دفترخارجہ نے کہا ہے کہ بھارت میں پھنسے 2 پاکستانی بچوں فیصل حسین اور احسن خورشید کو کل پاکستان واپس بھیج دیا جائے گا۔

اسلام آبادمیں ہفتہ وارنیوزبریفننگ میں ترجمان دفترخارجہ نفیس زکریا نےبتایاکہ بھارتی تحقیقاتی ایجنسی نے اپنی تحقیق مکمل کر لی اور بچوں کو بے گناہ قرار دے دیا۔ کل بچوں کو پاکستان حکام کے حوالے کر دیا جائے گا ۔ دونوں بچوں کی گرفتاری کے بعد سے بھارتی انتظامیہ سے رابطے میں ہیں۔ ابھی واضح نہیں کے بچے واہگہ سے آئیں گے یا براستہ ایل او سی ۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی حالیہ کارروائیوں میں بھارتی مداخلت کے نا قابل تردید شواہد موجود ہیں۔جماعت الاحرار، تحریک طالبان اورافغانستان میں دیگردہشت گرد گروہ پاکستان میں دہشت گردی کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں ۔کلبھوشن یادیو سے متعلق اب تک بھارت نے کوئی جواب نہیں دیا،اس معاملے پر سفارتی رسائی کا جواب وزرات داخلہ دے سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سمجھوتا ایکسپریس حملے میں 48 پاکستانی شہید ہوئےتھے۔آسیم آنند نے2007 میں سمجھوتہ ایکسپریس حملے کا بطورماسٹر مائنڈ اعتراف کیا۔

ترجمان دفترخارجہ کاکہناتھاکہ امریکا اوربھارت کے دفاعی تعاون کامعاہد ہ ان کادوطرفہ معاملہ ہے تاہم اگرکسی بھی معاہدے کا اثرپاکستان پر پڑا تو اس پرہمارے خدشات ہیں۔ توقع ہے این ایس جی میں بھارت کو دی گئی رعایت پرنظرثانی کی جائے گی ۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ بالآخر بھارت سندھ طاس معاہدے پر بات چیت کے لیے آمادہ ہے،پاکستان شروع سے ہی باہمی مسائل کے نتیجہ خیزمذاکرات سے حل کا حامی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY