لاہور کا پاک ٹی ہاؤس کیا عہد رفتہ کی یاد تازہ کر سکے گا

2
121

ایک زمانے میں یہاں ناصر کاظمی، میرا جی، فیض احمد فیض، اشفاق احمد، منٹو، سجاد باقر رضوی، حبیب جالب، حمید اختر، احمد ندیم قاسمی، منیر نیازی، شہزاد احمد اور قتیل شفائی جیسے بڑے ادیب پاک ٹی ہاﺅس میں بیٹھا کرتے تھے۔ دوسرے شہروں سے آنے والے لوگوں کیلئے ان بڑے ادیبوں سے ملنے کیلئے اس ادبی ٹھکانے کا چکر لگانا ہی کافی تھا۔

اب اگر کوئی پاک ٹی ہاﺅس کا رُخ کرے گا تو اسے اس کے دروازے کے ساتھ انیس ناگی نظر نہیں آئیں گے۔ سامنے والی دیوار کے ساتھ صوفے پر درویش صفت ادیب اسرار زیدی اپنے مخصوص انذاز میں سگریٹ پیتے دکھائی نہیں دیں گے۔ کاﺅنٹر کے سامنے والی میز پر سہیل احمد خان پائپ سے کھیلتے نظر نہیں آئیں گے۔ بابا یونس ادیب بھی نہیں ہوں گے۔

یہ ہستیاں تو ماضی قریب کی ہیں ….
وے صورتیں الٰہی کس دیس بستیاں ہیں
جنہیں دیکھنے کو اپنی آنکھیں ترستیاں ہیں

ایک زمانہ تھا، ٹی ہاﺅس میں روزانہ آنے والے اے حمید اور ابن انشا تھے۔ اے حمید فیض باغ سے نکل کر ابن انشا کے ہاں پہنچتے اور پھر ٹی ہاﺅس پہنچ جاتے۔ اے حمید نے ”نوائے وقت“ میں اپنے ٹی ہاﺅس کے زمانے کو نہایت خوبصورت انداز میں لکھا۔ اے حمید بھی اس دنیا میں نہیں ہیں لیکن انکی روح ٹی ہاﺅس کی بحالی پر ضرور خوش ہو رہی ہو گی۔ جو ادیب اپنے حصے کا کام کر کے اس دنیا سے جا چکے ہیں ان کا خلا تو کبھی پورا نہیں ہو گا لیکن اب نئی نسل سامنے آ چکی ہے۔

اب ٹی ہاﺅس جیسے ادبی مرکز کو آباد کرنے اور جونیئر ادیبوں کی رہنمائی کرنے کیلئے جناب ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا، محترم عطاالحق قاسمی، ڈاکٹر تبسم کاشمیری، ڈاکٹر یونس جاوید، ڈاکٹر سعادت سعید، جناب خالد احمد، جناب نجیب احمد، جناب غلام حسین ساجد جیسی شخصیات سے ہی التماس کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنا قیمتی وقت نکالیں۔ ٹی ہاﺅس کے نئے منظر نامے میں جناب فرحت عباس شاہ، ڈاکٹر اختر شمار، جناب رشید مصباح، پروفیسر شفیق احمد شفیق، زاہد حسن رانی نذیر،عمرانہ مشتاق مانی اور پروفیسر منور عثمانی اپنا ادبی کردار ضرور ادا کریں گے۔ ٹی ہاﺅس کی بحالی دراصل ادب کی بحالی ہونی چاہئے۔

یہ ایک ایسا مرکز تھا جہاں ادیب شاعر آزادی سے بیٹھا کرتے تھے اور ادب کی گتھیاں سلجھاتے تھے۔ ٹی ہاﺅس کوئی چائے کی بحالی نہیں ہے۔ چائے خانے تو قدم قدم پر واقع ہیں۔ ادب ایک صحت مند سرگرمی ہے۔ اگر معاشرے میں ادبی سرگرمیوں کا رواج عام ہو جائے اور لوگ ادب پڑھنے کی طرف راغب ہو جائیں تو کئی فضول اور منفی سرگرمیوں سے نجات مل سکتی ہے۔ ادبی مکالموں اور بحث مباحثوں سے انسان کا کتھارسس ہو جاتا ہے، اپنی بات دوسروں تک پہنچائی جا سکتی ہے اور دوسروں کی باتیں سمجھی جا سکتی ہیں۔

ٹی ہاﺅس کیلئے وقت کی پابندی کی جا رہی ہے۔ ٹی ہاﺅس ایک ادبی مرکز رہا ہے، اسے کوئی سرکاری محکمہ نہ بننے دیا جائے، جہاں رجسٹر حاضری موجود اور کام دھیلے کا نہ ہو، بہت سے سرکاری محکموں کا انجام ہمارے سامنے ہے۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف ٹی ہاﺅس میں دی جانے والی چائے اور دیگر لوازمات کے نرخوں کو کم کرنے کے احکامات صادر فرمائیں کیونکہ ادیبوں کا من پسند مشروب لے دے کر چائے ہی ہے جو 30 روپے میں دستیاب ہے

سید تاثیر نقوی

SHARE

2 COMMENTS

    • جناب سیدی تاثیر نقوی۔ آپکا نام نامی پہلے ہی اگر غور سے دیکھین تو اس تحریر کے نیچے درج ہے
      والسلام
      صفدر ھمدانی

LEAVE A REPLY