پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رہنما نفیسہ شاہ نے کہا ہے کہ فوجی عدالتوں کی توسیع کے حوالے سے ان کی جماعت کا مؤقف بہت ہی واضح اور اصولی ہے، کیونکہ اس طرح سے ان عدالتوں کی توسیع آئین کے منافی ہے۔

ڈان نیوز کے پروگرام ‘دوسرا رُخ’ میں گفتگو کرتے ہوئے نفیسہ شاہ نے کہا کہ ‘اگرچہ ملک میں امن و امان سے متعلق حالات ایسے ہیں جن میں اقدامات کرنے کے ساتھ کوئی متبادل حل نکانا ضروری ہے، لیکن اس کیلئے آئین کی خلاف ورزی کرنا یقیناً جمہوری اداروں کو تباہ کرنے کے مترادف ہے’۔

انھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ فوجی عدالتوں میں توسیع کرنے سے پہلے عدالتی نظام میں اصلاحات کے ساتھ ان عدالتوں کیلئے بنائے گئے قانون میں بھی ترمیم کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ ‘اس وقت ہماری جماعت کو اس بات پر بھی تحفظات ہیں کہ حکومت ایسے معاملات پر اپوزیشن جماعتوں سے مشاورت نہیں کرتی اور اس مرتبہ بھی ایسا ہی کیا گیا’۔

پی پی رہنما کا کہنا تھا کہ فوجی عدالتوں میں اپیل سسٹم کے ساتھ ایک ایسا نظام ہونا چاہیئے جس سے ان کے نتائج بھی سامنے آئیں۔

نفیسہ شاہ نے کہا کہ اگر پیپلز پارٹی فوجی عدالتوں کی توسیع کے معاملے پر متفق ہوگئی تو بھی ہماری شرائط ہوں گئیں جن میں اس شرط ہر تین ماہ کے بعد ان عدالتوں کی کارکردگی کے حوالے سے ایک مکمل رپورٹ پیش کرنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ’بدقسمتی سے اب تک حکومت نے اس بارے میں کوئی بات نہیں کی، لیکن اگر وہ کچھ لچک کا مظاہرہ کرے گی تو ہم اپنے مؤقف پر نظرِ ثانی کرسکتے ہیں’۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بل میں ترمیم کیے بغیر پہلے کی طرح فوجی عدالتوں کا کام کرنا ناقابلِ قبول ہوگا، کیونکہ اگر ایسا ہوا تو وہی ہوگا جوکہ گذشتہ دو سالوں میں دیکھا گیا۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع سے متعلق پاکستان پیپلز پارٹی کی آل پارٹیز کانفرنس بظاہر بے نتیجہ رہی کیوں کہ نہ ہی اس میں عدالتوں کی مدت میں توسیع کے فیصلے کی حمایت یا مخالفت کا کوئی حتمی فیصلہ کیا گیا اور نہ ہی اعلامیہ جاری ہوا۔

اس سے قبل گزشتہ ماہ 28 فروری کو ملک کی زیادہ تر سیاسی جماعتیں فوجی عدالتوں کی مدت میں 2 سال کی توسیع پر متفق ہوچکی ہیں۔

فوجی عدالتوں سے متعلق ہونے والے پارلیمانی جماعتوں کے اس اجلاس میں پیپلز پارٹی شریک نہیں ہوئی تھی، تاہم اس سے پہلے ہونے والے فوجی عدالتوں سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کے تمام اجلاسوں میں پی پی کے نمائندے شریک ہوتے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ فوجی عدالتوں کی 2 سالہ خصوصی مدت رواں برس 7 جنوری کو ختم ہوگئی تھی، جس کے بعد فوجی عدالتوں کی دوبارہ بحالی سے پر سیاسی جماعتوں اور حکومت کے درمیان ان کی دوبارہ بحالی پر اتفاق نہیں کیا جاسکا۔

فوجی عدالتوں کا قیام 16 دسمبر 2014 کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) پر حملے کے بعد آئین میں 21 ویں ترمیم کرکے عمل میں لایا گیا تھا۔

عدالتوں کا قیام 7 جنوری 2015 کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بل کی منظوری کے بعد عمل میں لایا گیا، جن کی 2 سالہ مدت رواں برس 7 جنوری کو ختم ہوچکی ہے۔

ڈان

SHARE

LEAVE A REPLY