دو دن تک گھنٹوں پوچھ گچھ کے بعد اسپاٹ فکسنگ کیس میں شرجیل، خالد اورعرفان کے بعد شاہ زیب حسن نے بھی بکیز سے رابطوں کا اعتراف کرلیا۔

اسپاٹ فکسنگ کے لیے بکیز کی آفر کا بھانڈا پھوڑنے والے شاہ زیب حسن سے پوچھ گچھ مکمل ہوگئی۔

پاکستان کے ایک اور کرکٹر نے بکیز سے رابطے کا اعتراف کر لیا ہے، انٹرنیشنل کرکٹر شاہ زیب حسن سے پی سی بی اینٹی کرپشن یونٹ نے طویل بیان ریکارڈ کیا، جس میں شاہ زیب نے تسلیم کیا کہ انہوں نے بکیوں کے رابطوں کی رپورٹ کرنے میں تاخیر کی۔

شاہ زیب حسن کو اینٹی کرپشن یونٹ نے مسلسل دوسرے دن بھی قذافی اسٹیڈیم طلب کیا اور 2سیشن میں 4گھنٹے تک بیان ریکارڈ ہوتا رہا،جس کے بعد پی سی بی نے بتایا کہ دوسرے دن کی کارروائی مکمل ہو گئی ہے، تمام تر جائزہ لینے کے بعد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران انٹی کرپشن یونٹ شاہ زیب حسن سے زیادہ تر یہی پوچھتا رہا کہ بکیوں سے رابطوں کی اطلاع تیسرے روز رپورٹ کیوں کی، کیونکہ تاخیر بھی جرم ہے۔

شاہ زیب حسن نے کہا کہ فیملی سے متعلق دھمکی آمیز فون بھی آئے اور وہ گھبراہٹ کا شکار رہے، کارروائی کے دوران شرجیل خان اور خالد لطیف سے متعلق بہت سوالات کیے گئے اوردوسرے کھلاڑیوں کو اکسانے کے حوالے سے بھی بار بار پوچھا گیا۔

ذرائع کے مطابق شاہ زیب حسن کا کہنا تھا کہ انٹی کرپشن یونٹ مکمل چھان بین کر سکتا ہے، انہوں نے صرف بکیز کے رابطوں کو رپورٹ کرنے میں تاخیر کی ہے۔

اسپاٹ فکسنگ کے لیے رابطوں پر شرجیل خان اور خالد لطیف چپ رہے، محمد عرفان نے پوچھنے پر بھی کچھ نہیں بتایا، تاہم تاخیر سے ہی سہی شاہ زیب حسن نے پی سی بی کو رابطوں کا خود بتادیا

SHARE

LEAVE A REPLY