ہمارے ہاں صاحبان ثروت لوگ سوئٹزرلینڈ،سکاٹ لینڈ اور امریکہ و یورپ کی قدرتی خوبصورتی دیکھنے کے لیئے زر کثیر خرچ کر کے جاتے ہیں لیکن وطن عزیز میں قدرتی حُسن کی جانب توجہ بہت کم ہے اور اسکی ایک بنیادی وجہ کسی بھی حکومت کا سیاحت کو صنعت کا درجہ نہ دینا ہے اور پھر جتنی تشہیر حکومت اپنی کرتی ہے اسکا ایک فیصد بھی ان تفریحی مقامات کی تشہیر کی جاتی تو آج صورت حال مختلف ہوتی

islamabad

جیسے متعدد ادارے ملک کے غیر فعال ہیں اسی طرح سیاحت کا ادارہ اسقدر غیر فعال ہے کہ اسکا پورا نام بھی پڑھے لکھے طبقے کو معلوم نہیں چہ جائیکہ عام آدمی۔ ایسے میں اسلام اباد کے چند مقامات ایسے بھی ہیں جو عوام نے خود مقبول کر دیئے ہیں جن میں ایک دامن کوہ سے کچھ فاصلے پر پیر سوہارہ اور منال ہے۔ سیاحوں کی بڑی تعداد اسے کھانے پینے کے حوالے سے منال ریسٹورینٹ کی مناسبت سے جانتی ہے اور بیرون ملک سے آنے والوں کے علاوہ ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والے سیاح اب اگر منال نہ جائیں تو انکا سفر ادھورا رہ جاتا ہے

aaj ki tasweer manal

کیا اچھا ہوتا کہ سیاحت کی وزارت اور دیگر شعبے ان مقامات کا ایک مختصر سا کتابچہ انگریزی اردو میں شائع کرتے جنکو فروخت بھی کیا جاسکتا ہے

اسلام آباد پاکستان کا قومی دارالحکومتی شہر ہے جو اسلام آباد وفاقی دارالحکومت کے اندر واقع ہے۔ 1998ء میں كى گئی مردم شمارى کے مطابق اس شہر كى آبادى 805٫235 تھی جبکہ حال ہی میں ایک تخمینے کے مطابق اس شہر کی آبادی تقريبا بیس لاکھ کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے، جس کی وجہ سے یہ پاکستان کا نواں بڑا شہر قرار دیا گیا ہے۔ اس شہر کو 1964ء ميں پاکستان کے دارالحکومت کا درجہ ديا گيا۔ اس سے پہلے کراچی کو يہ درجہ حاصل تھا- اسلام آباد کا شمار دنيا کے چند خوبصورت ترين شہروں میں ہوتا ہے۔ اسلام آباد پاکستان کا سب سے زیادہ شرح خواندگی والا شہر ہے جوایک صاف، پرسکون اور سبز شہر کے طور پر جانا جاتا ہے۔

manal7

۔اس کے اہم اور قابل ديد مقامات ميں فيصل مسجد، شکر پڑياں، دامن کوہ اور چھتر باغ شامل ہیں۔اس کے علاوہ پير مہر علی شاہ كا مزار جو کے گولڑہ شريف میں واقع ہے اور برى امام كا مزار جو کے مغل بادشاہ اورنگزيب نے اپنى دورحكومت میں تعمير كروايا تھا، اس کے علاوہ جنوبی ایشیا کی سب سے بڑی مسجد فیصل مسجد بھی اسی شہر میں ہے۔

manal4

اسلام آباد سطح مرتفع پوٹھوھار میں مارگلہ پہاڑی کے دامن میں واقع ہے۔ اسکی بلندی540 میٹر (1,770 فٹ) ہے۔یہ شہر اور قدیم شہر راولپنڈی کےساتھ ہی واقع ہیں اور جڑواں شہر کہلاتے ہیں اسکے شمال مشرق میں پہاڑی علاقہ مری واقع ہے

اسلام آباد کی آب و ہوا پانچ موسموں پر مشتمل ہے: موسم سرما ( نومبر فروری) ، موسم بہار ( مارچ اور اپریل ) ، موسم گرما ( مئی اور جون ) ، مون سون یعنی برسات ( جولائی اور اگست ) اور موسم خزاں ( ستمبر اور اکتوبر)۔ سب سے گرم مہینہ جون کا ہوتا ہے، سب سے ٹھنڈا مہینہ جنوری کا جبکہ جولائی کے مہینہ میں سب سے زیادہ بارشیں ہوتی ہیں۔

اسلام آباد مارگلہ ہلز کے دامن میں آباد ہے۔ان پہاڑوں کی اونچائی پانچ ہزار دو سو باسٹھ فٹ ہے۔قدرتی مناظر کے دلدادہ افراد کے لئے مارگلہ ہلز میں بہت کشش ہے۔یہاں پر جدید مواصلات کا نظام قائم ہے تفریحی مقامات پر کم وقت پر پہنچا جاسکتا ہے۔یہاں پر ہائکنگ اور راک کلائمبنگ کے لئے سہولیات موجود ہیں۔اکثر سردیوں میں یہاں برف باری اور ژالہ باری بھی ہوتی ہیں۔مارگلہ ہلز پر بہت سے ریسٹورنٹس بنائے گئے۔یہاں پر پرندوں جانوروں کی بھی بہت بڑی تعداد موجود ہے۔ پکنک اور فوٹوگرافی کے لئے یہ جگہ بہترین ہے۔

manal6

پیر سوہاوہ اسلام آباد شہر سے سترہ کلو میٹر کی دوری پر مارگلہ ہلز کی بلندی پر واقع ہے۔یہ جگہ سیاحوں اور شہریوں کی پسندیدہ جگہ ہے۔اس جگہ پر واقع ریسٹورنٹس سے شہر کا بہترین نظارہ ہوتا ہے ۔گرمی کے دونوں میں اکثر شام کے وقت لوگ اس جگہ کا رخ کرتے ہیں

یہاں ہائکنگ کے متعدد راستے ہیں لیکن ایک قدرتی ٹریک ۔مارگلہ روڈ ایف فائیو کے آخر میں بائیں جانب سے شروع ہوتا ہے۔اس کے آغاز پر ہی ایک خوبصورت پانی کا جھرنا ہے۔واک ہائکنگ کے علاوہ یہاں پر پکنک کرنے والے افراد بھی یہاں بڑی تعداد میں آتے ہیں۔۔ یہ ٹریک مارگلہ ہلز کے ٹاپ پر منال ریسٹورنٹ کے پاس اختتام پذیر ہوتا ہے۔

monal resturant

اس جگہ کو منال کیوں کہتے ہیں اس پر بہت کم روشنی ڈالی گئی ہے اور کسی تحقیق کرنے والے کو کوئی بہت زیادہ مواد نہیں ملتا۔ اب تو اسلام اباد جانے والوں کا سفر منال کے بغیر مکمل نہیں ہوتا

منال کی ایک وجہ تسمیہ یہ بھی ہے

 مور کی نسل کا ایک پرندہ منال ۔ اسکی تین اہم اقسام ہیں
ہمالیائی منال (Lophophorus impejanus)
سکلاٹر منال (Lophophorus sclateri)
چینی منال (Lophophorus lhuysii)

کوہ ہمالیہ کا منال نیپال کا قومی پرندہ ہے۔ بھارت کی ریاستوں ہماچل پردیش اور اترانچل میں ریاستی پرندہ کا درجہ حاصل ہے۔ تیزی سے ختم ہوتے ہوئے اس پرندے کو نو رنگوں والا پرندہ بھی کہا جاتا ہے۔

monal

پیر سوہاوہ یا پیر سہاوا اسلام آباد سے 17 کلومیٹر (11 میل) سلسلہ کوہ مارگلہ کی ایک چوٹی پر واقع مقبول سیاحتی مقام ہے۔ یہ منال گاؤں میں 3000 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ جغرافیائی طور پر یہ ضلع ہری پور کا حصہ ہے۔ بسا اوقات یہاں پر برف باری بھی ہوتی ہےاسلام آباد میں مارگلہ کی پہاڑیوں کے بیچوں و بیچ یہ تفریح مقام پیرسوہاوہ کبھی پیر سابہ کے نامے سے مشہور تھا
دامن کوہ سلسلہ کوہ مارگلہ کے وسط میں واقع اسلام آباد کو دیکھنے کے لیے ایک نقطہ ہے۔ یہ سطح سمندر سے تقریبا 2400 فٹ اور اسلام آباد شہر سے تقریبا 500 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ یہاں بندر موسم سرما کے دوران عام طور پرنظر آتے ہیں۔ چیتے اکثر برف باری کے دوران مری کی بلند پہاڑیوں سے اترتے ہیں۔

paro manal march17

سوچتا ہوں کہ وطن عزیز کی غالب اکثریت فوڈ ستریٹ سنڈرم سے باہر نکلے تو اللہ کے عطا کردہ اس لافانی حُسن کی جانب متوجہ ہوں

صفدر ھمٰدانی

اس تحریر میں انٹرنیٹ کے مواد کی بھی مدد شامل ہے

SHARE

LEAVE A REPLY