ساز بے آواز ہے مضراب چوری ہوگیا۔خالد اقبال یاسر

0
67

ساز بے آواز ہے مضراب چوری ہوگیا
میرے سینے سے دل بیتاب چوری ہوگیا

کوئ آہٹ میری کچی نیند اڑا کرلے گئی
درمیاں ہی سے سہانا خواب چوری ہو گیا

چودھویں کی رات سارے میں اماوس پھرگئی
چاندنی واپس ہوئ میتاب چوری ہو گیا

جزوی یا پورے گین کی پیش بینی کے بغیر
دن دیہاڑے مہر عالم تاب چوری ہو گیا

آسماں کی وسعتوں میں تارے لو دیتے رہے
ساحلوں سے دور اصطرلاب چوری ہو گیا

گھونٹ جس کے پانیوں کے دیسی گھی کے گھونٹ تھے
پٹ چکا ہے وہ کنواں دولاب چوری ہو گیا

ہنس اترنے کے لیے پر پھڑپھڑاتے رہ گے
ہو گیا لبریز جب تالاب چوری ہو گیا

کم طلب آزادیوں کی راہ پھر کھوٹی ہوئی
آتے آتے یاسر استصواب چوری ہو گیا

خالد اقبال یاسر

SHARE

LEAVE A REPLY