پاکستان میں ہائی بلڈپریشراور امراض قلب کے مریضوں میں تشویشناک حد تک اضافہ ہورہاہے ، ملک کی 40فیصد شہری آبادی کو ہائی بلڈ پریشرکا مرض لاحق ہے،یہ پاکستان ہائپرٹینشن لیگ کی سالانہ کانفرنس میں انکشاف سامنے آیا ۔

پاکستان ہائپرٹینشن لیگ کی بیسیویں سالانہ کانفرنس کا انعقاد کوئٹہ میں ہوا، جس کا افتتاح اسپیکر بلوچستان اسمبلی مس راحیلہ حمید درانی نےکیا۔

کانفرنس میں ملک بھر سے سینئرماہرین قلب اور فزیشنز نے شرکت کی،اپنے مقالہ جات میں ماہرین قلب کاکہنا تھا کہ ہائی بلڈ پریشر یا بلندفشارخون کےمرض میں روزبروز خطرناک حدتک اضافہ ہورہاہے۔

کراچی کارڈیالوجی انسٹی ٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد اسحاق کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہائی پرٹینشن کے مرض میں اضافہ ہورہا ہے،ملک کی شہری آبادی کاچالیس فیصد ہائپرٹینشن کاشکارہے۔

ماہرین کےمطابق بلند فشار خون کے مریضوں میں دل اور گردے سمیت پیچیدہ امراض پیدا ہورہے ہیں،تاہم بہتراورمتوازن خوراک ، ورزش اورسادہ طرز زندگی اختیار کرنےسےان امراض سے نجات ممکن ہے۔

صدر پاکستان ہائپرٹینشن لیگپروفیسر ڈاکٹرعبدالحفیظ چودھری کے مطابق ہمیں اپنی خوراک کا خیال رکھنا اور واک کرنا چاہیے۔

ماہرین نے بلوچستان سمیت اندرون ملک ہائی بلڈ پریشر کی روک تھام کےلیےموثر آگہی کےعلاوہ امراض قلب کےعلاج معالجے کے جدید مراکز کےقیام کی ضرورت پر زوردیاہے

SHARE

LEAVE A REPLY