چین کے دارالحکومت بیجنگ سے آسٹریلیا کے شہر میلبورن جانے والی پرواز کے دوارن بیٹری سے چلنے والے ہیڈفونز پھٹنے سے ایک خاتون معمولی طور پر جھلس گئیں۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق آسٹریلین ایئر سیفٹی انویسٹی گیٹرز نے بدھ کے روز اپنے بیان میں کہا کہ بیجنگ سے میلبورن جانے والی ایک پرواز کے دوران ہیڈ فونز کے پھٹنے کا واقعہ 19 فروری کو پیش آیا تھا تاہم اب دیگر مسافروں کو خبردار کرنے کے لیے اس واقعے کو منظر عام پر لایا جارہا ہے۔

آسٹریلین ٹرانسپورٹ سیفٹی بیورو کی جانب سے جاری بیان میں متاثرہ خاتون کا نام ظاہر نہیں کیا گیا تاہم یہ بتایا گیا کہ وہ خاتون دوران سفر کانوں میں ہیڈ فونز لگاکر سو گئی تھیں۔

بیان میں کہا کیا گیا اڑان بھرنے کے تقریباً دو گھنٹے بعد خاتون کی آنکھ دھماکے کی آواز کے نتیجے میں کھلی اور انہیں اپنے چہرے پر جلن محسوس ہوئی۔
خاتون نے جب دیکھا تو انہیں معلوم ہوا کے ان کے ہیڈ فونز میں آگ بھڑک اٹھی ہے۔

خاتون نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ ‘جب مجھے چہرے پر جلن محسوس ہوئی تو میں نے ہیڈ فونز کو کانوں سے ہٹاکر گلے میں ڈال لیا تاہم جلن برقرار رہنے پر میں نے انہیں گلے سے اتار کر زمین پر پھینک دیا’۔

انہوں نے بتایا کہ ہیڈ فونز میں اسپارکنگ ہورہی تھی اور تھوڑی آگ بھی لگی ہوئی تھی۔

اس کے بعد فلائٹ اٹینڈنٹس نے جلدی سے ہیڈ فونز پر پانی ڈال کر آگ کو بجھایا تاہم ہیڈفونز کی بیٹری اور اس کا کور پگھل چکے تھے اور طیارے کے فلور پر چسپاں ہوچکے تھے۔

خاتون نے بتایا کہ دھواں بھرنے کی وجہ سے مسافر فلائٹ کے دوران کھانستے رہے۔

ٹرانسپورٹ سیفٹی ایجنسی کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں ہیڈفونز کی بیٹری کی وجہ سے آگ لگی۔

حکام نے یہ نہیں بتایا کہ خاتون کس ایئرلائن کی پرواز میں سوار تھیں اور انہوں نے کس کمپنی کے ہیڈفونز پہنے ہوئے تھے۔
دوسری جانب امریکی ٹی وی سی این این نے متاثرہ خاتون کی تصاویر بھی جاری کی ہیں جس میں ان کے چہرے پر کالک اور جلنے کے نشانات دیکھے جاسکتے ہیں۔

آسٹریلوی سول ایوی ایشن سیفٹی اتھارٹی کے کمیونیکیشن منیجر پیٹر گبسن نے سی این این کو بتایا کہ واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہے اور ممکنہ طور پر ہیڈ فونز کے اندر موجود بیٹریاں آگ لگنے کا سبب بنیں۔

گبسن نے کہا کہ لیتھیم سے بنی بیٹریاں اکثر دوران پرواز آگ پکڑ لیتی ہیں اور انہوں نے مسافروں کو ہدایت کی کہ وہ اس طرح کی بیٹریوں کو اس بیگ میں جو وہ اپنی نشست کے اوپر یا قریب رکھتے ہیں تاکہ اگر اس طرح کا کوئی واقعہ ہو تو وہ فوری طور پر جہاز کے عملے کی نظر میں آجائے۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہ واقعہ طیارے کے کارگو ایریا میں پیش آیا ہوتا تو فائر الارم بجنے تک بہت دیر ہوچکی ہوتی۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس سام سنگ گیلکسی نوٹ 7 کی بیٹریاں پھٹنے کے متعدد واقعات پیش آئے تھے جس کے نتیجے میں امریکا نے مسافروں کو گیلکسی نوٹ 7 کے ساتھ سفر کرنے سے روک دیا تھا۔

اس کے علاوہ حال ہی میں آئی فون کے بھی جلنے کی اطلاعات سامنے آچکی ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY