فیصل حسین اعوان اور احسن خورشید واہگہ بارڈر پر پاکستانی حکام کے حوالے

0
176

اڑی حملے میں سہولت کاری کے شبہ میں گرفتار کیے گئے 2 کشمیری لڑکوں فیصل حسین اعوان اور احسن خورشید کو واہگہ بارڈر پر پاکستانی حکام کے حوالے کردیا گیا۔

اس موقع پر دونوں طلباء کے اہلخانہ بھی موجود تھے، جنھوں نے بچوں کی واپسی پر خوشی کا اظہار کیا۔

واضح رہے کہ دونوں لڑکوں کو گزشتہ سال ستمبر میں اڑی حملے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا، جنھیں 2 روز قبل بھارتی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے رہا کیا۔

این آئی اے نے لڑکوں کے حوالے سے اپنی حتمی رپورٹ میں لکھا کہ ’فیصل حسین اعوان اور احسن خورشید دہشت گردی کی اس کارروائی میں ملوث نہیں تھے۔‘

بھارتی تحقیقاتی ایجنسی کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ’دونوں لڑکے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے رہائشی ہیں اور اپنے والدین سے تعلیم کے معاملے پر جھگڑا کرکے سرحد کرکے غلطی سے سرحد پار کرگئے تھے۔‘

رپورٹ کے مطابق ’دونوں لڑکوں کے بیانات اور ان کے موبائل کے تکنیکی تجزیوں کی صورت میں حاصل ہونے والے ثبوتوں سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ ان کا اڑی میں فوجی کیمپ پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں سے کوئی تعلق تھا۔‘

این آئی اے نے دونوں لڑکوں کے خلاف کیس بند کرکے انہیں پاکستان واپس بھیجنے کے لیے بھارتی فوج کے حوالے کردیا تھا۔

دوسری جانب بھارتی حکام کا کہنا تھا کہ دونوں لڑکوں کو جذبہ خیر سگالی کے تحت رہا کیا جارہا ہے، کیونکہ پاکستان نے حال ہی میں بھارتی فوجی اہلکار چندو بابو لال چوہان کو رہا کیا جو گزشتہ سال بھاگ کر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر چلا گیا تھا۔

یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب اڑی میں واقع بھارت کے فوجی اڈے پر 18 ستمبر 2016 کو حملہ کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں 17 فوجی اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔

بھارتی فوج نے اس حملے کے الزام میں غلطی سے سرحد پار کرنے والے دو کشمیری لڑکوں فیصل حسین اعوان اور احسن خورشید کو گرفتار کرکے سہولت کاری کا الزام لگایا تھا، جو غلط ثابت ہوا۔

SHARE

LEAVE A REPLY