وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے سوشل میڈیا پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی، اشتعال انگیز اور گستاخانہ مواد پھیلانے والے پیجز کی شناخت اور مواد پھیلانے والے افراد سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے انٹرپول سے رابطہ کرلیا۔

ایف آئی اے عہدیداروں نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں بتایا کہ ادارے نے گستاخانہ مواد پھیلانے والے پیجز کو بند کرنے کے عدالتی فیصلے کی روشنی میں سائٹ فیس بک کو باضابطہ طور پر درخواست بھی بھیج دی ہے۔

وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سےفوری طور پر گستاخانہ مواد پھیلانے والے سوشل میڈیا پیجز کو بند کرنے اور ذمہ داروں کو کڑی سزا دینے کی ہدایات کے بعد وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کی سربراہی میں سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کے پھیلاؤ سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا۔

وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد پھیلانے والے 11 افراد کی شناخت کرلی گئی ہے، اور ان سے پوچھ گچھ جاری ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ اس معاملے میں کچھ مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کے لیے ایف آئی نے انٹرپول سے بھی مدد طلب کرلی ہے، کیوں کہ ان میں سے کچھ افراد کے ملک میں نہ ہونے کے اشارے ملے ہیں۔

اجلاس میں وزیر داخلہ نے ایف آئی اے کو ہدایات کیں کہ سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد پھیلانے والے عناصر کی شناخت کے لیے خفیہ ایجنسیز سے بھی مدد لی جائے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ واشنگٹن کے سفارت خانے میں تعینات ایک سینیئر سفیر کو فیس بک انتظامیہ سے رابطہ کرنے اور امریکی رائٹ ٹو انفارمیشن قوانین کے تحت گستاخانہ مواد پھیلانے والوں کی معلومات حاصل کرنے کی ذمہ داری بھی دی گئی۔

بیان میں بتایا گیا کہ حکومت اس معاملے پر قانون دان فرخ کریم کی خدمات بھی حاصل کرے گی جو معاملے کو عالمی عدالتی فورمز پر اٹھائیں گے، جس کے ذریعے فیس بک پر مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے والے مواد کو ہٹانے کے لیے دباؤ ڈالا جائے گا۔

بیان کے مطابق وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت تمام دستیاب وسائل کو استعمال کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر موجود گستاخانہ مواد کو ہٹانے کو یقینی بنائے گی۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امید ہے کہ فیس بک انتظامیہ 20 کروڑ پاکستانی مسلمانوں اور ایک کروڑ فیس بک صارفین کے مذہبی جذبات کا خیال کرتے ہوئے گستاخانہ مواد کو ہٹانے میں حکومت سے تعاون کرے گی۔

ایف آئی اے عہدیدار نے اجلاس کو بتایا کہ ادارے نے عدالتی احکامات کی روشنی میں فیس بک انتظامیہ سے رابطہ کیا، مگر تاحال فیس بک انتظامیہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔

اجلاس میں وزارت داخلہ، نیشنل کاؤنٹر ٹیرارزم اتھارٹی (نیکٹا)نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) اور پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے عہدیداروں نے شرکت کی۔

ڈان۔اکرام جنیدی

SHARE

LEAVE A REPLY