وشل میڈیا پرگستاخانہ مواد کی موجودگی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عدالت، ایف آئی اے پر برہم ہو گئی۔ ریمارکس دیے کہ منع کرنے کے باوجود غیرمسلم افراد کوتحقیقاتی ٹیم میں کیسے شامل کیا؟ ڈائریکٹر ایف آئی اے وضاحتیں دیتے رہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں سوشل سوشل میڈیا پرگستاخانہ مواد کیس کی سماعت ہوئی۔ ایف آئی اے اور پولیس نے اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کر دی۔ رپورٹ کے مطابق توہین آمیزمواد نشرکرنے والا ملزم لاہور سے سویڈن فرار ہوگیا۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ فیس بک انتظامیہ سے رابطہ ہوگیا ہے ،وہ معاملے پر فوکل پرسن نامزد کررہے ہیں اور اس حوالے سےواشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے سے بھی بات ہوگئی ہے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیے کہ کہانیاں نہ سنائیں، کیس میں پیشرفت بتائیں۔ عدالت نے کہا کہ غیرمسلم افراد کو تحقیقاتی ٹیم میں کیوں شامل کیا؟۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سوالات اٹھائے کہ سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کیوں موجود ہے۔ ملزمان کا سراغ کیوں نہیں لگایا جا سکا؟۔ عدالت نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ چاہتے ہیں آپ پر اعتبار چھوڑکر عسکری اداروں کی خدمات حاصل کرلیں۔ ایف آئی اے تحقیقات میں ناکام ہو گئی ہے۔ کیا اب عسکری اداروں کی خدمات حاصل کریں؟۔

بے حیائی پرمبنی ٹی وی پروگرامز کے حوالے سے چئیرمین پیمرا کی سرزنش بھی کی گئی۔ جسٹس شوکت صدیقی نے استفسار کیا کہ ٹی وی پر بوائے فرینڈ گرل فرینڈ چل رہا ہے،آپ نے کیا کیا؟۔عدالت نے چئیرمین پیمرا کو ٹی وی چینلزپرفحاشی روکنے کیلئےکمیٹی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت 22 مارچ تک ملتوی کر دی

SHARE

LEAVE A REPLY