امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کو مشتبہ عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے ڈرون حملے کرنے کا اختیار دے دیا۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کا کہنا تھا کہ یہ اقدام سابق امریکی صدر براک اومابا کی انتظامیہ کی پالیسی سے یکسر مختلف ہوگا جو سی آئی اے کی فوج میں مداخلت کو کم سے کم رکھنا چاہتے تھے۔

تاہم اس رپورٹ پر وائٹ ہاؤس، امریکی محکمہ دفاع اور سی آئی اے کا موقف سامنے نہیں آسکا۔

خیال رہے کہ دیگر ممالک کی جانب سے اپنے اپنے ڈرون پروگراموں کے آغاز کے بعد سابق صدر براک اوباما نے ڈرون کے استعمال کے لیے عالمی رہنما اصول کے تعین کی کوشش کی تھی۔

ستمبر 2001 میں نیو یارک اور واشنگٹن میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد امریکا وہ پہلا ملک تھا جس نے میزائلوں سے لیس خودکار طیاروں کا استعمال کیا۔

ان طیاروں اور ڈرونز کی مدد سے سمندر پار حملوں کا آغاز سابق صدر جارج ڈبلیو بش کے عہد صدارت میں ہوا جبکہ براک اوباما کے دور میں یہ سلسلہ مزید وسعت اختیار کرگیا۔

ٹارگٹ حملوں کے ناقدین سوال کرتے ہیں کہ یہ حملے عسکریت پسندوں کو ختم کرتے ہیں یا ان میں اضافے کی وجہ ہیں؟ ساتھ ہی وہ عسکریت پسندوں کی جماعتوں اور دنیا بھر میں دہشت گرد حملوں میں ہونے والے اضافے کو اس کی مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ برس جولائی میں امریکی حکومت نے مختلف ممالک میں فضائی حملوں کے دوران 116 شہریوں کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کی تھی اور یہ وہ ممالک تھے جن کے خلاف امریکا مصروفِ جنگ ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY