میں نے بہت کم ہی اس موضوع پر لکھا ۔شاید اس لئے کہ جب ہم اتنے بے حس ہو جائیں کہ نہ اپنی بے عزتی پر اُٹھیں اور نہ اپنی بے حرمتی کو برا سمجھیں تو پھر شکوہ کس سے کریں
۔اُن سے جنہیں اپنی سمجھ بھی نہیں ۔جنہوں نے عورت کو صرف اور صرف ایک شو پیس سجانے کا مال یا اپنی اپنی تجارت بڑھانے کا زریعہ سمجھ رکھا ہے ۔جو اُس کی مجبوری سے فائدہ اُٹھاتے ہیں اور اُس کی کمزوری سے بھی ۔جو سال میں ایک دفعہ خواتین کا دن منا کر بے فکر ہو جاتے ہیں۔ اور ہم خود بھی اسی زُمرے میں اآتے ہیں کہ ہمیں اپنی اہمیت کا احساس ہی نہیں ہوتا ۔

مرد کو قوام بنایا گیا عورت کی عزت اور ناموس کا محافظ باپ ہے جب ،بھائی ہے جب ،شوہر ہے جب ،دوست ہے جب ،رشتے دار ہے جب ،بڑا ہے جب چھوٹا ہے جب وہ ہر طرح عورت کی عزت اور عظمت کا محافظ ہے ۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ جب ہمارے مرد حضرات اپنی کسی کمزوری پر پردہ ڈالتے ہیں تو گھر کی خواتین کو بھی گھسیٹ لاتے ہیں اور یہ بھی نہیں سوچتے کہ اگر یہ ہی بات خود اُن کی بہنوں بیٹیوں کے لئے کی جائے تو انہیں کتنی تکلیف ہوگی ۔وہ یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ وہ بھی ان رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں ۔جیسا کہ ہم کافی دنوں سے دیکھ رہے ہیں کہ عورت اگر پارلیمنٹ میں ہے تو اُس کی بے حرمتی ہے ۔اسمبلیوں میں بڑے بڑے بزرگ لوگ بھی اپنی حدوں کو پار کرتے نظر آتے ہیں لیکن کوئی بھی احتجاج کرتا نظر نہیں اآتا ۔کوئی ان کی بے عزتی پر شور کرتا دکھائی نہیں دیتا نہ وہ این جی اوز جو عورت کو مغربی اقدار پر گھسیٹی نظر آتی ہیں جو ہر دم اُنکے حقوق کا رونا روتی اور تقریریں کرتی نظر آتی ہیں اور نہ ہی وہ خواتین جو میڈیا پر ہوتی ہیں حالانکہ انکی بھی زندگی ایک تلوار ہی پر چل رہی ہوتی ہے وہ بھی خوفزدہ ہی ہوتی ہیں کہ کہیں زرا بھی کچھ ہوا تو لینے کے دینے پڑ جائینگے ۔

ہمیں شدید احتجاج کرنا چاہئے تھا کہ کسی بھی عورت کی حرمت پر بات کرنے والوں کو نہ اسمبلی میں رہنے دیا جائے اور نہ ہی کسی بھی ایسی پوسٹ پر جوعورتوں کو حراساں کرنے میں شامل ہوں ۔مگر ہماری تو خواتین بھی اپنے اوپر ہونے والی زیادتیوں پر آواز نہیں اُٹھاتیں پھر ساتھ کون دے گا ۔ایسا لگتا ہے کہ ہم واپس جہالت کے دور میں چلے گئے ہیں جہاں عورت صرف اور صرف ایک جنس کا نام تھا جو خریدی جاتی تھی بیچی جاتی تھی ،دفنائی جاتی تھی ۔جو اُس دور میں ایک بے وقعت ہستی تھی لیکن اسلام نے جب عورت کو ایک مضبوط مقام دیا تو شاید کچھ جاہلوں نے اُسے آج تک قبول نہیں کیا اور صرف اپنے گھر کی خواتین تک عزت کو محدود کر دیا جو ایک انتہائی قابلِ گرفت اور نا قابلِ قبول عمل ہے کہ جہاں اُس ہستی کو جو تمہیں ہر قدم پر سہارا دیتی تمہارے ساتھ کھڑی ہوتی نظر آتی ہے اُ سے تم اس قابل بھی نہ سمجھو کہ اُس کی تکریم کرو اور نا زیبا باتوں سے اُسے اُسی طرح بچاؤ جس طرح اپنے گھر کی خواتتین کو بچاتے ہو ۔

عورت غیرت کے نام پر قتل کر دی جاتی ہے کس کی غیرت کبھی بھائی کی غیرت ،کبھی باپ کی غیرت ،کبھی شوہر کی غیرت ب،لیکن وہ اس حد تک پہنچتی کیوں ہے کیا کسی بھی باغیرت نے یہ سوچنے کی تکلیف گوارہ کی ؟؟ شاید کبھی نہیں کیسنکہ وہ اُسی وقت تک اس غیرت کا پرچار کرتا ہے جہاں تک اُس کا فائدہ ہے ۔جب عورت دوپٹہ اتار پھینکتی ہے تو کوئی مرد اُسے یہ احساس دلاتا نظر نہیں اآتا کہ یہ تیری حرمت ہے غیر مرد کے سامنے اس طرح اآئیگی تو اللہ بھی ناراض ہوگا ۔اور معاشرے کی گندی نظریں بھی تجھ کو چھان ڈالینگی ۔مگر وہ ماڈرن بنادی جاتی ہے کہ جتنا تیرا لباس کم ہوگا تو اُتنی ہی پڑھی لکھی اور ماڈرن سمجھی جائیگی ۔اُس وقت کسی بھائی کسی باپ کسی شوپہر کی غیرت جوش نہیں کاھتی کہ نہ میں اپنے گھر کی عورتوں کو بغیر دوپٹہ رکھونگا اور نہ معاشرے میں یہ بات پھیلنے دونگا ۔ہم نے تو مولانا حضرات کو بھی کبھی کسی خاتون کو یہ تنبیہ کرتے نہیں دیکھا کہ میں اآپ کے پروگرام میں جب اآؤنگا جب اآپ گلے میں دوپٹہ ڈالینگی ۔ہم تو حیران ہیں اپنے مذہبی لوگوں پر بھی کہ وہ خواتین کو برا بھلا کہنے میں تو ایک منٹ نہیں لگاتے مگر اُن کی بھلائی کی کسی بات میں انہیں قائل نہیں کرتے ۔ہم نے معاشرے کو جس طرح بر باد کیا ہے وہ بھی ہمارا ہی حصہ ہے ۔

کیا ہمارا لباس ایسا نہیں ہونا چاہئے جو ہمارے ماحول اور کردار کی عکاسی کرے خاص کر خواتین کا ۔اس لئے ہمارا دل دکھتا ہے ہم اسی لئے ان موضوعات پر بہت کم ہی قلم اُٹھاتے ہیں کہ جب کوئی اچھے برے کی تمیز ہی نہ رکھے تو نصیحت بھی بے کار ہی لگتی ہے جب سب ایک ہی بات پر اکھٹے ہوجائیں کہ ہمیں تو خود کو بدلنا صرف تباہی کے لئے ہے تو کیا کہہ سکتے ہیں ۔حالانکہ دوپٹہ کسی بھی طرح آپ کے کسی بھی شعبے میں حائل نہیں ہوتا وہ تو آپ کی خوبصورتی اور اآپ کی شخصیت میں وقار پیدا کرتا ہے ۔لیکن ہم نے اُسے مغرب کی قبر میں دفن کردیا پھر ہم کس بات پر شکوہ کریں جب ہم خود کو خود ہی ان قعرِ مزلت میں جھونک رہے ہیں تو پھر کس سے شکوہ ۔

دُکھ کی بات ہے کہ ہم اپنی بہنوں بیٹیوں کو تو ڈھکا رکھنا چاہتے ہیں لیکن دوسروں کی بہنوں بیٹیوں کو کُھلا رکھنا چاہتے ہیں جو کسی صورت بھی نہ عورت کے حق میں ہے نہ ہی معاشرے کے حق میں ۔کہ شرم و حیاء عورت سے ہی منصؤب ہے اور اُسی کا طُرئہ امتیاز ہے ۔وہ اِسے خود ہی برقرار رکھ سکتی ہے ۔لیکن جہاں نام و نمود آجاتا ہے تو شناخت ختم ہوتی نظر آتی ہے ۔ہمیں اس معاملے میں محترمہ بے نظیر ہمیشہ پسند رہی کہ انہوں نے کبھی اپنی شناخت پر سمجھوتہ نہیں کیا وہ بڑے سے بڑے لیڈر کے سامنے سر ڈھک کر بیٹھیں جس نے اُن کی قدر و منزلت میں ہمیشہ اضافہ کیا اور اُن کے دور میں خواتین نے خود کو بھی دوپٹے کے حصار میں رکھا ۔جس طرح ہم اپنے ملک میں مغربیت کا پر چار کر رہے ہیں ہمیں خوف ہے کہ کہیں ہماری خواتین بھی اُن ہی دُکھوں کا شکار نہ ہو جائیں خدا نخوستہ جس کا شکار یہ مغربی معاشرہ ہے ۔یہاں کی عورت کا دُکھ ،بے توقیر ہونا ہی ہے جو اُسے اکیلی ماں بننے پر مجبور رکھتا ہے ۔

ہمارے مرد ہمارے قوام ہیں ہم انہیں یہ درجہ دیتے بھی ہیں ۔تو چاہئے کہ ہماری عزت اور توقیر کریں یوں منہ اُٹھا کر کسی کی بھی ماؤں بہنوں کو اپنی سیاست کے نشے میں نہ روندیں ۔کہ مکافاتِ عمل سے ہر شخص کو ڈرنا بھی چاہئے اور اپنے اعمال پر نظر بھی رکھنی چاہئے ۔وقت کی چکی میں کوئی بھی کسی وقت بھی پِس سکتا ہے اس لئے اپنے گریبانوں میں ضرور جھانک لیں ۔
اللہ میرے ملک کے ہر فرد کو اپنی حفاظت میں رکھے آمین

SHARE

LEAVE A REPLY