حسنی مبارک کی بے گناہی ، تاریخ کی نظر میں !

0
79

روس میں 1917ء میں بالشویک انقلاب کے بعد زار نیکولس دوم کو گرفتار کر لیا گیا اور ان پر متعدد الزامات عاید کیے گئے تھے۔ان کے خلاف غداری ،ہلاکتوں اور بدعنوانیوں کے الزامات میں فوری سماعت کی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا،عدالت نے انھیں سزائے موت سنائی اور ایک سال کے بعد 1918ء میں انھیں ان کے خاندان سمیت موت سے ہم کنار کردیا گیا تھا۔ انقلابات کے بعد ہمیشہ سیاسی بنیادوں پر ہی مقدمات چلائے جاتے ہیں۔
حسنی مبارک مصر کے سب سے طویل عرصہ صدر رہے تھے۔وہ چھے مرتبہ ملک کے صدر منتخب ہوئے تھے۔ کوئی یہ تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ انھیں توہین آمیز سلوک کا سامنا ہوگا اور انھیں قید کر دیا جائے گا۔انھوں نے اپنے دور میں منعقدہ تمام صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔اس کے لیے انھیں کوئی زیادہ تگ ودو بھی نہیں کرنا پڑی تھی کیونکہ انتخابی قانون انھیں کامیابی کی ضمانت دیتا تھا۔ان کی حکومت میں منعقدہ آخری صدارتی انتخابات میں اس قانون میں ترمیم کی گئی تھی لیکن پھر بھی ان کے لیے جیتنا بہت آسان تھا کیونکہ انتخابات کا ڈول اس طرح ڈالا گیا تھا کہ حسنی مبارک ہی ان میں فتح یاب ہوں۔
قانونی حاکمیت میں اس طرح کے تمام اسقام کے باوجود حسنی مبارک کبھی طاغوتی حکمراں نہیں رہے تھے جیسا کہ اب ان کے بارے میں کہا جارہا ہے۔ ان کے دور حکومت میں ان کے تمام افراد سیدھے سبھاؤ کام کرتے رہے تھے۔اخوان المسلمون سمیت حزب اختلاف کی پارلیمان میں نمائندگی تھی۔اس کے اپنے میڈیا ذرائع تھے اور اس کو آزادی حاصل تھی۔
میدان التحریر انقلاب سے تین سال قبل معرض وجود میں آنے والی نوجوانوں کی 6 اپریل تحریک کے ایک رہ نما احمد ماہر کہتے ہیں کہ وہ ہرگز بھی یہ نہیں چاہتے تھے کہ حسنی مبارک کو جیل میں ڈالا جائے یا انھیں پھانسی دے دی جائے۔انقلاب میں حصہ لینے والے مصری شہری ایک مہذب زندگی ،انصاف ،آزادی اور انسانی وقار چاہتے تھے۔
تاریخ بیان کرنے والے
قاہرہ کی اپیل عدالت نے آخرکار حسنی مبارک کو مظاہرین کی ہلاکتوں کے مقدمے میں برّی کردیا ہے۔وکلائے صفائی کا کہنا تھا کہ حسنی مبارک کی معزولی یا استعفے کے بعد برسراقتدار آنے والی تین حکومتوں کے ادوار میں ان الزامات کو ثابت نہیں کیا جاسکا ہے۔ان کے بعد مسلح افواج کے تحت حکومت نے اقتدار سنبھالا تھا۔پھر اخوان المسلمون نے پارلیمانی اور صدارتی انتخابات میں کامیابی کے بعد حکومت بنائی تھی اور اب صدر عبدالفتاح السیسی برسر اقتدار ہیں۔
میرا نہیں خیال کہ سزائے موت سے بچنے کے لیے بے گناہی صدر حسنی مبارک کے لیے اہمیت کی حامل تھی کیونکہ اس وقت ان کی عمر 88 برس ہے اور وہ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں۔وہ اپنی حکومت کے دور سے بعض امراض کا شکار چلے آ رہے ہیں۔میں اس بات میں یقین رکھتا ہوں کہ حسنی مبارک تاریخ میں بہتر الفاظ میں اپنا نام رقم کرانے کے لیے عدالتوں سے بری ہونے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ وہ انتظامی سطح پر کوئی اچھے منتظم نہیں تھے۔ان کے خاندان اور جماعت کے ارکان بدعنوانیوں کے لیے مشہور تھے لیکن وہ ہلاکتوں میں ملوّث نہیں تھے۔
ان کے وکیل فرید الدیب کہتے ہیں: ’’یہ کسی کے لیے بھی کوئی معقول بات نہیں ہے کہ وہ 2211 ایام جیل میں ان الزامات کی پاداش میں گزار دے جن کا اس نے ارتکاب ہی نہیں کیا ہے۔ان گزرے برسوں کا ازالہ کون کرے گا‘‘۔
درحقیقت حسنی مبارک کو اپنی اکڑ اور غیر لچکدار رویے کی وجہ سے یہ سب کچھ بھگتنا پڑا ہے اور چھے سال کی قید کی صورت میں بھاری قیمت چکانا پڑی ہے۔انھوں نے اپنے دورِ اقتدار میں بدعنوانیوں اور فوج کو دیوار سے لگانے سے متعلق ملک اور بیرون ملک سے اٹھنے والی آوازوں پر کان نہیں دھرے تھے اور بالآخر انھیں ان وجوہ کی بنا پر شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
بہت سے لوگوں کی یہ رائے ہے کہ مصر میں 2011ء میں 25 جنوری کا انقلاب فوج کی خاموش رضا مندی کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتا تھا کیونکہ مصر کے برعکس تیونس ، لیبیا ،یمن اور شام میں تمام ریاستی اداروں اور مسلح افواج نے عوامی انقلابوں اور تحریکوں کی مخالفت کی تھی۔
لوگوں کی سابق مصری صدر کے بارے میں مختلف آراء ہوسکتی ہیں اور ہوں گی۔آنے والے برسوں میں بعض ان پر الزامات عاید کررہے ہوں گے اور بعض ان کا دفاع کررہے ہوں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ عدالتوں سے ان کی برّیت ہی کافی نہیں ہوگی کیونکہ یہ مورخین ہیں جو ان کی بے گناہی اور قصور وار ہونے کا فیصلہ کریں گے۔

عبدالرحمان الراشد

SHARE

LEAVE A REPLY