یہ انتباہ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

ٹفٹس یونیورسٹی کی تحقیق کے دوران ڈیڑھ ہزار سے زائد افراد کا جائزہ چودہ سال تک لیا گیا جو کہ ہر ہفتے تین بار کولڈ ڈرنک پینے کے عادی تھے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ ان افراد میں ذیابیطس سے قبل لاحق ہونے والے مرض کا خطرہ 46 فیصد تک زیادہ ہوتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ہفتے میں صرف تین بار کولڈ ڈرنک کین کو پینا طبی مسائل بڑھانے کے لیے کافی ثابت ہوتا ہے۔

تحقیق کے مطابق اس کی ایک ممکنہ وجہ یہ ہے کہ کولڈ ڈرنکس میں شامل مٹھاس پینے والے کے جسمانی نظام میں گلوکوز اور شکر کی مقدار بہت زیادہ بڑھا دیتی ہے۔

یہ اضافی گلوکوز اور شکر جسم میں مختصر مدت کے لیے بلڈ شوگر کو بڑھا دیتے ہیں جبکہ طویل المعیاد بنیادوں پر یہ جسمانی نظام کو زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں۔

یعنی ایسا ہونے سے لبلبے سے خارج ہونے والے انسولین میں تبدیلی آتی ہے، یہ وہ ہارمون ہے جو جسم کو گلوکوز جذب کرکے توانائی میں بدلنے میں مدد دیتا ہے، جس کے نتیجے میں انسولین کی مزاحمت کا عارضہ لاحق ہوتا ہے۔

اس عارضے میں جسم کو زیادہ سے زیادہ مقدار میں انسولین کی ضرورت ہوتی ہے اور جب جسم ایسا کرنے سے قاصر رہتا ہے تو گلوکوز خون میں جمع ہونے لگتا ہے اور پری ڈائیبیٹس اور پھر ذیابیطس کے مرض کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY