حضرت صدیق ِ اکبر(2) ۔۔۔شمس جیلانی

0
98

ہم نے گزشتہ قسط میں حضرت ابوبکر (رض) کو بہت ہی تشویشناک حالت میں چھوڑا تھا۔اب آگے بڑھتے ہیں۔ اس اعلان کے بعد جب وہ واپس ان کے گھرپہونچے توان میں زندگی کی رمق پائی لہذا ان کی مرہم پٹی کرکے اور یہ کہہ کر لوگ چلے گئے کہ جب یہ ہوش میں آئیں تو ان کو کوئی رقیق غذا دیدینا ، مگر وہ ہوش میں آنے کے بعد اس پر بہ ضد ہوگئے کہ جب تک میں خود حضور (ص)کو نہ دیکھ لوں نہ کچھ کھاؤں گا نہ پیونگا۔ ان کی ضد آگے ایک نہ چلی اور لو گ حضرت ابو بکر (رض) کو اسی حالت میں خدمت ِ اقدس میں لے کر پہو نچے تو حضور (ص) او ر صحابہ کرام ان کی حالت ِ زاردیکھ کر روپڑے۔اب آگے بڑھتے ہیں اس مر حلہ پر انہوں نے اپنی والدہ کے بارے میں جوکہ ان کے ہمراہ تھیں در خواست کی کہ حضور (ص)انہیں مسلمان کرلیجئے اور حضور (ص) نے قبول فر ماکر ان کو بیعت کرلیا ۔ جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ وہ مکہ کے بہت ہی مالدار اشخاص میں سے تھے۔لہذا اب انہوں نے اپنا مال اسلام پر بےد ریغ خرچ کر نا شروع کر دیا۔ اس میں غلاموں اور کنیزوں کو آزاد کرانا بھی شامل تھا ۔انہوں نے سات کنیز یں اور غلام خرید کر آزاد کیئے ان کے نام مورخین نے جو لکھے ہیں وہ یہ ہیں حضرت عامر بن فہیرہ ،ام ِ عبیس،زنیرہ ،الہندیہ اور ان کی بیٹی اور بنی مومل کی ایک لونڈی (رض) ۔ لیکن علامہ سیو طی نے ان کی تعداد آٹھ لکھی ہے اور انہوں نے ایک نام کا اور اضافہ کیا ہے جو کہ صفوان بن امیہ کے غلام تھے اور اس نے انکو رسیوں سے محض نیا دین اختیار کر نے کی وجہ سے جکڑ رکھا تھا اور ظلم کی انتہا کر دی تھی انکا نام ابو فقہیہ (رض) تھا۔ ان میں سب سے مشہو ر حضرت بلال (رض)تھے جو بنو امیہ کے غلام تھے اور بنو امیہ کے بچو ں کے لیئے روز کاتما شہ بنے ہو ئے تھے کہ روزانہ ان کو بلا نا غہ تپتی ہو ئی ریت پر لٹا یا جا تا اور او پر سے گرم پتھرکی سل رکھدی جا تی پھر مکہ گلیوں میں جلو س کی شکل میں گھسیٹا جاتا ۔ جرم کیا تھا ؟کہ وہ قریش کے لا تعداد خدا ؤں کی نفی کر تے تھے اور ان کی مار کھا تے لیکن ورد ِ زباں صرف اور صرف ایک ہی نعرہ ہوتا وہ تھا احد ۔۔ احد اور احد۔ ۔!ایک دن ادھر سے حضرت ابو بکر (رض) کا گزر ہوا ان کو اس حال میں دیکھا، برداشت نہ کر سکے ، ان کے مالک سے قیمت پو چھی؟ جو اس نے بتا ئی ،منہ بو لے دام ادا کر کے ان کو چھڑا کر راہ ِ خدا میں آزاد کر دیا ۔ ایک اور روایت میں خرید نے کاذکر تو ہے مگر بجا ئے نقد کے ایک اور غلام کے بد لے میں۔ اس کی تفصیل مورخ نے بیان کر تے ہو ئے لکھا ہے کہ حضرت ابو بکر (رض) اپنے گھر تشریف لے جا رہے تھے اورانہیں اپنے گھر جانے کے لیئے بنی جمحہ کے قبیلہ میں سے گزرنا ہوتا تھاجب انہوں نے امیہ بن خلف کو حضرت بلال (رض) پر مظالم ڈھاتے دیکھا تو اس سے فر مایا کہ کیا تو اس بے چارے کے بارے میں اللہ سے نہیں ڈرتا،آخر یہ ظلم کب تک توجا ری رکھے گا؟ اس نے کہا کہ تمہیں نے اسے بگا ڑا ہے، جس کی وجہ سے اس مصیبت میں اسے دیکھ رہو۔ اگر تمہیں ہمدردی ہے تو اس کو خرید لو۔انہوں نے فر مایا اچھا میرے پاس ایک حبشی غلام ہے جو کہ اس سے بھی مضبوط ہے وہ میں تجھے دیتا ہوں جو تیرے دین پراسی کی طر ح قائم ہے ۔اس نے کہا کہ میں نے قبول کیا۔آپ نے فر مایا بس وہ تیرا ہوا اور گھر سے غلام لا کر اس کے سپرد کر دیااور حضرت بلال (رض) کو آزاد کر دیا۔ ان کے والد ابو قحافہ کو اس پر اعتراض ہوا کیو نکہ وہ ابھی تک حا لتِ کفر میں تھے۔ان کی سمجھ میں یہ تجا رت نہیں آئی کہ لو گ تو مضبو ط جسم والے غلام اور کنیزیں خرید تے ہیں مگر ان کا بیٹا کمزوروں کو خرید کر آزاد کر رہا۔ اس زمانہ میں در اصل غلام بھی ما ل ِ تجا رت تھے جس طرح جا نور چا ق وچو بند اور تندرست دیکھ کر خریدا جا تا ہے یہ ہی معیار غلاموں کی خرید اور فروخت کا تھا ۔کہ ان کو لو گ چا ق اور چو بند دیکھ کر خرید تے تھے تا کہ کل کو منا فع پر فروخت ہو سکیں۔لہذا ان کے لیئے یہ حیرت کی بات تھی کہ ان کا بیٹاعجیب تجا رت کر رہا ہ؟انہوں نے حضرت ابو بکر (رض) کو سمجھا یا کہ بیٹا یہ تو کیاکر رہا ہے ؟اس طر ح تو قلا ش ہو جا ئے گا۔ مگر زیادہ تر مورخین نے ان کا جواب نہیں لکھا ۔جو یہ ہی ہو سکتا تھا کہ ابا ّ یہ وہ تجا رت ہے جو آپ کی سمجھ میں نہیں آئے گی اس لیئے کہ وہ نہ عاقبت پر یقین رکھتے تھے نہ اللہ کے ساتھ تجا رت پر ۔یہاں اس سے یہ با ت ظاہر ہو تی ہے کہ غالبا ً جواب دینے میں ان کی سعاد ت مندی حا ئل رہی مگر ابن ِ سحاق (رح) نے چند حوالوں سے ان کا جواب بھی تحریر کیا ہے جوکہ یہ تھا کہ “ ابا جان ! میں جوکچھ کر نا چاہتا ہوں وہ اللہ عزوجل کے لیئے کر نا چاہتا ہوں “ ۔واللہ عالم ۔ حضرت بلال کے علاوہ انہوں نے جو اور غلام خرید کر آزاد کیئے ان میں ایک اور مشہور صحابی حضرت فہیرہ (رض) تھے جو کہ حضور (ص) اور حضرت ابوبکر (رض)کے مدینہ منورہ ہجرت کے وقت جاتے ہوئے ہمراہ تھے۔اور اس کے بعد انہوں نے غزوہ بدر میں اور احد میں بھی حصہ لیااور بیئر معونہ میں شہادت پائی۔ ایک لو نڈی زنیرہ نامی تھیں ان کو جب آزاد کرایا تو وہ ظلم کی وجہ سے اپنی بینا ئی کھو بیٹھیں تھیں۔اس پر کفار نے الٹا کہنا شروع کر دیا کہ لا ت و عزیٰ نے اسے اندھا کر دیا ہے۔انہوں نے جب سنا تو فر مایا کہ کفار جھو ٹے ہیں لات و عزیٰ نہ کسی کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان ۔وہ اس خدائی امتحان میں پو ری اتریں اور اللہ نے ان کی بینا ئی اپنی کریمی سے واپس کر دی۔ دو لو نڈیاں بنی الدارکی ایک عورت کی ملکیت تھیں جن کے نام النہدیہ اور ان کی بیٹی (رض) لکھے ہیں۔ ان دو نوں سے وہ ہر وقت چکی پسو اتی رہتی تھی اور ان کو جتا کر کہہ رہی تھی کہ میں تمہیں اس عذاب سے کبھی آزاد نہیں کر ونگی ۔کہ حضرت ابو بکر (رض) کا ادھر سے گزر ہوا انہوں نے اس سے کہا کہ اپنا عہد تو ڑدے اس کا کفا رہ دیدے ۔میں ان کو خرید لیتا ہوں۔اس نے بھی انہیں وہی جواب دیا کہ تمہیں نے انہیں خراب کیا ہے لہذا تمہیں ان کو چھڑاؤ۔انہوں نے جواب میں فر مایا کہ میں نے انہیں خرید لیا اور آزاد کیا۔اس پر ان دونوں نے حضرت ابو بکر (رض) سے پو چھا کہ ہم اس کا کام ختم کر نے کہ بعد آزاد ہیں یا ابھی ! انہوں نے جواب دیا اب تم آزاد ہو جیسا تم پسند کرو۔ ایک دن انہوں نے عمر بن خطاب کو دیکھا کہ وہ اپنی لو نڈی کو بری طر ح مار رہے ہیں تاکہ وہ اسلام چھو ڑدے (اسوقت تک وہ مسلمان نہیں ہو ئے تھے)وہ جب اسے پیٹتے پیٹتے تھک گئے تو یہ کہتے ہو ئے رک گئے کہ میں اس لیئے رک گیا ہو ں کہ میں مارتے مارتے تھک گیا ہو ں۔اس پر اس لو نڈی نے کہا خدا تم سے بھی ایسا ہی سلو ک کر ے۔ حضرت ابو بکر (رض) نے اس کو خرید کر آزاد کر دیا۔ام ِ عبیس کی تفصیل نہیں ملتی کہ وہ کس کی لو نڈی تھیں ۔

حضرت ابوبکر (رض)کی حبشہ کی طرف ہجرت۔جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ حضرت ابو بکر (رض) کاقبیلہ زیادہ بڑا نہ تھا ۔جو تمام قبا ئل کے مقابل ہو سکتا ۔لہذاجب مشرکین نے ان کی زند گی مشکل کر دی تو انہوں نے بھی حضور (رض) سے ہجرت کی اجا زت چا ہی جو حضور (ص) نے عنایت فر مادی ۔ابھی وہ ایک منزل ہی چلے تھے کہ پہلے پڑاؤ پر قبیلہِ بکر کا سر دار حارث بن بکر جس کی کنیت ابن ِ دغنہ تھی مل گیا۔اس نے پو چھا کہاں کا قصد ہے ؟حضرت ابو بکر (رض) نے انہیں کفارِ قریش کے ظلم اور ستم کی روداد سنا ئی اور فر ما یا کہ وہ بھی حبشہ جا رہے ہیں۔اس پر ابن ِ دغنہ بو لا کہ آپ پچھلی باتوں کو بھول کر میرے ہمرا ہ چلیں اور میرے پڑوس میں قیام فر ما ئیں پھر میں دیکھتا ہو ں کہ قریش کیسے آپ کو تنگ کر تے ہیں ۔لہذا وہ حضرت ابو بکر (رض) کو ہمرا ہ لے کر مکہ معظمہ پہو نچا اور اپنے پڑوس کے ایک خالی مکان میں ان کو ٹھہرا دیا ۔حضرت ابو بکر (رض) نے اس مکان کے آگے اک چبو ترہ نماز کے لیئے بنا لیا ۔جب وہ نمازادا کر رہے ہو تے تو راہ گیر رک جا تے اور قر آن کی تلا وت اور ان کی اس پر رقت دیکھ کر غور سے سننے لگتے پھران کی یہ حالت اور قر آن کی حقا نیت سے متا ثر ہو تے تھے ۔یہ دیکھ کر قریش کے کچھ بڑے ایک وفد لے کرابن ِ دغنہ کے پاس آئے اور کہا کہ اگر اسی طر ح ابو بکر (رض) نما ز پڑھتے رہے تو ہما رے مرد اور خواتین ہی نہیں بلکہ بچے بھی اپنی روا یا ت سے بغا وت کر دیں گے اور اپنا آبا ئی دین چھوڑ دیں گے۔یہ کہہ کر انہوں نے اِبن دغنہ سے مطا لبہ کیا کہ وہ حضرت ابو بکر (رض) کو اس فعل سے منع کریں ور نہ جو تم نے ان سے وعدہ کیا ہے ہم اس کے پابند نہ ہو نگے۔ابن ِ دغنہ نے یہ سوچ کرکے یہ انہیں پھر تنگ کر نے لگیں گے۔ حضرت ابو بکر (رض) سے کہا کہ بہتر یہ ہے کہ آپ گھر کے اندر نما ز پڑھ لیا کر یں۔لہذا انہوں نے ابن ِ دغنہ کی شرافت اور محبت کا خیال کر کے اس کا مشورہ مان لیا۔ اس لیئے کہ وہ اپنے محسن کو مزید زیر با ر نہیں کرنا چا ہتے اور اس طر ح ایک فساد ٹل گیا ورنہ اس پر دو نوں قبیلوں میں خو نریزی ہو سکتی تھے۔ (باقی آئندہ)

SHARE

LEAVE A REPLY