں میں سے ایک تھے جو اس جلوس کی قیادت کر رہے تھے۔ وہ واقعے کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ ’جب ہم جامشورو کے پاس (کوٹری بیراج کے پُل پر) پہنچے تو پولیس، فوج اور رینجرز کے اہلکاروں نے پل کی ناکہ بندی کردی اور لڑکوں کو بسوں سے اتار کر پکڑنا شروع کردیا، وہ انہیں مارتے رہے اور فائرنگ بھی کی جس سے بہت سارے لڑکے زخمی بھی ہوئے۔ کئی لڑکوں نے دریا میں چھلانگ لگا کر اپنی جان بچائی۔‘

یوسف لغاری نے بتایا کہ اس دور میں کوئی سیاسی جماعت اتنی سرگرم نہیں ہوتی تھی۔ ’سیاسی جماعتوں کا جو بھی کام ہوتا تھا مثلاً لوگوں کو ایشوز پر منظم کرنا یا احتجاج کرنا وغیرہ وہ یا تو ٹریڈ یونین والے کرتے تھے یا پھر اسٹوڈنٹس یونین کرتی تھیں۔‘

قیام پاکستان کے بعد کی بات کریں تو پچاس، ساٹھ اور ستر کی دہائیوں کو اس طلبہ سیاست کے عروج کا دور کہا جاسکتا ہے جس کا محور طلبہ اور عام لوگوں کے حقوق ہوتے تھے اور اس کا پہیہ یونیورسٹیوں اور کالجوں میں ہر سال ہونے والے وہ انتخابات ہوتے تھے جن کے ذریعے طلبہ یونینوں کے عہدیداروں کا چناؤ ہوتا تھا۔

یہ یونین اور ان کے انتخابات میں حصہ لینے والی تنظیمیں نہ صرف طلبہ کے اہم تعلیمی، ثقافتی اور سیاسی مفادات کے تحفظ کے لیے کام کرتی تھیں بلکہ طلبہ کو سیاسی طور پر باشعور بنانے اور منظم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی تھیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY