ہم سفر کا سفرِ آخرت۔۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی

0
657

ایک بچی تھی جس کی ماں بچپن میں نتقال کر گئی، جب اس نے ذرا ہوش سنبھالا تو اس کی یک ہی خواہش تھی کہ بڑی ہوکر میری شادی نہ کرنا صرف مجھے حج کرادیں؟ایک عجیب سی خواہش جوا س عمر کے بچوں میں عمو ماً نہیں ہوتی! ہر ایک کوسن کرحیرت ہوتی۔ کہ یہ بوڑھی روح اس میں کہاں سے آگئی ؟ اللہ جب مہربان ہونے پر آتا ہے توویسے ہی سامان پیدا کردیتا ہے۔ ایسے تاریخ میں بہت سے واقعات ہیں جیسے کہ جنگ احد میں ایک ایک صحابی کی آنکھ میں تیر کچھ اس طرح لگا کہ آنکھ باہر نکل آئی ،لوگوں نے کہا کہ اسکو کاٹ کر علیحدہ کر دیتے ہیں؟ وہ آنکھ کو اپنے ہاتھ میں دبا ئے ہوئے درباار ِ رسالت مآب (ص) میں آیا اور کہا کہ حضور (ص) یہ ماجرا ہے حضور (ص) نے فرمایا کہ تم آنکھ نکل وادو تمہیں جنت میں اس کے عیوض محل ملے گا؟ اس نے کہ کہا سرکار میری بیوی بھی ہے میں نہیں چاہتا کہ لوگ مجھے کانا کہیں ؟ حضور (ص)مجھے جنت اور آنکھ دونوں عطا فرما دیجئے؟ حضور (ص) نے اس کی آنکھ ہاتھ میں لی اور اسے اس کی جگہ پر رکھدیا ؟ وہ صحت یاب ہو گئے؟ اور بقول ا ن کے دوسری پیدائشی آنکھ سے بھی اس میں زیادہ روشنی تھی، یہاں بھی جو کل ہونے والا ہے اس کا اس بچی کوئی علم نہ تھا۔

دوسری طرف ایک بچہ تھا جس کی نانی صاحبہ ولی صفت تھیں اور وہ اس بچے کو اس طرح پرورش کر رہی تھیں کہ ہر لمحہ اسے یہ تلقین کرتیں کہ اپنے حضور (ص) نے یہ کام ا س طرح کیا ہے لہذا تم بھی ویسے ہی کرنا ؟ اور وہ روز بروز مذہبی ہو تا گیا؟چونکہ وہ ایک مدت تک اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا لہذا س کے ماں باپ اسے خود سے جدا کرنا نہیں چاہتے تھے، رہائش گاؤں میں تھی وہاں اتالیق (ٹیوٹر) پڑھانے کے لیے ہر وقت موجود رہتے اس طرح اس نے علم کا خزانہ تو حاصل کرلیا مگر جسے ڈگری کہتے ہیں ا س دور میں حاصل نہیں کرسکا، وہ بچی اس لڑکے کی منگیتر کی سہیلی تھی ۔ اسی دوران ہندوستان آزاد ہو گیا اور زمین داریری جاگیر داری اور ریاستیں ختم ہو گئیں تو منگیتر کے والدین پر یہ راز کھلا کہ لڑکے پاس ڈگری نہیں ہے۔گوکہ یہ عیب اس میں پہلے بھی تھامگر ہر عیب کو دولت ڈھانپ دیتی ہے ،جبکہ دولت نہ ہو تو آدمی ننگا ہوجاتا ہے کیونکہ دنیا کی نگاہ میں دولت نہ ہونا بذات ِ خود اک ننگ ہے؟لہذ بچپن کی منگنی ختم ہو گئی اور اس بچے کی والدہ غصہ میں بھری ہوئی اٹھیں اور وہ بچی جو ان کی رشتہ میں بھتیجی تھی اس کے والد کے پاس جا پہونچیں اور ان سے کہا کہ بھائی میں یہ سوال لیکر آئی ہوں اور مجھے جواب ابھی چاہیئے ؟ا نہوں نے کہا کہ مجھے اپنے رشتہ داروں سے مشورہ کر نا ہے۔ لہذا سہ پہر کو جواب دیدونگا! اور جب وہ سہ پہر کو پہونچیں تو جواب“ ہاں “ میں تھا۔

اس طرح اللہ سبحانہ تعالیٰ نے دو ایک جیسے دل ملا دیے اور ایک سوچ ہو نے کی وجہ سے وہ ایک کامیاب جوڑا ثابت ہوئے ۔ چونکہ لڑکا حضور (ص) کے ارشاد مطابق ایک حج پر یقین رکھتا تھا ۔ لہذا حج تو انہوں نے ایک جوانی میں ہی کر لیا اور عمرے بشمول رمضان مخصوص ماہ میں پانچ کیے ۔ اللہ اس جوڑے پر اتنا مہر بان ہوا کہ تمام نعمتیں بے حساب عطا فرما ئیں کہ انہوں نے دونوں ہاتھوں سے خرچ کیا؟ مگر نام نمود پر نہیں ہمیشہ راہ خدا میں ۔ لڑکے نے حضور (ص) سیرت سے لیکر صرف سیرت پر ہی گیارہ کتابیں لکھیں جبکہ کتابوں کی تعداد سترہ تھی جن کا اانتساب بیوی کے نام تھا کیونکہ لکھنے کی تحریک اور سہولیا ت بیوی کی طرف سے ہوتی تھی۔ اور اس کے علاوہ بے انتہا خرچ کیا مگر نام نمود پر نہیں صرف انسانوں پر بس یوں سمجھ لیجئے کہ زیادہ تر سرمایہ کاری صدقہ جا ریہ پر کی۔ شروع کے دور میں ایک مرحلہ ایسا بھی آیا کہ لوگوں نے ا س بچی کو بہکایا کہ زمانہ ایک سا نہیں رہتا لہذا کچھ برے وقتوں کے جوڑ کر رکھو ؟ اس بچہ کہ جواب یہ تھا کہ کر دیکھو آمدنی اس وقت تک دوبارہ شروع نہیں ہوگی جب تک یہ مال خرچ نہو جا ئے کیونکہ حضور (ص) شام تک کچھ بچا کر نہیں رکھتے تھے لڑکی نے آزمایا اور اس راز کو سچا پایا ؟اظہار تاسف کیا میں نے ایسا کیوں سوچا ، اور کہا کہ “ بھاڑ میں جائے ایسا کام کہ آدمی تکلیف بھی اٹھائے اور حاصل کچھ بھی نہ ہو “ اس کے بعد دونوں، دونوں ہا تھوں سے خرچ کرتے رہے مگر اس طرح کہ ایک ہااتھ سے دیں تو دوسرے خبر نہ ہو ۔ اور اس طرح ازدواجی زندگی کے 65 سال آنکھ چھپکتے گزر گئے؟

چونکہ لڑکے نے اللہ سے وعدہ کیا ہوا تھا کہ وہ جب اپنی ذمہ داریوں سے فارغ ہو جا ئے گا تو وہ صرف اللہ کے دین اور انسانیت کی خدمت کریگا ؟ لہذا بعد میں اس کا صرف یہ ہی کام تھا اور بیوی کا کام گھریلو ذمہ دار یا ں پو ری کر نا؟ صبح ناشتہ بس ساتھ ہو تا لڑکا اپنی راہ لیتا اور لڑکی کا وقت گھریلو ذمہ د اریوں میں میں گزرتا پھر رات کاکچھ ساتھ تہجد میں گزر تا؟ اب بڑھاپا آچکا تھا۔ واپسی کی تیاری شروع کردی تھی؟ جب بھی و ہ بیٹھتی تو لیکچر شروع ہو جا تا؟اپنے مرنے کے بعد ایک ایک تفصیل کا ذکر ہوتاکہ کیا کر نا ہے؟۔ اسپتال جا نے سے وہ ہمیشہ سے انکاری تھیں۔ اس لیے کہ وہاں ان کے کھانے پینے اور روزہ نماز کی کوئی گارنٹی نہ دے سکتا تھاَ۔ بیماری کے دوران ایک پوتے کی شادی میں اس طرح گئیں کہ ڈاکٹر منع کرتے رہ گئے کہ آپ برابر کے شہر تک سفر کرنے کے قابل نہیں ہیں ایسا نہ ہو کہ جہاز کو راستے میں لینڈ کر نا پڑے؟ ڈاکٹر کو جواب ملا کہ تم نے اوپر والے کو نہیں دیکھا ہے؟ اس نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا کہ کچھ نیچے والوں کو بھی سوچنا چاہیے؟ نہیں مانی گئیں اور الحمد للہ بخیریت لوٹ آئیں ۔ پھر اگلے سال نواسے کی شادی آئی کہنے لگیں یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں پوتے کی جاؤ ں اور نواسے کی شادی میں نہ جا وں یہ تو بے انصافی ہے؟ گئیں اور واپس آئیں۔ اپنے ہوں یا غیر سب میں بے انتہا مقبول ۔ ساری دنیا کی فکر میں ہلکان؟ گوکہ بچوں کے لیے کھلونا تھیں مگر ہر وقت انہں پند اور نصائح سے نوازتی رہتیں۔بس ایک ہی دعا تھی کہ االلہ مجھے چلتے ہاتھ پیروں اٹھا لے کسی کا محتاج نہ کرے۔ اک دن گردن میں بہت شدید درد شروع ہو ا ۔ تو کہنے لگیں کہ مجھے ہسپتال لے چلو! رات کا ڈیرھ بجا تھا ۔ میں نے کہا کہ ابھی امبولینس منگوالیتے ہیں کہنے لگیں کہ نہیں بچے پریشان ہونگے ؟ جبکہ در د اتنا شدید تھا کہ ناقابل ِ برداشت تھا۔ اس وقت بھی انہیں بچوں کی پریشانی کا خیال تھا؟

مجھے حیرت ہو رہی تھی کہ جو خاتون اسپتال جا نے کو کبھی تیار نہیں ہو ئیں۔ آج وہ خود بخود اسپتال جا نے کی فرما ئش کر رہی ہیں ؟ وجہ پوچھی تو کہا کہ یہ عام در د نہیں ہے جو اکثر گردن میں ہو تا رہتا ہے ؟ اسپتال میں داخل ہو ئیں ، تمام ٹیسٹ ہو ئے ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ خون میں زہر سرایت کر گیا ہے۔ انہوں نے علاج شروع کیا مگرکہا کہ کوئی دوا ثر نہیں کر رہی ہے لہذا کوئی امید نہیں ہے؟ اب کیا کریں ؟ جبکہ وصیت پہلے سے یہ تھی کہ مجھے مصنوئی تنفس پر نہ رکھا جا ئے اور ہارٹ کو تقویت دینے کی کو ئی کا روائی نہ کی جا ئے۔ ڈاکٹروں نے “ پلیٹو وارڈ “میں منتقل کر دیا۔ تمام بچو ں کوا طلا ع دیدی گئی وہ آگئے ان میں دوپورے ڈاکٹر اور ایک ادھور ڈاکٹرا اور دو بہوئیں ڈاکٹر جو کہ پٹی سے لگ کر بیٹھ گئے کیونکہ انکا کہنا تھاکہ مریض آخری وقت تک سنتا سب کچھ ہے مگر بات نہیں کر سکتا؟ آٹھ دس دن ہسپتال میں رہیں۔ انہیں بے ہوشی کے عالم میں بھی نماز پڑھتے دیکھا گیا، حتیٰ کہ آخری دن آگیا بچے جو چھٹییاں لیکر آئے تھے ۔ ان کے جا نے کا وقت آگیا؟

ہماری چھوٹی بیٹی کو نہ جانے کیا سوجھی کہ میری کتاب “ صدا بہ صحرا “سے اس نے وہ نظم نکالی جو کہ ان کے بارے میں نے کبھی کہی تھی۔ سب بچے چاروں طرف جمع ہو گئے۔ چونکہ بہت سے بچوں کو اردو نہیں آتی ، پوتے کی بیوی ان کے لیے ترجمہ کرتی جا رہی تھی اور بیٹی سنا رہی تھی جب وہ اس شعر پرپہونچی ع اچھا ہی ہوتا اگر ہم ساتھ ہی جاتے وہاں ، کون جا نے کون ہے اب پہلے جانے کے لیے “ تو اس نے دیکھا کہ دو نوں گھر کے ڈاکٹر ان پر جھکے ہوئے اماں کو خدا حافظ کہہ رہے تھے۔ اور اسی دوران ان کی روح پروازکرگئی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون

اب وصیت کا وقت آن پہونچا تھا کہ تہحیز اور تدفین میں دیر نہ کی جائے، رات کے وقت ہی ساری تیاریاں مکمل ہو گئیں، سوائے “ڈیٹھ سرٹیفکت “ کے اس میں دیر لگ سکتی تھی وہ مر حلہ بھی پانچ منٹ میں طے ہو گیا۔ اب میں سوچ رہا تھا کہ برف باری ہو رہی ہے تہجیز اور تدفین کیسے ہو گی اور لوگ کیسے پہونچیں گے۔صبح ہو ئی کھڑکی سے جھانکا تو دیکھاکہ برف غائب ہے لہذا لوگ بھی بآسانی پہونچ گئے۔ جن خواتین اور گھر والوں نے انکا چہرا دیکھا تو اس پر جھریاں غائب تھیں وہ اسی طرح ترو تازہ تھا جیسا کہ کبھی جوانی میں کبھی ہو ا کرتا تھا۔ یہیں مجھے حضور (ص)ارشاد کی اس صداقت کا یقین ہو ا جس میں انہوں (ص) فرما یا ہے کہ ایک جنتی روح کے بارے میں یہ کہ “فرشتہ جب روح قبض کرنے آتے ہیں وہ خوشی خوشی با ہر آجاتی ہے۔ پھر اس کو فرشتے درجہ بدرجہ عرش تک لے جاتے ہیں اور وہاں سے حکم ہو تا ہے۔ کہ اسے لے جاکر اس کی قبر میں لٹا دو ؟ اور جنت کی کھڑکی کھول دو۔ اور فرشتے واپس اس کو قبر میں لے جا کر لٹا دیتے ہیں “ اس کو مزید تقویت اس سے ملتی ہے کہ قر آن میں اللہ سبحانہ تعالیٰ فرماتا کہ اے نبی (ص) کاش توا س وقت دیکھے جب کافر کی روح نکا لی جاتی ہے۔ تو وہ چھپتی پھر تی ہے۔ جبکہ مومن کی روح خوشی خوشی باہر آجاتی ہے۔ اس کے بعد دوسرے دن برف باری شروع ہوگئی تیسرے دن قرآن خوانی رکھی گئی ۔ پھر وہی مسئلہ تھا کہ لوگ کیسے آئیں گے؟ وہ بھی ویسے ہی آئے جیسے کہ پہلے آئے تھےبلکہ ایک صاحب تو کہنے لگے کہ میرے طرف اس وقت برف باری ہو رہی تھی میں نے کہامیں جا ؤنگا ضرور چاہیں ٹکسی کر نا پڑے ۔مگر تھوڑی دیر میں دیکھا کہ وہ رک گئی ہے ؟ دھوپ نکل آئی اور میں ڈرائیو کر تا ہوا یہاں پہونچ گیا

۔ مجھے صرف یہاں یہ بتانا ہے کہ آج بھی جہاں اللہ والوں سے خالی نہیں ہے۔ جو اس کا ہو جا ئے اس کے لیے سب کچھ یہاں بھی ہے اور وہاں بھی ہے۔ بقول علامہ اقبال (رح) کہ تم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیں جلوہ طور تو موجود ہے موسیٰ نہیں

SHARE

LEAVE A REPLY