کبھی وہ خود بھی شوشہ چھوڑ دیتے ہیں؟۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی

0
90

یہ بیسویں صدی کا اوائل تھا کہ ہمیں ایک صاحب زیور تعلیم سے آراستہ کرانے کے لیے تشریف لا یا کرتے تھے اور وہ انگریزی کی تعلم دیتے تھے ۔ ویسے تو وہ اچھے بھلے آدمی دکھا ئی دیتے تھے۔ مگر جہاں ہم تھے وہ ہمالیہ پہاڑ کی ترائی کا علاقہ تھا، جہاں قدم قدم پر ندی نالے تھے جبکہ پل ان پر بنے ہوئے نہیں تھے ! برسات کی شدت کی وجہ سے جب ندی نالے چڑھ جاتے تو وہ ڈریس موسم کے مطابق تبدیل کرلیتے کیونکہ اس کا توڑ اسی سے ہوسکتا تھا؟ پینٹ اور قمیض کی جگہ لنگی ہوتی تاکہ پانی کی گہرائی جیسے جیسے بڑھتی جائے اسی کے مطابق اسے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر اونچا یا نیچا کرسکیں ،ان کے ہاتھ میں ایک لمبا سا بانس بھی ہو تا اس بانس کو ساتھ رکھنے کی وجہ وہ یہ ہی بتا تے تھے کہ بانس کو میں آگے بڑھا کر پہلے پانی کی گہرائی معلوم کرلیتا ہوں پھر قدم آگے بڑھاتا ہوں؟ وہ پرانا دور تھا پانی کی گہرائی اور ہوا کا رخ پہچاننے کے لیے طریقے بھی پرنے استعمال ہوتے تھے جیسے بانس گہرائی اور ہوا کارخ معلوم کرنے کے لیے مرغ بادِ نما۔ اب میڈیا کازمانہ ہے اس کے بجا ئے جدید طریقہ رائج ہیں؟ اب اس کے بجا ئے ہوامیں ہوا ئی اڑائی جا تی ہے کہ دیکھیں کہ اس کے ردِعمل میں کیا ہو تا ہے؟
پرسوں ایک انتہائی دلچسپ خبر انتہائی معتبر ٹی وی شو کے اینکر کے زبانی ہوا میں اڑائی گئی یا کہ ا ڑوائی گئی کے 39مسلمان ملکوں کی فوج کی سربراہی کے لیے جناب راحیل شریف کانام فائنل ہو گیا ہے۔ جبکہ فوراً ہی اس کی تردید بھی وزیر دفاع سے کرادی گئی کہ ابھی اس قسم کی کوئی بھی تجویز اپنے آخری مرا حل تک نہیں پہونچی ہے۔ آخر یہ عوام کے ساتھ مذاق ہے کیا ؟ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ کچھ ٹی وی کے میزبانوں سے ہوا پیما ئی کا کام لیا جارہا ہو ۔ورنہ یہ کیسے ممکن ہے اور کو ن پسند کریگا کہ اس طرح کی دیئی ہوئی خبر سے اپنے سامعین کو گمراہ کرکے اپنا اعتبار کھوئے اور اس کے بدلے میں وہ صرف یہ نیکنامی حاصل کر سکے کہ ہم نے یہ خبر سب سے پہلےعوام کو دی تھی اور اس قسم کے قصور کی آڑلیکر حکومت میڈیا کی آزادی کو صلب کرنا شروع کردے؟ تو کوئی اس کے ہاتھ کوئی روک بھی نہ سکے؟۔ جبکہ خبر میں یہ تک کہا گیا کہ ان کو حکومت کی طرف سے یقین دہانی بھی کرادی گئی ہے۔ کہ ان کو وہاں کام کر نے کے لیئے وہ تمام قانونی تقاضے پورے کردیئے جائں گے جو کہ اس راہ میں پاکستانی قوانیں سے متصادم ہیں ۔
اس سے جو ملک کا امیج تیار ہوتا رہا ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان ایک جمہوری ملک نہیں ہے اور وہاں عوامی رائے کو اہمیت بھی حاصل نہیں ہے۔ جسکو کوئی بادشاہ جب چاہے تبدیل کراسکتا ہے۔ جبکہ حکمراں یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتے کہ ہم کوئی “ بنانا ریپبلک “ نہیں ہیں تو پھر یہ مذاق کیا ؟۔ اگر حکومت یہ ہی کچھ کرنا چاہتی ہے اور وہ ایسی ہے جیسے کہ دنیا کے عوام کے سامنے خود کوروشناس کرارہی تو اور بات ہے؟ ورنہ اس کے بجا ئے وہ طریقہ کار اختیار کرے جوجمہوری ملکوں میں اس سلسلہ میں کیا جاتا ہے؟ وہ یہ ہے کہ جو کام دستور یا ملکی قوانین سے متصادم ہے اس کے لیے ہاں یا نہ میں “ریفرنڈم “ کرایا جائے۔ پھر اگر اکثریت مل جا ئے تو بسم اللہ ورنہ نہیں۔ اس میں مسائل صاف اور شفاف طریقہ سے سامنے رکھے جا ئیں؟ ۔ ریفرنڈم بھی ایسا نہ ہو کہ جیسے کہ جناب ضیاءالحق مرحوم نے کرایا تھا کہ “اگر اسلام چاہیئے ہے تو مجھے ووٹ دو“ اور ووٹ ڈالنے کا بھی خودہی ا نتظام کرلیا جائے کہ جب ووٹر ، ووٹ ڈالنے جائے تو اسے پتہ چلے کہ اسکا ووٹ پڑچکا ہے۔ یہ سنی سنائی بات نہیں ہے بلکہ راقم الحروف کا ذاتی مشاہدہ ہے کہ جب ہم ووٹ ڈالنے گئے تو وہاں عملے کے سوانہ کوئی بندہ تھا نہ بندے کی ذات ، لوگ ہمیں دیکھ کر کہنے لگے کہ آپ نے بیکار تکلیف کی ہم آپ کا ووٹ بھی خود ہی ڈالدیتے؟
اسی طرح اس مرتبہ پِرائی جنگ لڑنے پر ریفرنڈم ہو تو اس میں چیزوں کو گڈ مد نہ کیا جا ئے؟ کیونکہ “ حرم شریف کے دفاع کے لیے توہر مسلمان جان دینے کہ لیے تیار ہے“ لیکن سعودی با دشاہت کا دفاع ایک علیحدہ مسئلہ ہے۔ لہذا اس سے اسی طرح نبٹا جا ئے۔ یا پھر ایسی فوج واقعی بنا نا ہے جو تمام عالم اسلام کا دفاع کرسکے ؟تو جو قوم سیکڑوں تکڑوں میں بٹی ہوئی ہے اور کسی ایک بات پر بھی متفق نہیں وہ ساتھ کیسے چلے گی؟ اوریہ بیل کیسے منڈھے چڑھے گی اور کیا ضمانت ہے کہ اس کا حشر بھی “ تنظیم ِمعتمر عالمِ اسلامی اور اسلامک سمٹ جیسا نہیں ہوگا “ جیسا کے متعدد تنظیموں کا پہلے ہی کئی دفعہ ہو چکا ہے وہی اس فوج کا بھی ہوگا۔ ورنہ سوائے اس کے کہ دنیامیں اس سے مسلم مذہب کا نام اونچا ہو مزید جگ ہنسائی ہوگی؟ اور اسلام کے خلاف نفرتوں کے بڑھنے کا باعث ہوگی؟ اگر واقعی کچھ کرنا چاہتے ہیں تو پہلے آپس کے اختلافات ختم کریں ، پھر آگے بڑھیں؟ اگر انسان مخلص ہو تو جس قوم کے پاس ایسے وزیر با تدبیر موجود ہیں کہ جو فوجی عدالتوں پر دومہینوں کی مسلسل کوششوں سے بقول ایک دانشور اور وکیل کے کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد ایک کرانے میں کامیاب ہو گئے تو پھر ان کے لیے یہ کیا مشکل ہے؟ کہ ایران اور سعودی عرب کو ایک میز پر لاکرنہ بٹھالیں؟

SHARE

LEAVE A REPLY