پاکستان سمیت 8 مارچ کوپوری دنیا میں خواتین کا عالمی دن

0
80

یہ دن 1911 ءسے منا یا جا رہا ہے۔ خواتین ہمارے سماج کا تقریباًنصف ہیں اسکے باوجود خواتین کے حقوق ادا نہیں کیے جاتے ملکی سطح پر خواتین کی تعمیروترقی کےلئے جتنے بھی اعلانات کیے جا تے ہیں انکے نصف پر بھی عمل نہیں کیا جاتا اس بات کا خیال رکھنا چایئے کہ خواتین ترقی یافتہ دور میں دوسرے درجے کہ فرد ہے یہ حقیقت ایک عالمگیرسچائی کی صورت میں سامنے آچکی ہے کہ وہی معاشرے کی ترقی کر سکتے ہیں جن میں خواتین کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیںاور ان کہ برابری کے حقوق حاصل ہوتے ہیں اسلامی معاشرے نے عورتوں کو بہت اہمیت اور ان کے لیے اعلی مقام کے حقوق کے دیے ہیں کہ کسی اور مذہب نے اس طرح عورتوں کوحقوق نہیں دیے ہوں گے

۔ہمارے ملک پاکستان بھی ایک اسلامی ملک ہے لیکن یہ بات افسوس ناک ہے کہ ہمارے ملک میں عورتوں کو ہر روز بے شمارمظالم کا سامنہ کرتا پڑتاہے اور وہ اس کو برداشت بھی کرتی ہیں اگرہم دیہات کی بات کر یں تو وہاں پر عورتوں کوونی کرنے اور غربت کے نام پر ان کا قتل کرنا ایک بہت عام سی بات سمجھی جاتی ہے اس کے علاوہ ہماری اسمبیلوں میں عورتوں کے حق میں جو قرادادیں اور بل منظور ہوتے ہیں وہ وہاں کے اے سی میں بیٹھی عورتوں کو ہی پتہ ہوتے ہیںعام سی عورتوں کو تواس کی  بارے میں پتہ نہیں ہوتا۔

المیہ ہی یہ ہے کہ یہا ں کا کو ئی بھی اپنے حق میں با ت کر نے کی ہمت ہی نہیں کرتا۔ میڈیا کو بھی چاہئے کہ دیہات میں عورتوں کو ان کے حقوق کے با رے میں آ گا ہی دیں اگر ایسا ہو گا تب ہی ہم یہ منانے کے قابل ہو ں گے ورنہ یہ دن ہم سب کے سوچنے کا دن ہونا چاہیے ۔

(انیلہ انجم ‘ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی ‘ اسلام آباد)

SHARE

LEAVE A REPLY