الحمد للہ حضور (ص) کی سیرت ختم ہوئی اس سے پہلے بھی میری تمام کتابیں پہلے اخباروں میں قسط وار آئیں اور مکمل ہونے کے بعد کتابوں کی شکل میں آپ تک پہونچیں۔ یہ بھی قسط وار آپ کے ہاتھوں تک نظر ثانی شدہ حالت میں انشا اللہ اختتام تک پہونچے گی ۔

یہ آپ سب جانتے ہیں کہ دنیا کبھی تو حید پرستوں سے خالی نہیں رہی البتہ تعداد بڑھتی اور گھٹتی رہی ،کیونکہ یہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ جہاں اس کا کوئی نام لیوا نہ رہے تو عذاب نازل فرماکرا س بستی کو ہی ختم کردیتا ہے۔ جب کہ تعداد بہت قلیل ہو تو وہاں موجود مسلمانوں کو پہلے کہیں اور منتقل فرماتا ہے پھر عذاب نازل فرماتا ہے آپ قرآن ملاحظہ فرمائیں تو آپ کو ایسی بہت سی مثالیں گی ۔ چونکہ وہاں اللہ کا سب سے پرانا گھر یعنی بیت العتیق کی شکل میں خانہ کعبہ موجود تھا۔ لہذا وہاں کے لیئے اس نے طریقہ کار ایسا رکھا کہ کبھی توحید پرستوں سے یہ بستی خالی نہیں رہی اور نہ ہی مکہ معظمہ کی اخلاقی حالت اتنی خراب ہوئی کہ اس پر عذاب نازل ہوتا۔ جو کہ ایک عذاب نظر آتا ہے ۔ وہ بھی کافی دور وادیِ محسر میں آیا تھا اور ابراہہ کی ہاتھیوں کی فوج کو ہلاک کرتا ہوا چلا گیا تھا۔ تاکہ اس کا گھر اور نبی (ص) آخر الزماں کی جائے پیدائش محفوظ رہے۔

اس وقت بھی اور اس کے بعد بھی وہاں اللہ والوں کا ایک گروہ موجود رہا جس کی تعداد حضور (ص) کے مبعوث ِرسالت ہونے پر گوکہ پچاس ساٹھ سے زیادہ نہیں تھی مگر تھی موجود ۔ جوکہ پہلے ہی سے اس تلاش میں تھے۔ کہ حضور (ص) مبعوث ہوں تو وہ ایمان لا ئیں ۔ اس کے ثبوت صرف مکہ تک ہی نہیں بلکہ مدینہ تک پھیلے ہو ئے ہو ئے تھے جہاں کے بہت سے طالع آزما آئے اور ناکام اور نامراد واپس گئے جس کا نام ااس وقت یثرب تھا۔ اسی لیے قر آن میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اپنے نبی (ص) سے فرما یا کہ “ یہ آپ کو اپنے بچوں سے بھی زیادہ پہچانتے ہیں “ حق پسند جوکہ دین ِ ابراہیمی پرقائم تھے انہوں نے حضور (ص) کو شروع میں ہی انکی صفات حمیدہ کی بنا پر پہچان لیا مگر وہ دو گرہوں میں بٹ گئے۔ کچھ تو فوراً ایمان لے آئے کچھ کو تعصب ، حسد اور تکبر مانع رہا ۔ پہلا گروہ جیسے ہی حضور نے دعوت عامہ دی وہ حضرت ابو بکر (رض) کے ساتھ ہی ایماان لے آیا۔ جبکہ حضرت ابو بکر (رض) ابتدائی دور میں ایمان لے آئے تھے۔ اور ان ہی کے ساتھ وہ اہل َ حق بھی تھے۔ جن کی تعداد83 اور چالیس کے درمیان تھی۔ ان سے پہلے ایمان لانے میں صرف حضور (ص) کے خاندان میں سے ان کی زوجہ محترمہ ام المونین حضرت خدیجہ الکبریٰ (س) تھیں جو کہ پہلی وحی پر ہی ایمان لے آئی تھیں اور حضور (ص) کو تسلی دی کہ آپ کو آپکارب تنہا نہیں چھوڑے گا۔ جبکہ دوسرے فردان کے زیر کفالت حضرت علی کرم اللہ وجہہ تھے جنہوں نے ان د ونوں کو نماز پڑھتے دیکھ کر اس کے بارے میں حضور (ص) سے دریافت کیا کہ یہ کیا ہے؟ اور حضور (ص) کی زبانی اس کی تعریف سن کر اور اللہ سبحانہ تعالیٰ کی حقیقت جان کر وہ بھی نماز میں شامل ہو گئے۔ جبکہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہمیں تاریخ میں اس وقت پہلی دفعہ نظر آتے ہیں ۔ کہ حضور کو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا کہ آپ اپنے اہلِ خاندان کو جہنم کی آگ سے بچائیں ؟ تو انہوں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو حکم دیا کہ تم کھانے اور پینے کے لے کچھ لے آؤ۔ وہ بقول ابن ِ کثیر (رح) کے ایک چھوٹے سے برتن میں دودھ اور ایک چھوٹے ہی سے برتن میں کچھ کھانا لے آئے جو ایک آدمی کے لیے بھی کافی نہ تھا۔حضور (ص) نے اپنے خاندان کو دعوت دی پہلے بسم اللہ کرکے کھانا پیش کیا جو چالیس اشخاص کو پوراہوکر پھر بھی بچ رہا۔ مگر ابو لہب نہیں مانا اور اس کو جادو کہہ کر کر بکتا جھکتا چلا گیا۔ مگر وہاں حضرت علی کرم اللہ وجہ کے سوا کوئی ایمان نہیں لا یا۔ حالانکہ حضور (ص) نے اتمام حجت کے لیے تین دفعہ سب کو دعوت دی اور ہر مرتبہ سب خاموش رہے؟تیسری مرتبہ حضرت علی کرم وجہہ سے حضور (ص) نے بیعت لے لی۔

حضرت ابو بکر (رض) کے ایمان لانے کے بعد وہ اڑتیس آدمی بھی ایمان لے آئے اورا سلام ایک طاقت کی شکل اختیار کرگیا۔ اور ان کی ایک جماعت بن گئی جوکہ تلاش حق میں پہلے ہی سے تھے اور اب حق خود چل کر ان کے پاس آگیا تھا۔ حضرت ابوبکر (رض) بضد ہوئے کہ ان کو کعبہ میں جاکر دعوت حق دینے کی اجازت مرحمت فرمائی جا ئے پہلے تو اجازت نہیں ملی مگر بعد دربار ِرسالت (ص) سےعطا ہوگئی۔ طے پایاکہ مسلمان ایک ایک کر کے کرکے حرم پہونچیں اور آخر میں حضرت ابوبکر (رض) وہاں پہونچ کر خطاب فرما ئیں۔اس طرح وہ پہلے خطیب تھے جنہوں نے ایمان لا نے کے بعد حضور (ص) کی موجودگی میں کعبہ میں جاکر خطاب فرمایا ، ان کو کفار نے اتنا زدو کوب کیا کہ ان کے خاندان والے ان کو مردہ سمجھ کر ان کے گھر چھوڑ آئے۔ لیکن اللہ سبحانہ تعالیٰ کو ان سے کام لینا تھا۔ انکو مزید زندگی عطا فرمائی اور اس طرح ان کے تشریف لانے کے بعداسلام کے نئے دور کا آغاز ہو ا۔( باقی آئندہ )

SHARE

LEAVE A REPLY